😂علم المنطق اور جلیبی🤣 ایک مولوی صاحب مٹھائی کی دکان پہ جاکر ایک کلو گلاب جامن کا آرڈر دیا تو دکاندار نے کہا کہ مولوی صاحب مٹھائی مل جائے گی لیکن مجھے بتائیں کہ یہ منطق کیا ہے ؟ مولوی صاحب کا کہا کہ مٹھائی دیدیں بتاتا ہوں۔ جب مٹھائی آگئی تو مولوی صاحب لیکر جانے لگے دکاندار نے پیسے مانگے تو مولوی صاحب نے یو ٹرن لیکر کہا کہ چلییں اس کے بدلے میں جلیبی دیدیں ۔ اب مولوی صاحب جلیبی لیکر جانے لگے تو دکاندار نے پھر پیسوں کا مطالبہ کیا ۔ تو مولوی صاحب نے پوچھاکہ کس چیز کے پیسے ؟ دکاندار نے کہا کہ جلیبی کے۔ تو مولوی صاحب نے کہا کہ یہ تو میں نے گلاب جامن کے بدلے میں لی ہے ۔ دکاندار نے کہا کہ پھر گلاب جامن کے پیسے دیں تو مولوی صاحب نے کہا کہ وہ تو میں واپس کرچکا ہوں 😂اب دکاندار پریشان ہوئے تو مولوی صاحب نے بتایا کہ یہی منطق ہے 😛 عقل کے لئے منطق اور صحت کے لئے جلیبی انتہائی مفید ہیں 😆 ~ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ~ 📚 *🕌﴿☆٘عُلَمـٰـاءٕهِــنْـد☆﴾🕌* 🌙 #ULAMA_E_HIND

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

​​ایک قدیم سندھی عالم کا کلمۂ حکمت :

​​ایک قدیم سندھی عالم کا کلمۂ حکمت :

اِمام ابونصر فتح بن عبداللہ سندھیؒ دُوسری صدی ہجری کے اُن علماء میں سے ہیں جو سندھی نژاد تھے، اور سندھ میں مسلمانوں کے داخلے کے بعد مشرف باسلام ہوئے تھے ، اور مسلمان ہونے کے بعد تفسیر،حدیث،فقہ اور کلام کے مُسلَّم عالم مانے گئے، علامہ سمعانیؒ نے ان کا یہ واقعہ سند کے ساتھ نقل کیا ہے: عبداللہ بن حسین کہتے ہیں کہ ایک روز ہم ابونصر سندھی کے ساتھ دُھول اور کیچڑ میں اَٹی ہوئی زمین پر چلے جا رہے تھے، اُن کے بہت سے معتقدین بھی ساتھ تھے، ہم نے دیکھا کہ ایک عرب شہزادہ مدہوشی کی حالت میں زمین پر خاک اور کیچڑ میں لت پت پڑا ہے، اس نے ہماری طرف نظر اُٹھا کر دیکھا تو ابونصرؒ نے منہ قریب کر کے سونگھا، اس کے منہ سے شراب کی بدبو آرہی تھی ـ شہزادہ نے ابونصرؒ سےکہا: "او غلام! میں جس حالت میں پڑا ہوں تم دیکھ رہے ہو، لیکن تم ہو کہ اطمینان سے چلے جا رہے ہو،اور اتنے سارے لوگ تمہارے پیچھے پیچھے ہیں"؟ ابونصرؒ نے بے باکی سے جواب دیا: " شہزادے! جانتے ہو اس کی کیا وجہ ہے؟ بات یہ ہے کہ میں نے تمہارا آباء و اجداد ( صحابہ ؓ و تابعین ؒ ) کی پیروی شروع کردی ہے،اور تم میرے آباء و اجداد ( کافروں کے) نقشِ قدم پر چل پڑے ہو ـ" (الأنساب للسمعانیؒ ورق: ۳۱۳ ومعجم البلدان ج: ۳ ص: ۲۶۷، ماخوذ اَز فقہائے ہند، مرتبہ: محمد اسحاق بھٹی جلد: ۱ ص: ۸۰ و ۸۱) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب : تراشے 📔 (صفحہ نمبر : ۵۷،۵۸ ) تالیف : مفتی محمد تقی عثمانی صاحب ناقل : اسلامک ٹیوب پرو ایپ