*کتاب:مجالس صدیق جلد۱ ص۷۰* *افادات:حضرت مولانا سید صدیق احمد صاحب باندویؒ* *کڑھن اور تکلیف کی بات* فرمایا: میرے لئے سب سے زیادہ کڑھن اور تکلیف کی بات اس وقت ہوتی ہے جب میں دینی مدارس میں کوئی منکر دیکھتا ہوں اور اس پر روک ٹوک بھی نہیں ہوتی تو سخت تکلیف ہوتی ہے، ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے آگ لگادی، مدرسوں میں رہ کر منکر کام ہو کتنے تعجب کی بات ہے، ارے غلطی ہوجاتی ہے، لیکن روک ٹوک کے بعد بھی اثر نہ ہونا یہ ہے افسوس کی بات اور اسی سے دل کڑھ کر رہ جاتا ہے، میرے کوئی روزانہ سو۱۰۰ جوتے لگالے یہ مجھے برداشت ہے لیکن منکر دیکھنا مجھے برداشت نہیں ، کڑھ کڑھ کر رہتا ہوں بہت ضبط کرتا ہوں ، میرے لئے یہی بڑا مجاہدہ ہے اور بڑا سخت مجاہدہ ہے، میں سوچتا ہوں کہ جب دینی مدارس میں ان باتوں کی فکر نہ ہوگی اور منکرات پر نکیر نہ کی جائے گی تو پھر کہاں ہوگی۔ آج میں صبح کے وقت آیا تو دیکھا کہ تیز بلب جل رہا ہے اور لوگ سورہے ہیں ، اتنی تیز روشنی کا بلب جلانے کی کیا ضرورت ہے، اتنا بڑا بلب اگر مدرسہ کے صحن میں لگا دیا جائے تو سارا مدرسہ روشن ہوجائے، اسی قسم کے منکرات دیکھ کر مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

جماعت اور مسجد کا اہتمام

جماعت اور مسجد کا اہتمام

مجھے یاد ہے کہ دیوبند میں جب میری عمر تقریباً دس بارہ سال تھی ، ایک دن فجر کی نماز کے وقت سخت آندھی موسلا دھار بارش اور گرج چمک کی بنا پر والد صاحب ( مفتی محمد شفیع صاحب ) مسجد تشریف نہ لے جاسکے اور نماز گھر میں ہی ادا فرمائی، اُدھر دادا ابا جو مسجد کے عاشق اور نماز باجماعت کے شیدائی تھے، اسی حالت میں پائینچے چڑھا کر مسجد کی جانب روانہ ہو گئے، اور والد ماجد کو بارش کی وجہ سے ان کے جانے کا پتہ نہ چل سکا، دادا ابا جب مسجد پہونچے تو دیکھا کہ بجز مؤذن کے کوئی دوسرا شخص موجود نہیں ہے، خیر مؤذن کے ساتھ دو آدمیوں کی جماعت ہوئی ، اور بعد نماز جب دادا ابا گھر لوٹنے لگے تو سب محلے والوں کو ان کے گھروں سے اٹھا کر ساتھ لیتے ہوۓ سخت غصے میں گھر پہنچے، اور والد صاحب کو بلا کر سب کے سامنے اس قدر ڈانٹا کہ والد صاحب اور سب محلے والے دم بخود رہ گئے، اور فر مایا: افسوس ہے کہ مجھے اپنی زندگی میں ایسا دن دیکھنا پڑا ، جس کی مجھ کو تم سے توقع بھی نہیں تھی، آج اگر میں نہ پہونچتا تو مسجد ویران ہو جاتی ، اور جماعت نہ ہوتی ، میرے بعد تو تم اس مسجد کو ویران ہی کر دو گے، مجھے افسوس تو سب پر ہے لیکن سب سے زیادہ اپنے اس بیٹے نمونے کے انسان حصہ اول پر ہے، اور بھی نہ جانے کیا کیا کہا؟ دادا ابا کو دنیا میں والد صاحب سے بڑھ کر کوئی عزیز نہ تھا، مگر ترک جماعت پر اس قدر گرفت فرمائی اور تمام محلہ والوں اور چھوٹی اولاد کے سامنے، پھر بھی حضرت والد صاحب کی انتہائی سعادت مندی تھی کہ انہوں نے ذرا بھی نا گواری کا اظہار نہیں فرمایا ، بلکہ ندامت اور شرمندگی کا اظہار کرتے ہوۓ سب کے سامنے معافی مانگی ، بعد میں فرمایا کرتے تھے کہ اگر اس دن اتنی لتاڑ نہ پڑتی تو عمر بھر احساس نہ ہوتا کہ ہم سے کوئی غلطی سرزد ہوئی تھی ۔ (البلاغ مفتی اعظم نمبر ۔ ج ۲ ص ۱۰۶۹) ___________📝📝___________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ۔