اے ارضِ فلسطین تُو جادہِ "والطور" ہے تُو منبعِ "والتین" کندہ ترے سینے پہ ہیں قرآں کے مضامین بھولے نہ تجھے موسی و عیسی کے فرامین خادم تری چوکھٹ کے ہیں دنیا کے سلاطین اے ارض فلسطین دامن میں ترے ہیں شبِ اسری کی بہاریں "رَفْرَف" کو ملائک تری بستی میں اتاریں حاضر تری آغوش میں نبیوں کی قطاریں اقصیٰ سے ہے گردوں تلک آوازہِ یٰس اے ارضِ فلسطین کیوں آج فلسطین میں وحشت کا سماں ہے کیوں غزّہ میں ماتم کدہ ہر ایک مکاں ہے کیوں تجھ کو مٹانے پہ تُلا سارا جہاں ہے کیوں تیرے لیے دہر کے حالات ہیں سنگین اے ارض فلسطین خونخوار درندے ترا دل نوچ رہے ہیں ٹکڑے تری گلیوں میں جوانوں کے پڑے ہیں بچوں کے کلیجوں سے مکانات بھرے ہیں بارود ہواؤں میں ، زمیں خون سے رنگین اے ارض فلسطین اب جاگ اٹھے ہیں ترے جانباز جیالے ہاتھوں میں فلسطین کے پرچم کو سنبھالے سر کفر کے طاغوت کا ٹھوکر پہ اچھالے اب مسجدِ اقصی کبھی ہو گی نہیں غمگین اے ارض فلسطین اے کاش کہ لشکر یہاں اطرف سے آئیں تکبیر کے نعرے تری مسجد میں لگائیں سر ، ارضِ مقدّس تری حرمت پہ کٹائیں پھر کفر کے پنجوں سے تُو آزاد ہو آمین اے ارض فلسطین کلام: جنید اشفاق اٹکی

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

حکمت بھری باتیں

حکمت بھری باتیں

‏ایک بادشاہ نے اعلان کر رکھا تھا کہ جو اچھی بات کہے گا اس کو چار سو دینار (سونے کے سکے) دیئے جائیں گے...!!!! ایک دن بادشاہ رعایا کی دیکھ بھال کرنے نکلا اس نے دیکھا ایک نوے سال کی بوڑھی عورت زیتون کے پودے لگا رہی ہے بادشاہ نے کہا تم پانچ دس سال میں مر جاؤ گی اور یہ درخت بیس سال بعد پھل دیں گے تو اتنی مشقت کرنے کا کیا  فائدہ؟ بوڑھی عورت نے جواباً کہا ہم نے جو پھل کھائے وہ ہمارے بڑوں نے لگائے تھے اور اب ہم لگا رہے ہیں تاکہ ہماری اولاد کھائے...!!!! بادشاہ کو اس بوڑھی عورت کی بات پسند آئی حکم دیا اس کو چار سو دینار دے دیئے جائیں...!!!! جب  بوڑھی عورت کو دینار دیئے گئے وہ مسکرانے لگی...!!!! بادشاہ نے پوچھا کیوں مسکرا رہی ہو؟؟؟ بوڑھی عورت نے کہا کہ زیتون کے درختوں نے بیس سال بعد پھل دینا تھا جبکہ مجھے میرا پھل ابھی مل گیا ہے...!!!! بادشاہ کو اس کی یہ بات بھی اچھی لگی اور حکم جاری کیا اس کو مزید چار سو دینار دیئے جائیں...!!!! جب اس عورت کو مزید چار سو دینار دیئے گئے تو وہ پھر مسکرانے لگی...!!!! بادشاہ نے پوچھا اب کیوں مسکرائی؟؟؟ بوڑھی عورت نے کہا زیتون کا درخت پورے سال میں صرف ایک بار پھل دیتا ہے جبکہ میرے درخت نے دو بار پھل دے دیئے ہیں..!!!! بادشاہ نے پھر حکم دیا اس کو مزید چار سو دینار دیئے جائیں یہ حکم دیتے ہی بادشاہ تیزی سے وہاں سے روانہ ہو گیا...!!!! وزیر نے کہا حضور آپ جلدی سے کیوں نکل آئے؟؟؟ بادشاہ نے کہا اگر میں مزید اس عورت کے پاس رہتا تو میرا سارا خزانہ خالی ہو جاتا مگر عورت کی حکمت بھری باتیں ختم نہ ہوتیں...!!!! اچھی بات دل موہ لیتی ہے، نرم رویہ دشمن کو بھی دوست بنا دیتا ہے حکمت بھرا جملہ بادشاہوں کو بھی قریب لے آتا ہے اچھی بات دنیا میں دوست بڑھاتی اور دشمن کم کرتی ہے اور آخرت میں ثواب کی کثرت کرتی ہے آپ مال و دولت سے سامان خرید سکتے ہیں مگر دِل کی خریداری صرف اچھی بات سے ہو سکتی ہے💯!!