تمہارا مقام اور اللہ کی مرضی

کسی بزرگ نے کیا ہی فرمایا : اگر تم یہ جاننا چاہتے ہو کہ اللہ کے نزدیک تمہارا مقام کیا ہے، تو دیکھو وہ تمہیں کس کام میں مشغول رکھتا ہے: اگر وہ تمہیں اپنے ذکر میں مشغول رکھے، تو جان لو کہ وہ تمہیں یاد رکھنا چاہتا ہے۔ اگر تمہیں قرآن میں مصروف کرے، تو سمجھ لو کہ وہ تم سے ہمکلام ہونا چاہتا ہے۔ اگر تمہیں نیک اعمال میں مصروف کرے، تو جان لو کہ وہ تمہیں اپنے قریب کرنا چاہتا ہے۔ اگر دنیاوی معاملات میں الجھائے، تو یہ سمجھو کہ تمہیں دور کر رہا ہے۔ اگر تمہیں لوگوں کے معاملات میں مصروف رکھے، تو یہ جان لو کہ وہ تمہیں بے وقعت کرنا چاہتا ہے۔ اگر دعا میں مشغول کرے، تو یقین کرو کہ وہ تمہیں نوازنا چاہتا ہے۔ اگر فائدہ مند علم میں مصروف کرے، تو وہ چاہتا ہے کہ تم اس کی معرفت حاصل کرو۔ اگر تمہیں جہاد فی سبیل اللہ میں لگائے، تو وہ تمہیں اپنے لیے چننا چاہتا ہے۔ اگر خدمت خلق اور بھلائی کے کاموں میں مشغول کرے ، تو جان لو کہ وہ تمہیں اپنی محبت والے کاموں میں لگا رہا ہے۔ اور اگر تمہیں غیر ضروری کاموں میں مصروف کرے ، تو سمجھو کہ تمہیں اپنی محبت سے نکال رہا ہے۔ اگر تمہیں دین میں تحریف یا ایسے کاموں میں مشغول رکھے جو اسکی نافرمانی کے ہوں تو جان لو کہ وہ تمہیں اپنی محبت سے محروم کر رہا ہے اور اگر تمہیں اپنے بندوں کو تکلیف اور اذیت پہنچانے میں مصروف رہنے دے، تو جان لو کہ تمہیں خیر سے محروم کیا جا رہا ہے لہذا، اپنے حال پر غور کرو کہ تم کس کام میں مشغول ہو، کیونکہ تمہارا مقام وہی ہے جہاں اللہ نے تمہیں مصروف رکھا ہے۔۔ اللّٰه اللّٰه اللّه _____📝📝📝_____ منقول ۔ انتخاب اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

علماء ہی اولیاء ہیں

علماء ہی اولیاء ہیں

یحییٰ بن یحییٰ بیان کرتے ہیں: جب امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا مرضِ الموت طویل ہوا اور وقتِ آخر آنے کو ہوا تو مدینہ منورہ اور دوسرے شہروں سے تمام علماء اور فقہاء امام صاحب کے مکان پر جمع ہو گئے تاکہ امامِ وقت کی آخری ملاقات سے فیض یاب اور ان کی وصیتوں سے بہرہ مند ہوں۔ یحییٰ بن یحییٰ کہتے ہیں: "اس وقت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی عیادت کرنے والے مجھ سمیت ایک سو سے زائد علماء حاضر تھے۔ میں بار بار امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے پاس جاتا اور سلام عرض کرتا تھا تاکہ اس آخری وقت میں امام کی نظر مجھ پر پڑ جائے اور وہ نظر میری سعادتِ اخروی کا ذریعہ بن جائے۔ میں اسی کیفیت میں تھا کہ امام نے آنکھیں کھولیں اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے ہمیں کبھی ہنسایا اور کبھی رلایا، اس کے حکم سے زندہ رہے اور اس کے حکم سے جان دیتے ہیں۔" اس کے بعد خود ہی فرمایا: "موت آگئی اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا وقت قریب ہے۔" حاضرین نے عرض کیا: "اس وقت آپ کے باطن کا کیا حال ہے؟" فرمایا: "میں اس وقت اولیاء اللہ کی مجلس کی وجہ سے بہت خوش ہوں کیونکہ میں اہلِ علم کو اولیاء اللہ گردانتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کو حضرات انبیاء علیہم السلام کے بعد علماء سے زیادہ کوئی شخص پسند نہیں ہے۔ نیز میں اس لیے بھی خوش ہوں کہ میری تمام زندگی علم کی تحصیل اور اس کی تعلیم میں گزری ہے اور میں اس سلسلے میں اپنی تمام مساعی کو مستجاب اور مشکور گمان کرتا ہوں، اس لیے کہ تمام فرائض اور سنن اور ان کے ثواب کی تفصیلات ہمیں زبانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوئیں، مثلاً حج کا اتنا ثواب ہے اور زکوٰۃ کا اتنا، اور ان تمام معلومات کو سوائے حدیث کے طالب علم کے کوئی نہیں جان سکتا اور یہی اصل میں نبوت کی میراث ہے۔" یحییٰ بن یحییٰ کہتے ہیں: اس کے بعد امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے ربیع کی ایک روایت بیان کی کہ "کسی شخص کو نماز کے مسائل بتلانا روئے زمین کی تمام دولت صدقہ کرنے سے بہتر ہے اور کسی شخص کی دینی الجھن دور کر دینا نفلی روزے رکھنے سے افضل ہے۔" اور ابنِ شہاب زہری رحمۃ اللہ علیہ کی روایت سے بتایا: "کسی شخص کو دینی مشورہ دینا کئی غزوات میں جہاد کرنے سے بہتر ہے۔" راوی کہتے ہیں: اس گفتگو کے بعد امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے کوئی بات نہیں کی اور اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی وسیع رحمتوں کا سایہ کرے۔ آمین! (دبستان الحمد، از شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ، ص: ۱۳۹) منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو