اے ارضِ فلسطین تُو جادہِ "والطور" ہے تُو منبعِ "والتین" کندہ ترے سینے پہ ہیں قرآں کے مضامین بھولے نہ تجھے موسی و عیسی کے فرامین خادم تری چوکھٹ کے ہیں دنیا کے سلاطین اے ارض فلسطین دامن میں ترے ہیں شبِ اسری کی بہاریں "رَفْرَف" کو ملائک تری بستی میں اتاریں حاضر تری آغوش میں نبیوں کی قطاریں اقصیٰ سے ہے گردوں تلک آوازہِ یٰس اے ارضِ فلسطین کیوں آج فلسطین میں وحشت کا سماں ہے کیوں غزّہ میں ماتم کدہ ہر ایک مکاں ہے کیوں تجھ کو مٹانے پہ تُلا سارا جہاں ہے کیوں تیرے لیے دہر کے حالات ہیں سنگین اے ارض فلسطین خونخوار درندے ترا دل نوچ رہے ہیں ٹکڑے تری گلیوں میں جوانوں کے پڑے ہیں بچوں کے کلیجوں سے مکانات بھرے ہیں بارود ہواؤں میں ، زمیں خون سے رنگین اے ارض فلسطین اب جاگ اٹھے ہیں ترے جانباز جیالے ہاتھوں میں فلسطین کے پرچم کو سنبھالے سر کفر کے طاغوت کا ٹھوکر پہ اچھالے اب مسجدِ اقصی کبھی ہو گی نہیں غمگین اے ارض فلسطین اے کاش کہ لشکر یہاں اطرف سے آئیں تکبیر کے نعرے تری مسجد میں لگائیں سر ، ارضِ مقدّس تری حرمت پہ کٹائیں پھر کفر کے پنجوں سے تُو آزاد ہو آمین اے ارض فلسطین کلام: جنید اشفاق اٹکی

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

وہ میرا نام جانتا ہے:

وہ میرا نام جانتا ہے:

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ نے جب مدائن کو فتح کیا تو انہوں نے Announcement (اعلان) کروائی کہ جس مجاہد کے پاس جو مال غنیمت ہے وہ سب لا کر ایک جگہ جمع کروائے ، تاکہ ہم اسے تقسیم کریں ۔ لوگ مال غنیمت جمع کروانے لگ گئے ۔ تین دن گزر گئے محسوس یہ ہوا کہ اب اور کسی کے پاس کچھ نہیں۔ تو سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے ہیں ، ایک نو جوان آیا ، جس کے کپڑے بڑے معمولی سے محسوس ہوتے تھے۔ مالی اعتبار سے اتنا امیر آدمی نظر نہیں آتا تھا۔ معمولی کپڑے، پھٹے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ اس نے ایک کپڑے میں کچھ لپیٹا ہوا تھا ، وہ لے کر آیا اور کہنے لگا کہ امیر قافلہ! یہ میں آپ کو دینے کے لیے آیا ہوں۔ جب انہوں نے اسے کھولا تو اس کے اندر دشمن بادشاہ کا تاج تھا ، گویا اس مجاہد نے اس بادشاہ کو قتل کیا اور اس کا تاج اس کے ہاتھ میں آگیا ، مگر لوگوں کو اس کا پتہ ہی نہیں تھا۔ اگر یہ مجاہد چاہتا تو اس کو اپنے پاس رکھ لیتا اور ساری زندگی اس کے ہیرے اور موتی کاٹ کاٹ کر بیچ کر اپنی زندگی ٹھاٹ سے گزارتا، کیونکہ بادشاہوں کے تاجوں میں تو بڑے بڑے ڈائمنڈ ہوتے تھے۔ جب اس سادہ سے سپاہی نے وہ دیا تو سعد بن ابی وقاص رضي اللہ تعالٰی عنہ بڑے حیران ہوئے کہ کسی کو پتہ ہی نہیں اور اتنی قیمتی چیز اس نے لا کر خود ہی دے دی ۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ نے اس سے پوچھا کہ اے مجاہد ! تیرا نام کیا ہے؟ جب اس سے پوچھا کہ تیرا نام کیا ہے تو اس نوجوان نے واپسی کے لیے اپنا رخ پھیرا اور دو قدم واپسی کی طرف اٹھا کر کہنے لگا: ” جس اللہ کی رضا کے لیے یہ تاج لا کر آپ کو واپس دیا وہ میرا بھی نام جانتا ہے، میرے باپ کا نام بھی جانتا ہے۔ یہ ہوتا ہے اللہ کے لیے کرنا ۔