------ انسان کا یہ بدن مٹی سے بنا ہے اور مٹی ہی میں مل جائے گا، قبر میں جاکر خوبصورت آنکھیں جنہیں سرمہ اور کاجل سے سنوارا جاتا ہے اور یہ بال اور رخسار جنہیں حسین و جمیل بنانے کی تگ و دو کی جاتی ہے اور یہ پیٹ جس کی بھوک مٹانے کے لیے ہر طرح کے جتن کئے جاتے ہیں، یہی آنکھیں پھوٹیں گی اور ان کا پانی چہرے کے رخساروں پر بہہ پڑے گا، بال خود بخود گل کر ٹوٹ جائیں گے، پیٹ بدبودار ہوکر پھٹ پڑے گا، قبر میں کیڑے اس مٹی کے بدن کو اپنی غذا بنالیں گے، اس حالت کو انسان دنیا میں بھولے رہتا ہے مگر یہ حالت پیش آکر رہے گی، اسی جانب متوجہ کرنے کے لیے ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے حضرات صحابہ ؓ سے ارشاد فرمایا : "روزانہ قبر فصیح و بلیغ زبان میں برملا یہ اعلان کرتی ہے کہ اے آدم کی اولاد! تو مجھے کیسے بھول گیا؟ کیا تجھے معلوم نہیں کہ میں تنہائی کا گھر ہوں،میں مسافرت کی جگہ ہوں،میرا مقام وحشت ناک ہے؟ اور میں کیڑوں کا گھر ہوں اور میں تنگ جگہ ہوں سوائے اس شخص کیلئے جس پر اللہ تعالٰی مجھے وسیع فرمادے! پھر آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قبر یا تو جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے ـ یا جنت کی پھلواریوں میں سے ایک پھلواری ہے"ـ لٰہذا اللہ تعالٰی سے شرم و حیا کا تقاضا بیان کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا " کہ اپنی موت اور بدن کی بوسیدگی کو یاد رکھیں! اس سے فکر آخرت پیدا ہوگی اور گناہوں سے بچنے کا داعیہ بھر کر سامنے آئے گا ـ ==================

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ایک معمولی واقعہ، ایک عظیم سبق

ایک معمولی واقعہ، ایک عظیم سبق

لندن میں ایک امام صاحب تھے۔ روزانہ گھر سے مسجد جانے کیلئے بس پر سوار ہوکر دور مسجد تک جانا اُنکا معمول تھا۔ لندن میں لگے بندھے وقت اور ایک ہی روٹ پر بسوں میں سفر کرتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا کے بس بھی وہی ہوتی تھی اور بس کا ڈرائیور بھی وہی ہوتا تھا۔ 1مرتبہ یہ امام صاحب بس پر سوار ہوئے، ڈرائیور کو کرایہ دیا اور باقی کے پیسے لیکر1 نشست پر بیٹھ گئے۔ ڈرائیور کے دیئے ہوئے باقی کے پیسے جیب میں ڈالنے سے قبل دیکھے تو پتہ چلا کہ بیس پنس زیادہ آگئے ہیں۔ پہلے امام صاحب نے سوچا کہ یہ20 پنس وہ اترتے ہوئےڈرائیور کو واپس کر دینگے کیونکہ یہ اُنکا حق نہیں ہے ۔ پھر ایک سوچ آئی کہ اتنے تھوڑے سے پیسوں کی کون پرواہ کرتا ہے ، ٹرانسپورٹ کمپنی ان بسوں کی کمائی سے لاکھوں پاؤنڈ کماتی بھی تو ہے ، ان تھوڑے سے پیسوں سے اُنکی کمائی میں کیا فرق پڑے گا؟ میں ان پیسوں کو اللہ کی طرف سے انعام سمجھ کر جیب میں ڈالتا ہوں اور چپ ہی رہتا ہوں۔ اسی کشمکش میں کہ واپس کروں یا نہ کروں، امام صاحب کا سٹاپ آگیا۔ بس امام صاحب کے مطلوبہ سٹاپ پر رُکی تو امام صاحب نے اُترنے سے پہلے ڈرائیور کو 20 پنس واپس کرتے ہوئے کہا؛ یہ لیجیئے بیس پنس، لگتا ہے آپ نے غلطی سے مُجھے زیادہ دے دیئے۔ ڈرائیور نے 20 پنس واپس لیتے ہوئے مُسکرا کر امام صاحب سے پوچھا؛ کیا آپ اس علاقے کی مسجد کے نئے امام ہیں؟ میں بہت عرصہ سے آپ کی مسجد میں آکر اسلام کے بارے میں معلومات لینا چاہ رہا تھا۔ یہ 20 پنس میں نے جان بوجھ کر آپکو زیادہ دیئے تھے تاکہ آپکا اس معمولی رقم کے بارے میں رویہ پرکھ سکوں۔ امام صاحب جیسے ہی بس سے نیچے اُترے، اُنہیں ایسے لگا جیسے اُنکی ٹانگوں سے جان نکل گئی ہے، گرنے سے بچنےکیلئے ایک بجلی کے پول کا سہارا لیا، آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر روتے ہوئے دُعا کی، یا اللہ مُجھے معاف کر دینا، میں ابھی اسلام کو بیس پنس میں بیچنے لگا تھا۔ یاد رکھئیے بعض اوقات لوگ صرف قرآن پڑھ کر اسلام کے بارے میں جانتے ہیں۔ یا غیر مسلم ہم مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام کا تصور باندھتے ہیں۔ کوشش کریں کہ کہیں کوئی ہمارے شخصی اور انفرادی رویئے کو اسلام کی تصویر اور تمام مسلمانوں کی مثال نہ بنا لے. اگر ہم کسی کو مسلمان نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنی کسی حرکت کی وجہ سے اسے اسلام سے متنفر بھی نہ کریں. ہم مسلمانوں کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ سفید کپڑے پر لگا داغ دور سے نظرآجاتا ہے... _____________📝📝📝_____________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ۔