القرآن - سورۃ نمبر 2 البقرة آیت نمبر 1 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الٓمّٓۚ ۞ ترجمہ: Transliteration (English) Aliflammeem Saheeh International Alif, Lam, Meem. مفتی محمد تقی عثمانی المالقرآن - سورۃ نمبر 2 البقرة آیت نمبر 2 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ ۛ فِيْهِ ۛ ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ ۞ ترجمہ: Transliteration (English) Thalika alkitabu la rayba feehi hudan lilmuttaqeena Saheeh International This is the Book about which there is no doubt, a guidance for those conscious of Allah - مفتی محمد تقی عثمانی یہ کتاب ایسی ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں یہ ہدایت ہے ان ڈر رکھنے والوں کے لئےالقرآن - سورۃ نمبر 2 البقرة آیت نمبر 3 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ ۞ ترجمہ: Transliteration (English) Allatheena yuminoona bialghaybi wayuqeemoona alssalata wamimma razaqnahum yunfiqoona Saheeh International Who believe in the unseen, establish prayer, and spend out of what We have provided for them, مفتی محمد تقی عثمانی جو بےدیکھی چیزوں پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا اس میں سے (اللہ کی خوشنودی کے کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔القرآن - سورۃ نمبر 2 البقرة آیت نمبر 4 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ وَبِالْاٰخِرَةِ ھُمْ يُوْقِنُوْنَ ۞ ترجمہ: Transliteration (English) Waallatheena yuminoona bima onzila ilayka wama onzila min qablika wabialakhirati hum yooqinoona Saheeh International And who believe in what has been revealed to you, [O Muhammad], and what was revealed before you, and of the Hereafter they are certain [in faith]. مفتی محمد تقی عثمانی اور جو اس (وحی) پر بھی ایمان لاتے ہیں جو آپ پر اتاری گئی اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری گئی اور آخرت پر وہ مکمل یقین رکھتے ہیںالقرآن - سورۃ نمبر 2 البقرة آیت نمبر 5 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنۡ رَّبِّهِمۡ‌ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‏ ۞ ترجمہ: Transliteration (English) Olaika AAala hudan min rabbihim waolaika humu almuflihoona Saheeh International Those are upon [right] guidance from their Lord, and it is those who are the successful. مفتی محمد تقی عثمانی یہ ہیں وہ لوگ جو اپنے پروردگار کی طرف سے صحیح راستے پر ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

خاموش پرندہ __!!

خاموش پرندہ __!!

حضرتِ سلیمان علیہ السلام کے دور میں ایک شخص نے ایک خوبصورت پرندہ خریدا، وہ جب چہچہاتا تو نہایت دل فریب اور خوش مزاج آواز سے وہ شخص بہت مسرور ہوتا گویا اس پرندے کی آواز بہت ہی سریلی اور پیاری تھی۔ ایک دن اچانک اس پنجرے کے پاس اسی کے جیسا ایک اور پرندہ آیا اور اپنی زبان میں کچھ باتیں کیں اور چلاگیا۔ پنجرے میں موجود پرندہ بالکل خاموش ہوگیا گویا ایسا ہوگیا جیسے وہ گونگا پرندہ ہے۔ اسکے مالک نے دو تین دن انتظار کیا مگر پرندہ بالکل خاموش۔۔۔ وہ شخص حضرت سلیمان علیہ السلام کی بارگاہ میں اس پرندے کو پنجرے سمیت لایا اور شکایت کہ یہ بہت مہنگا پرندہ خریدا تھا، اسکی آواز مجھے مسرور کرتی تھی مگر اب نجانے کیا ہوا کہ بولتا ہی نہیں! حضرت سلیمان علیہ السلام (جو جانور، چرند، پرند، سب کی بولیاں جانتے تھے) نے اس پرندے سے پوچھا کیا وجہ ہے جو تم خاموش ہوگئے ہو؟ وہ پرندہ عرض گزار ہوا اے اللہ کے برحق نبی! یہ شخص سمجھتا ہے میں خوش ہوکر چہچہاتا ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ میں دیگر آزاد پرندوں کو دیکھ کر روتا ہوں کہ اے کاش میں بھی آزاد ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا مگر یہ میری زبان نہیں سمجھتا تو یہ خیال کرتا ہے جیسے میں بہت خوشی سے گنگنا رہا ہوں۔ پھر ایک دن میرا ایک ہم جنس میرے پاس آیا اور کہا کہ یہ شخص تیری زبان نہیں سمجھتا بلکہ سمجھتا ہے کہ تو بہت سریلی آواز کے ساتھ خوشی خوشی چہچہا رہا ہے۔ اگر تم اسکی قید سے آزاد ہونا چاہتے ہو تو رونا چھوڑ دو، بولنا فریاد کرنا بھی چھوڑ دو کہ اس پر تمہارے الفاظ اثر ہی نہیں کرتے کیونکہ یہ تمہارے درد کو سمجھ ہی نہیں سکتا۔ بس پھر کیا تھا میں تب سے خاموش ہوکر صبر کررہا ہوں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس شخص سے کہا کہ پنجرہ کھول دو اور اس کو آزاد کردو کیونکہ اب یہ پنجرے میں کبھی نہیں بولے گا۔ اس شخص نے کہا اگر اب یہ خاموش ہی رہا تو بلاوجہ اس کو رکھ کر میں کیا کروں گا لہذا اس نے سلیمان علیہ السلام کے حکم کی اتباع کرتے ہوئے پنجرہ کھول دیا۔ وہ پرندہ فوراً اڑ کر درخت کی شاخ پر بیٹھا اور اس شخص کو دیکھ کر کچھ چہچہا کر اڑ گیا۔ اس شخص نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے عرض کی کہ یہ کیا کہہ کر گیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اس نے کہا کہ اگر تو بھی اپنے غموں اور مصائب سے آزاد ہونا چاہتا ہے تو خاموش ہوجا اور صبر کر، کسی سے کچھ شکایت نہ کر تو تجھے بھی ایک دن سارے غموں سے نجات مل جائے گی جو تو لوگوں کو سناتا رہتا ہے مگر وہ بےاحساس لوگ تیری زبان جانتے ہوئے بھی تیری بات نہیں سنتے۔ یہ ایک حکایت ہے. یہ جھوٹی ہے یا سچی اس بحث میں نہ پڑہے، اس طرح کی حکایات سے نصیحت اور سبق حاصل کیا جاتا ہے. __________📝📝__________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ