سیاح اور ماہی گیر کی سبق آموز کہانی

✍🏻ایک سیاح میکسیکو پہنچا، جہاں اس نے مقامی ماہی گیروں کی اعلیٰ مچھلیوں کی تعریف کی اور پوچھا: “انہیں پکڑنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟” ماہی گیروں نے جواب دیا: “زیادہ نہیں!” سیاح نے حیرت سے پوچھا: “پھر تم زیادہ شکار کیوں نہیں کرتے؟ زیادہ مچھلیاں پکڑ کر زیادہ کما سکتے ہو!” ماہی گیروں نے مسکرا کر کہا: “ہمارا یہ شکار ہماری اور ہمارے خاندان کی ضروریات کے لیے کافی ہے۔” سیاح نے مزید پوچھا: “تو باقی وقت میں کیا کرتے ہو؟” انہوں نے جواب دیا: “ہم دیر تک سوتے ہیں، تھوڑا شکار کرتے ہیں، اپنے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہیں، بیویوں کے ساتھ کھاتے ہیں، دوستوں کے ساتھ شام گزارتے ہیں اور خوش رہتے ہیں۔” سیاح جوش سے بولا: “میرے پاس ہارورڈ سے ماسٹرز ہے، میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں! اگر تم زیادہ شکار کرو، زیادہ بیچو، ایک بڑا جہاز خریدو، پھر دوسرا، تیسرا، یہاں تک کہ پورا بیڑہ بنا لو، تو ایک دن اپنی فیکٹری بھی کھول سکتے ہو! پھر گاؤں چھوڑ کر کسی بڑے شہر جاؤ، کاروبار کرو، اور کروڑوں کماؤ!” ماہی گیروں نے پوچھا: “یہ سب کرنے میں کتنا وقت لگے گا؟” سیاح: “بیس، پچیس سال!” ماہی گیر: “اور اس کے بعد؟” سیاح خوش ہو کر بولا: “پھر تم ریٹائر ہو سکتے ہو، کسی ساحلی گاؤں میں جا کر سکون سے زندگی گزار سکتے ہو، دیر تک سو سکتے ہو، بچوں کے ساتھ کھیل سکتے ہو، بیویوں کے ساتھ کھا سکتے ہو، اور شام دوستوں کے ساتھ گزار سکتے ہو۔” ماہی گیروں نے مسکرا کر جواب دیا: “یہ تو ہم ابھی بھی کر رہے ہیں! تو پھر پچیس سال کی مشقت کیوں؟” ⸻ زندگی کی دوڑ میں ہم اکثر خوشی کو ایک ایسی منزل سمجھتے ہیں جو محنت، دولت، اور کامیابی کے بعد ملے گی، مگر کبھی سوچا؟ کیا خوشی وہی نہیں جو ابھی ہمارے پاس ہے؟ ہم اپنی صحت، خاندان، اور آخرت کو پسِ پشت ڈال کر دن رات بھاگ دوڑ میں لگے رہتے ہیں، یہ سوچ کر کہ جب ہمارے پاس سب کچھ ہوگا، تب ہم خوش ہوں گے۔ مگر جب طاقت ختم ہو جائے، جوانی گزر جائے، موت سر پر آ کھڑی ہو، تو پھر وہ خوشی، جس کے لیے سب کچھ قربان کیا، کیا واقعی وہی خوشی ہوگی جس کی ہمیں تلاش تھی؟ زندگی کی خوبصورتی توازن میں ہے۔ نہ بے مقصد بھاگنا، نہ رک کر کھو جانا۔ بس ہر لمحہ جینا اور وہ خوشی محسوس کرنا، جو حقیقت میں ہمیشہ ہمارے قریب ہی تھی۔ ____📝📝📝____ 📌نقل و چسپاں ۔۔۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔۔۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ایک رات کی کہانی

ایک رات کی کہانی

ایک آدمی نے حاتم طائی سے پوچھا : اے حاتم ! کیا سخاوت میں کوئی تم سے آگے بڑھا ہے ؟ حاتم نے جواب دیا : ہاں ! ... قبیلہ طے کا ایک یتیم بچہ مجھ سے زیادہ سخی نکلا جس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ دوران سفر میں شب بسری کیلیے ان کے گھر گیا ، اس کے پاس دس بکریاں تھیں ، اس نے ایک ذبح کی ، اس کا گوشت تیار کیا اور کھانے کیلئے مجھے پیش کر دیا اس نے کھانے کیلیے مجھے جو چیزیں دیں ان میں مغز بھی تھا، میں نے اسے کھایا تو مجھے پسند آیا میں نے کہا : واہ سبحان اللہ ! کیا خوب ذائقہ ہے ! یتیم بچہ فوراً باہر نکل گیا اور ایک ایک کر کے تمام بکریاں میری لا علمی میں اس نے ذبح کر ڈالیں اور سب کے مغز مجھے پیش کیے جب میں کوچ کرنے لگا تو کیا دیکھا کہ گھر کے ارد گرد ہر طرف خون ہی خون بکھرا پڑا ہے۔ میں نے اس سے کہا : آپ نے تمام بکریاں کیوں ذبح کیں ؟ اس نے کہا : واہ ، سبحان اللہ ! ... آپ کو میری کوئی چیز اچھی لگے اور میں اس پر بخل کروں ، یہ عربوں کی لیے بدترین گالی ہے حاتم سے پوچھا گیا : بدلے میں آپ نے اسے کیا دیا ؟ ... انہوں نے کہا : تین سو سرخ اونٹنیاں اور پانچ سو بکریاں ! ان سے کہا گیا : تو پھر آپ اس سے بڑے سخی ہوئے ! حاتم طائی نے جواب دیا : نہیں ...! وہ مجھ سے زیادہ سخی ہے ، کیونکہ اس نے اپنا سب کچھ لٹا کر سخاوت کی جبکہ میں نے تو اپنے بہت سے مال میں سے تھوڑا سا خرچ کر کے سخاوت کی ہے۔ ___________📝📝📝___________ منقول - ناقل: اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔