حکیم اور حکمت

چند دن پہلے دانت میں شدید درد تھا فورا ڈاکڑ کے پاس گیا پہلے تو پتہ چلا کہ لسٹ مکمل ہو چکی ہے اور ڈاکٹر اس سے زیادہ مریضوں کو چیک نہیں کرتا بڑی منت سماجت کے بعد مشکل سے آخر میں نمبر مل گیا ، ڈاکٹر نے چیک کیا اور پہلے تو دانت میں چند انجکشن لگائے پھر ایک پلاس کی طرح کی کوئی چیز ہاتھ میں لی، مختلف قسم کے آلات اور چیزوں کی مدد سے مسوڑوں اور دانت کے ساتھ پوری جنگ کرتا رہا اور میں درد کی شدت کی وجہ سے کھبی کرسی کو زور سے پکڑتا تو کھبی اوپر نیچے ہوتا ،آنکھوں میں پانی بھی جمع ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اپنے آپ سے سوال کیا کہ کیوں یہ سب تحمل کر رہا ہوں ؟ کیوں اعتراض نہیں کر رہا ؟ کیوں ڈاکٹر کو چند گالیاں تحفے کے طور پر نہیں دے رہا ؟ کیوں ڈاکٹر کو تھپڑ نھیں مار رہا ؟ بلکہ بعد میں اس کا شکریہ بھی ادا کر رہا تھا اور پوچھ رہا تھا کہ دوبارہ کب آوں اوپر سے اس سارے کام کے ڈاکٹر کو پیسے بھی دیئے کچھ دیر تو سوچتا رہا _______ پھر اچانک مجھے اپنے آپ سے شرم اور خدا سے شرمندگی محسوس ہونے لگی جب میرے اندر سے آواز آئی کہ خان صاحب کیا خدا کو اس ڈاکٹر کے برابر ہی مانتے ہو۔۔۔۔۔؟ ڈاکٹر کو اعتراض نہیں کرتے کیونکہ پتہ ہے کہ اس سارے درد انجکشن ، پلاس اور دوسرے آلات اس تکلیف کا ایک فلسفہ و حکمت ہے اور آخر میں ہمارا اپنا ہی فائدہ ہے پس خدا تو خالق و مالک حکمت ہے حتی پہلے تو ڈاکٹر کو حکیم ہی کہتے تھے اور خدا تو سب سے بڑا حکیم ہے پس یاد رکھیں اسکے کام بھی حکمت سے خالی نہیں ، اگر کوئی درد ،مشکل یا امتحان ہماری طرف آئے تو خدا کی حکمت پر اعتماد کریں اس کا شکریہ ادا کریں اور پوچھیں خدایا دوبارہ ہماری باری کب ہے 💐💐 مجھے بھی درد کی حکمت اس وقت پتہ چلی جب کسی نے بتایا کہ کینسر کے لاعلاج ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسکا درد نھی ہوتا اور جب پتہ چلتا ہے تو اس وقت کافی دیر ہو چکی ہوتی ہے انسان ڈاکٹر کے فہم و درک ، سند اور اس کے تجربہ پر ایمان رکھتا ہے ڈاکٹر کا جتنا تجربہ زیادہ اتنا یقین زیادہ باقاعدہ کلینک کے باہر لکھا ہوتا ہے تجربہ 20 سالہ، 40 سالہ، 60 سالہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ خدا کا تجربہ تو اربوں سالوں سے ہے بلکہ یوں کہوں تو بہتر ہے کہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا ہاں یاد آیا کہ علامہ اقبال کو بھی تو حکیم الامت کہتے ہیں کیونکہ اس نے امت کے دردوں کا صحیح علاج بتایا تھا لیکن ہم لوگوں کو تو وقتی طور پر ڈسپرین یا بروفن چاہیے جو تھوڑی دیر کیلئے اس درد کو دور کر دے چاہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پورے بدن کو ہی خراب کیوں نا کر دے ،

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

سیاح اور ماہی گیر کی سبق آموز کہانی

سیاح اور ماہی گیر کی سبق آموز کہانی

✍🏻ایک سیاح میکسیکو پہنچا، جہاں اس نے مقامی ماہی گیروں کی اعلیٰ مچھلیوں کی تعریف کی اور پوچھا: “انہیں پکڑنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟” ماہی گیروں نے جواب دیا: “زیادہ نہیں!” سیاح نے حیرت سے پوچھا: “پھر تم زیادہ شکار کیوں نہیں کرتے؟ زیادہ مچھلیاں پکڑ کر زیادہ کما سکتے ہو!” ماہی گیروں نے مسکرا کر کہا: “ہمارا یہ شکار ہماری اور ہمارے خاندان کی ضروریات کے لیے کافی ہے۔” سیاح نے مزید پوچھا: “تو باقی وقت میں کیا کرتے ہو؟” انہوں نے جواب دیا: “ہم دیر تک سوتے ہیں، تھوڑا شکار کرتے ہیں، اپنے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہیں، بیویوں کے ساتھ کھاتے ہیں، دوستوں کے ساتھ شام گزارتے ہیں اور خوش رہتے ہیں۔” سیاح جوش سے بولا: “میرے پاس ہارورڈ سے ماسٹرز ہے، میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں! اگر تم زیادہ شکار کرو، زیادہ بیچو، ایک بڑا جہاز خریدو، پھر دوسرا، تیسرا، یہاں تک کہ پورا بیڑہ بنا لو، تو ایک دن اپنی فیکٹری بھی کھول سکتے ہو! پھر گاؤں چھوڑ کر کسی بڑے شہر جاؤ، کاروبار کرو، اور کروڑوں کماؤ!” ماہی گیروں نے پوچھا: “یہ سب کرنے میں کتنا وقت لگے گا؟” سیاح: “بیس، پچیس سال!” ماہی گیر: “اور اس کے بعد؟” سیاح خوش ہو کر بولا: “پھر تم ریٹائر ہو سکتے ہو، کسی ساحلی گاؤں میں جا کر سکون سے زندگی گزار سکتے ہو، دیر تک سو سکتے ہو، بچوں کے ساتھ کھیل سکتے ہو، بیویوں کے ساتھ کھا سکتے ہو، اور شام دوستوں کے ساتھ گزار سکتے ہو۔” ماہی گیروں نے مسکرا کر جواب دیا: “یہ تو ہم ابھی بھی کر رہے ہیں! تو پھر پچیس سال کی مشقت کیوں؟” ⸻ زندگی کی دوڑ میں ہم اکثر خوشی کو ایک ایسی منزل سمجھتے ہیں جو محنت، دولت، اور کامیابی کے بعد ملے گی، مگر کبھی سوچا؟ کیا خوشی وہی نہیں جو ابھی ہمارے پاس ہے؟ ہم اپنی صحت، خاندان، اور آخرت کو پسِ پشت ڈال کر دن رات بھاگ دوڑ میں لگے رہتے ہیں، یہ سوچ کر کہ جب ہمارے پاس سب کچھ ہوگا، تب ہم خوش ہوں گے۔ مگر جب طاقت ختم ہو جائے، جوانی گزر جائے، موت سر پر آ کھڑی ہو، تو پھر وہ خوشی، جس کے لیے سب کچھ قربان کیا، کیا واقعی وہی خوشی ہوگی جس کی ہمیں تلاش تھی؟ زندگی کی خوبصورتی توازن میں ہے۔ نہ بے مقصد بھاگنا، نہ رک کر کھو جانا۔ بس ہر لمحہ جینا اور وہ خوشی محسوس کرنا، جو حقیقت میں ہمیشہ ہمارے قریب ہی تھی۔ ____📝📝📝____ 📌نقل و چسپاں ۔۔۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔۔۔