اداس نہ ہو کیونکہ ۔۔۔۔۔

*ایک دن مولانا رومی رح اپنے گھر تشریف لے گئے اور دیکھا کہ انکا بیٹا اُداس بیٹھا ہے تو انہوں نے دریافت کیا کہ بیٹا اُداس کیوں ہو تو بیٹے نے جواب دیا کہ کچھ نہیں*۔ *اس پر مولانا رومی رح باہر گئے اور ایک بھیڑیے کی کھال اوڑھ کر آئے اور ڈرانے کے لئے غرانے لگ گئے۔ اس پر ان کا بیٹا ہنسا تو انہوں نے فرمایا:* *بیٹا بھیڑیا ایک جنگلی جانور ہے لیکن جب تم نے دیکھا کہ اس کے پیچھے تمہارا باپ تھا تو تم ڈرنے کی بجائے ہنسنے اور مسکرانے لگے، اسی طرح یہ جان لو تمام آزمائشوں اور سختیوں کے پیچھے تمہارا رب ہے۔* *جو تمہیں 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے، وہ تمہیں کسی مشکل سے گزارنا چاہتا ہے تو اس کی حکمت کو تم نہیں سمجھ سکتے لیکن وہ بہتر جانتا ہے،* *وہ تمہیں کچھ سکھانا چاہتا ہے، مضبوط بنانا چاہتا ہے آنے والے وقت کے لئے, اس سے زیادہ سخت آزمائشوں کے لئے, اور جان لو وہ اسی کو آزماتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔* منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں آلات کے ساتھ نہیں

لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں آلات کے ساتھ نہیں

آج میں نے اپنے والد کے ساتھ بینک میں ایک گھنٹہ گزارا تھا، کیونکہ انہیں کچھ رقم منتقل کرنی تھی۔ میں اپنے آپ کو روک نہیں سکا اور پوچھا۔ ''بابا ہم آپ کی انٹرنیٹ بینکنگ کو فعال کیوں نہیں کر دیتے؟'' ’’میں ایسا کیوں کروں گا ؟انہوں نے پوچھا۔ ٹھیک ہے، پھر آپ کو منتقلی جیسی چیزوں کے لیے یہاں ایک گھنٹہ بھی نہیں گزارنا پڑے گا۔ آپ اپنی خریداری آن لائن بھی کر سکتے ہیں سب کچھ اتنا آسان ہو جائے گا!'' میں انھیں نیٹ بینکنگ کی دنیا میں شروعات کے بارے میں بتاتے ہوۓ پر جوش تھا۔ بابا نے پوچھا، ''اگر میں ایسا کروں تو مجھے گھر سے باہر نہیں نکلنا پڑے گا؟ ہاں ہاں''! میں نے کہا۔ میں نے انھیں بتایا کہ سودا سلف بھی اب دروازے پر کیسے ڈیلیور کیا جا سکتا ہے! لیکن ان کے جواب نے میری زبان بند کر دی۔ انہوں نے کہا ''جب سے میں آج اس بینک میں داخل ہوا ہوں، میں اپنے چار دوستوں سے ملا ہوں، میں نے کچھ دیر عملے سے بات چیت کی ہے جو اب تک مجھے اچھی طرح جانتے ہیں۔ تم جانتے ہو کہ میں اکیلا ہوں یہ وہ رفاقت ہے جس کی مجھے ضرورت ہے میں تیار ہو کر بینک آنا پسند کرتا ہوں میرے پاس کافی وقت ہے۔ انہوں نے کہا دو سال پہلے میں بیمار ہوا، دکان کا مالک جس سے میں پھل خریدتا ہوں، مجھے ملنے آیا اور میرے پلنگ کے پاس بیٹھ کر رونے لگا۔ جب تمہاری ماں کچھ دن پہلے صبح کی سیر کے دوران گر گئی تھی ہمارے مقامی گروسر نے اسے دیکھا اور فوری طور پر گھر رابطہ کیا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میں کہاں رہتا ہوں اگر سب کچھ آن لائن ہو جائے تو کیا مجھے وہ 'انسانی' ٹچ ملے گا؟ مجھے صرف اپنے فون کے ساتھ بات چیت کرنے پر مجبور کیوں کیا جائے؟ یہ رشتوں کے بندھن بناتا ہے۔ کیا آن لائن ایپس بھی یہ سب فراہم کرتی ہیں ؟ ٹیکنالوجی زندگی نہیں ہے۔