*"تمہارا مقام وہی ہے جہاں اللہ نے تمہیں مصروف رکھا ہے* *کسی بزرگ نے کیا ہی فرمایا* : اگر تم یہ جاننا چاہتے ہو کہ *اللہ* کے نزدیک تمہارا مقام کیا ہے، تو دیکھو وہ تمہیں کس کام میں مشغول رکھتا ہے: *اگر وہ تمہیں اپنے ذکر میں مشغول رکھے*، تو جان لو کہ وہ تمہیں یاد رکھنا چاہتا ہے۔ *اگر تمہیں قرآن میں مصروف کرے*، تو سمجھ لو کہ وہ تم سے ہمکلام ہونا چاہتا ہے۔ *اگر تمہیں نیک اعمال میں مصروف کرے*، تو جان لو کہ وہ تمہیں اپنے قریب کرنا چاہتا ہے۔ *اگر دنیاوی معاملات میں الجھائے*، تو یہ سمجھو کہ تمہیں دور کر رہا ہے۔ *اگر تمہیں لوگوں کے معاملات میں مصروف رکھے*، تو یہ جان لو کہ وہ تمہیں بے وقعت کرنا چاہتا ہے۔ *اگر دعا میں مشغول کرے*، تو یقین کرو کہ وہ تمہیں نوازنا چاہتا ہے۔ *اگر فائدہ مند علم میں مصروف کرے*، تو وہ چاہتا ہے کہ تم اس کی معرفت حاصل کرو۔ *اگر تمہیں جہاد فی سبیل اللہ میں لگائے*، تو وہ تمہیں اپنے لیے چننا چاہتا ہے۔ *اگر خدمت خلق اور بھلائی کے کاموں میں مشغول کرے* ، تو جان لو کہ وہ تمہیں اپنی محبت والے کاموں میں لگا رہا ہے۔ *اور اگر تمہیں غیر ضروری کاموں میں مصروف کرے* ، تو سمجھو کہ تمہیں اپنی محبت سے نکال رہا ہے۔ *اگر تمہیں دین میں تحریف یا ایسے کاموں میں مشغول رکھے* جو اسکی نافرمانی کے ہوں تو جان لو کہ وہ تمہیں اپنی محبت سے محروم کر رہا ہے *اور اگر تمہیں اپنے بندوں کو تکلیف اور اذیت پہنچانے میں مصروف رہنے دے*، تو جان لو کہ تمہیں خیر سے محروم کیا جا رہا ہے *لہذا، اپنے حال پر غور کرو کہ تم کس کام میں مشغول ہو، کیونکہ تمہارا مقام وہی ہے جہاں اللہ نے تمہیں مصروف رکھا ہے۔*۔ *اللّٰه اللّٰه اللّه* https://whatsapp.com/channel/0029VaeP3sk1SWt9tGQDI90Q

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

یہ کالا نشان کیوں ہے؟

یہ کالا نشان کیوں ہے؟

امام زین العابدین رحمہ اللہ الله کو اللہ تعالیٰ نے بہت خوبصورت جسم عطا کیا تھا۔ جب ان کی وفات ہوئی اور غسال ان کو نہلانے لگا تو اس نے دیکھا کہ ان کے کندھے کے اوپر ایک کالا نشان ہے۔ اس کو سمجھ نہ آسکی کہ یہ کالا نشان کیوں ہے؟ اہل خانہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے بھی کہا کہ ہمیں پتہ نہیں ہے۔ جب کچھ دن گزر گئے تو وہاں کے ضعفا اور معذوروں کے گھروں سے آواز آئی ، وہ کہاں گیا جو ہمیں پانی پلایا کرتا تھا ؟ پھر پتہ چلا کہ رات کے اندھیرے میں امام زین العابدین رحمہ اللہ پانی کی بھری ہوئی مشک اپنے کندھے کے اوپر لے کر ان کے گھروں میں پانی مہیا کیا کرتے تھے اور اس راز کو انہوں نے اس طرح چھپائے رکھا کہ زندگی بھر کسی کو پتہ بھی نہ چلنے دیا۔(البدایہ والنہایہ : ۱۳۳۹، حلیۃ الاولیاء : ۱۳۶۳) یہ ہے ایمانی زندگی کہ انسان دوسرے کی خدمت بھی کر رہا ہے ، ہمدردی بھی کر رہا ہے، مگر اس سے صرف (شکریہ) کا بھی طلب گار نہیں ہے۔ وہ انسانیت کی خدمت فقط اللہ رب العزت کی رضا کے لیے کر رہا ہے۔