عورتوں کے بارے میں وہ پانچ باتیں جو مردوں کو اکثر یا د رہتی ہیں۔ -------------------------------------------------------------------------- إِنَّ كَيْدَ كُنَّ عَظِيمٌ (سورۃ یوسف، آیت:28) ترجمہ: عورتوں کی چال بہت خطرناک ہوتی ہے۔ مَثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰع (سورة النساء، آیت:3) ترجمہ: دو دو، تین تین، چار چار عورتوں سے نکاح کرو الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ (سورة النساء، آیت:34) ترجمہ: مرد، عورتوں کے نگران ہیں۔ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ (سورۃ النساء، آیت:11) ترجمہ: (وراثت میں ) مرد کے لیے دو عورتوں کے برابر حصہ ہے۔ نَاقِصَاتُ عَقْلٍ وَدِينِ(صحیح ابن حبان، رقم الحدیث 3323، اسنادہ صحیح) ترجمہ: عورتیں عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص ہوتی ہے۔ -------------------------------------------------------------------------- عورتوں کے بارے میں وہ پانچ باتیں جو مردوں کو اکثر یاد نہیں رہتیں۔ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (سورة النساء، آیت:19) ترجمہ: عورتوں کے ساتھ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارو لِيُنفِقُ ذُو سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهِ (سورۃ الطلاق، آیت:7) ترجمہ: کشادگی والا اپنی کشادگی میں سے خرچ کرے اسْتَوصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا(سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث:1851 ، صیح لغیرہ ) ترجمہ: عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے بارے میں تم وصیت قبول کرو۔ رِفْقًا بِالْقَوَارِيرِ (مسند الحمیدی، رقم الحدیث: 1209، اسنادہ حسن) ترجمہ: (عورتیں شیشہ کی طرح ہیں) ان شیشوں کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ۔ خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لَأَهْلِهِ (ابن ماجہ 1977 صحیح لغيره ) ترجمہ: بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل وعیال کے لیے بہترین ہو۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

​​​​ابو حازم ؒ کی حق گوئی کی تاثیر

​​​​ابو حازم ؒ کی حق گوئی کی تاثیر

سلیمان بن عبدالملک نے جو بنو امیہ کا بادشاہ تھا ـ ایک مرتبہ شیخ الحدیث ابو حازم ؒ سے دریافت کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے؟... کہ ہم لوگ دنیا کو پسند اور آخرت کو ناپسند کرتے ہیں ـ آپ نے برجستہ جواب دیا... کہ تم لوگوں نے دنیا کو آباد کیا... اور آخرت کو برباد کیا... اس لئے تم لوگ آبادی سے ویرانے کی طرف جانے سے گھبراتے ہو ـ پھر سلیمان نے پوچھا... کہ کاش ہم کو معلوم ہوجاتا کہ آخرت میں ہمارا کیا حال ہوگا؟ آپ نے فرمایا کہ قرآن پڑھ لو... تمہیں معلوم ہوجائے گا ـ سلیمان نے کہا کہ کون سی آیات پڑھوں؟ آپ نے فرمایا کہ ( اِنَّ الْاَبْـرَارَ لَفِىْ نَعِـيْمٍ ،وَاِنَّ الْفُجَّارَ لَفِىْ جَحِـيْمٍ) یعنی نکوکار یقیناﹰ جنت میں اور بدکار یقینًا جہنم میں ہوں گے ـ پھر سلیمان نے یہ دریافت کیا... کہ دربار الٰہی میں بندوں کی حاضری کا کیا منظر ہوگا؟ آپ نے جواب دیا... کہ نیکوکار کا تو یہ حال ہوگا... کہ جیسے برسوں کا بچھڑا ہوا مسافر خوشی خوشی اپنے اہل و عیال میں آتا ہے... اور بدکاروں کا یہ حال ہوگا... کہ جیسے بھاگا ہوا غلام گرفتار کرکے آقا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے... شیخ ابو حازمؒ کی یہ حق گوئی تاثیر کا تیر بن کر سلیمان کے قلب میں پیوست ہوگئی... اور وہ چیخ مار کر رونے لگا ـ (حوالہ :- روح البیان ج ۵ ص ۲۵۳) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب : اللہ والوں کی دنیا سے بے رغبتی کے ۲۰۰ واقعات (صفحہ نمبر ۴۴۴ ) مصنف : مولانا ارسلان بن اختر انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ