ہم سب دنیا سے کوچ کرنے والے ہیں

رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: "میرا دنیا سے کیا تعلق؟ میری دنیا کی مثال تو ایسی ہی ہے کہ جیسے کوئی سوار کسی درخت کے سائے میں ( دم لینے کے لیے) ٹھہر جائے، پھر اسے چھوڑ کر چلا جائے ـ " حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں کو وصیت فرمائی: (دنیا سے) گزر جاؤ ، اسے آباد کرنے میں نہ لگو ـ ایک آدمی حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ـ ان کے گھر میں اِدھر اُدھر نظر دوڑانے لگا ( سامان نام کی کوئی چیز نظر نہ آئی) تو پوچھا، آپ کا سامان کہاں ہے؟ آپ نے فرمایا: ہمارا ایک دوسرا گھر ( جنت) ہے، ہماری توجہ اسی طرف ہے ـ اس نے کہا، جب تک آپ یہاں ہیں ( کچھ نہ کچھ) سامان ضروری ہے ـ آپ نے فرمایا : گھر کا مالک ہمیں رہنے ہی نہیں دے گا ـ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ نے اپنے خطبے میں فرمایا: دُنیا تمہارا ٹھکانا نہیں ہے ـ اللہ تعالٰی نے اس کے لیے فنا لکھ دی ہے ـ اور دنیا کے لوگوں کے لیے سفر لکھ دیا ہے، کتنے ہی آباد گھر جلد ہی ویران ہوں گے اور کتنے ہی مکانوں میں رہنے والے جن پر رشک کیا جاتا ہے، بہت جلد کوچ کرجانے والے ہیں ـ اس لیے اچھی طرح کوچ کی تیاری کرو اور بہترین توشئہ سفر تقویٰ ہے اسی کو ساتھ لو ـ حضرت عطاء سلمیؒ دعا فرمایا کرتے تھے: اے میرے پروردگار! دنیا میں میری اجنبیت پر رحم فرما، قبر میں میری وحشت پہ رحم فرمانا اور کل جب تیرے سامنے پیشی ہوگی اس موقع پر رحم فرماناـ حضرت داؤد طائی ؒ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطوان ؒ بن عمرو تیمی سے پوچھا : (زندگی کے تعلق سے) کم سے کم اُمید کیا ہے؟ آپ نے فرمایا : بس جتنی دیر ایک سانس چلتی ہے ـ حضرت فضیل بن عیاض ؒ سے جب یہ ذکر کیا گیا تو وہ رو پڑے اور کہا کہ حضرت عطوان ؒ موت سے بہت چوکنّا رہتے تھے اس لیے فرمایا، سانس چلنے تک یعنی وہ ڈرتے تھے کہ وہ سانس پوری ہونے سے پہلے ہی نہ مرجائیں ـ حضرت حبیب ؒ ابو محمد روزانہ وصیت کردیا کرتے تھے ( جیسے موت کے وقت کی جاتی ہے) کہ کون غسل دے گا وغیرہ وغیرہ اور صبح شام رویا کرتے تھے، ان کی بیوی سے رونے کا سبب دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اللہ تعالٰی سے ڈرتے ہیں کہ شام ہوئی ہے شاید صبح نہ ہو اور صبح ہوگئی ہے تو شاید شام نہ ہو ـ حضرت حسن ؒ کا قول ہے: ابن آدم! تمہیں دو سواریاں سفر کرا رہی ہیں، رات،دن کے حوالے کرتی ہے اور دن رات کے، یہاں تک کہ دونوں ایک دن تمہیں آخرت کے حوالے کردیں گے ـ تم سے زیادہ خطرے میں کون ہے؟ امام اوزاعیؒ نے اپنے ایک بھائی کو لکھا: سمجھ لو کہ تمہیں ہر طرف سے گھرا جا چکا ہے، اور شب و روز برابر گھسیٹ کرلے جایا جارہا ہے، اللہ تعالٰی اور اس کا سامنا کرنے سے ڈرو ـ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب : وقت کا بہترین استعمال (صفحہ نمبر ۱۶۲-۱۶۳ ) مصنف : محمد بشیر جمعہ انتخاب: اسلامک ٹیوب پرو ایپ

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

غلام کا آقا کو حکیمانہ طمانچہ

غلام کا آقا کو حکیمانہ طمانچہ

جنگ اسکندریہ میں رومی ایک قلعے میں بند تھے اور مسلمانوں نے اس قلعے کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ ایک روز رومی میدان میں نکلے اور سپہ سالار حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ چند سوار لے کر ان کے مقابل ہوئے ، گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ مسلمان رومیوں کو دباتے ہوئے برابر قلعے کی طرف چلے گئے اور رومیوں کے ہمراہ قلعہ کے اندر داخل ہو گئے ۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ہر ایک لڑائی میں سب سے آگے ہوا کرتے تھے۔ اس موقعے پر بھی وہ سب سے آگے تھے۔ رومیوں نے مسلمانوں کو دروازے میں دیکھا تو سخت گھبرائے اور چار اطراف سے سپاہیوں کے گروہ کے گروہ دروازے پر اپنے ہمراہیوں کی پشت پر آگئے اور پھر قلعے کا دروازہ ایک دم بند کر دیا۔ اس اثناء میں حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ مسلمہ بن مخلد اور اپنے غلام دردان کے ساتھ قلعہ کے اندر ہی رہ گئے۔ رومی انہیں گرفتار کر کے اپنے اعلی افسر کے پاس لے گئے۔ رومی افسر نے ان قیدیوں کو معمولی سپاہی سمجھا۔ کیونکہ حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ نے کوئی جرنیلی وردی نہیں پہنی ہوئی تھی بلکہ ان کا لباس بالکل اپنے ہمراہی اور غلام کا سا سادہ تھا۔ اس لیے رومی افسر نے بڑی حقارت سے انہیں مخاطب کر کے کہا: تم بھوکے ننگے اور جاہل عربوں نے ان ممالک میں فتنہ برپا کر رکھا ہے۔“ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے نہایت بیباکانہ طور پر جواب دیا: ”ہم فتنہ پھیلانے نہیں آئے۔ بلکہ ہم ان اقوام کو پستی سے نکال کر ترقی و خوشحالی کے بام پر پہنچانے آئے ہیں۔ ہم اسلام کی برکتیں ساتھ لائے ہیں جو ہم ہر ایک قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اگر تم اس لازوال دولت سے محروم رہنا چاہتے ہوتو ہم تمہیں اپنی حفاظت میں لے کر اس ملک کو دار الامان بنادیں گے۔“ رومی افسر یہ دلیرانہ جواب سن کر اپنے ماتحتوں کو رومی زبان میں کہنے لگا: یہ شخص عربی لشکر کا سردار معلوم ہوتا ہے۔ بہتر ہے کہ ہم اسے قتل کر دیں تا کہ مسلمانوں پر ہماری دہشت بیٹھ جائے۔“ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا غلام دردان رومی زبان سمجھتا تھا۔ اس نے اپنے آقا کو خطرے میں دیکھا تو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے منہ پر زور سے طمانچہ مارا اور کہا: بے ادب گستاخ کس نے تمہیں اختیار دیا ہے کہ اہل عرب کی طرف سے ایسے کلمات دو افسروں اور حاکموں کے سامنے کہو۔ چپ رہو۔ یہ تمہارا کام نہیں ۔“ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے اور مسلمہ بن مخلد نے کہا: بے شک ہمیں ایسی کوئی بات کہنے کا حق نہیں اور اگر آپ اپنے چند اعلی افسر اہل عرب کے افسروں کے پاس بھیجیں تو ممکن ہے کہ وہ سب مل کر ایسی شرائط باہم طے کر لیں جن پر ہم میں اور آپ میں صلح ہو جائے کیوں کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ عرب سردار جنگ کی نسبت صلح کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔“ اب رومی افسر سمجھا حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ کوئی بڑے آدمی نہیں ، عام سے سپاہی ہیں ورنہ انہیں طمانچہ کیوں پڑتا ۔ وہ اہل عرب کی شدت محاصرہ سے تنگ آچکا تھا۔ اس بات سے بہت خوش ہوا اور کہا: ”اچھا ہم تمہیں چھوڑ دیتے ہیں، تم جا کر اپنے افسروں سے کہو کہ وہ صلح کرنا چاہیں تو ہم بالکل تیار ہیں ۔ مسلمہ بن مخلد نے رومی افسر کا شکریہ ادا کیا اور رومی سپاہی انہیں قلعے کے باہر چھوڑ آئے۔ ادھر اسلامی لشکر میں حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور مسلمہ کی گرفتاری کے باعث بڑی پریشانی تھی۔ مگر جونہی انہوں نے اپنے سردار کو صحیح و سالم آتے دیکھا تو مارے خوشی کے اللہ اکبر کے نعروں سے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ رومیوں کے کانوں میں یہ خوشی کی آواز پڑی تو وہ بہت پریشان ہوئے۔ غلام نے آقا کو جو طمانچہ مارا تھا، اس کی حکمت اب ان کی سمجھ میں آئی۔ __________📝📝📝__________ کتاب : حکمت و نصیحت کے حیرت انگیز واقعات۔ صفحہ نمبر: ۸۳-۸۴ مصنف : محمد اسحق ملتانی۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ