حضرت ابن عمر رضي اللہ عنہ کا ایک واقعہ

حضرت عبداللہ ابن عمر یا ایک دفعہ سفر پر جا رہے تھے، غالبا حج یا عمرے کا سفر تھا، صاحب حیثیت عربوں کی عادت کے مطابق آپ سفر پر جاتے ہوئے سواری کے اونٹ کے ساتھ ایک خچر نما گدھا بھی لے گئے (عربوں کے گدھے ہمارے ہاں کے گدھوں کی طرح نہیں ہوتے بلکہ ہمارے ہاں کے خچروں کی خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں ) ۔ ہوتا یہ تھا کہ دوران سفر جب اونٹ کی سواری سے اکتا جاتے تو کچھ دیر کے لئے گدھے پر سوار ہو جاتے۔ اس پر پالان بھی تھا راستہ میں ایک غیر معروف مقام پر ایک دیہاتی بدو سامنے آیا ، آپ فوراً اترے اور بڑی عزت سے پیش آئے پھر اپنی پگڑی اٹھائی اور دیہاتی کے سر پر رکھی اور وہ گدھا اس کے سپرد کر دیا، حضرت ابن عمرؓ کے رفقاء اور شاگردوں نے کہا کہ آپ نے ایک دیہاتی کو پوری سواری دے دی ، عمامہ دے دیا ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ صاحب میرے والد کے دوست ہیں اور پھر وہ حدیث پڑھی جس کا مفہوم یہ ہے کہ والد کے ساتھ ایک نیکی یہ بھی ہے کہ ان کے دوستوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔ اور اچھے برتاؤ کا کم از کم درجہ یہ ہے کہ اس کے لئے دعا کرے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب انسان دوسرے کے لئے دعا کرتا ہے تو اللہ کی طرف سے فرشتہ وہاں کھڑا ہوتا ہے اور کہتا ہے : ” ولک مثل ذالک“۔ ہاں تیرے لئے بھی ایسا ہی ہو۔ معصوم فرشتہ جب دعا کرے تو اس کی قبولیت یقینی ہے۔ (کتاب: ماہنامہ فلاح دارین کراچی(نومبر) صفحہ نمبر: ۲۱ انتخاب: اسلامک ٹیوب پرو ایپ)

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

​​عبرت و بصائر

​​عبرت و بصائر

❶ ایک زاہد کا قصہ منقول ہے کہ وہ روٹی کے بغیر سبزی اور نمک وغیرہ کھالیتے ـ کسی نے کہا کہ بس آپ اسی پر گزارہ کرتے ہیں؟ فرمانے لگے میں اپنی دنیا جنت کے لئے بنا رہا ہوں اور تو اسے بیت الخلا کے لئے بناتا ہے، یعنی تو مرغوب کھانے کھا کر بیت الخلا تک پہنچاتا ہے اور میں جو کچھ بھی کھاتا ہوں وہ اس لئے کہ عبادت و طاعت کے لئے سہارا بنے اور آخرکار جنت تک پہنچ سکوں ـ ❷ کہتے ہیں کہ ابراہیم بن ادھم رحمتہ اللہ علیہ حمام میں جانے لگے تو حمام والے نے روک دیا اور کہنے لگا کہ اجرت کے بغیر نہیں جاسکتے ـ آپ رو کر کہنے لگے اے اللہ! شیاطین اور فساق لوگوں کے آنے کا مقام ہے اور مجھے یہاں مفت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملتی تو میں انبیاء اور صدیقین کے مقام یعنی جنت میں کیسے داخل ہوسکوں گاـ؟ ❸ منقول ہے کہ بعض انبیاء علیہم السلام کی آسمانی تعلیمات اور وحی میں یہ بات ملتی ہے کہ اے ابن آدم! تو دوزخ کو بھاری قیمت سے خریدتا ہے مگر جنت کو سستے داموں نہیں لیتا ـ جس کی وضاحت یہ ہے کہ ایک فاسق آدمی اپنے جیسے فاسقوں کی دعوت کرتا ہے اور اس پر سینکڑوں روپے کا خرچ بھی معمولی سمجھتا ہے تو یہ اس کا دوزخ کا سودا ہے جو بھاری قیمت پر حاصل کیا ـ اگر وہ اللہ کی رضا کے لئے ایک درہم خرچ کرکے بعض محتاجوں کی دعوت کرنا چاہے تو اسے شاق گزرتا ہے، جب کہ یہی اس کے لئے جنت کی قیمت تھی ـ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب : تنبیہ الغافلین (صفحہ نمبر ۸۸-۸۹ ) مصنف : نضر بن محمد ابراہیم ابوالیث السمرقندی منتخب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ