تمہارا مقام اور اللہ کی مرضی

کسی بزرگ نے کیا ہی فرمایا : اگر تم یہ جاننا چاہتے ہو کہ اللہ کے نزدیک تمہارا مقام کیا ہے، تو دیکھو وہ تمہیں کس کام میں مشغول رکھتا ہے: اگر وہ تمہیں اپنے ذکر میں مشغول رکھے، تو جان لو کہ وہ تمہیں یاد رکھنا چاہتا ہے۔ اگر تمہیں قرآن میں مصروف کرے، تو سمجھ لو کہ وہ تم سے ہمکلام ہونا چاہتا ہے۔ اگر تمہیں نیک اعمال میں مصروف کرے، تو جان لو کہ وہ تمہیں اپنے قریب کرنا چاہتا ہے۔ اگر دنیاوی معاملات میں الجھائے، تو یہ سمجھو کہ تمہیں دور کر رہا ہے۔ اگر تمہیں لوگوں کے معاملات میں مصروف رکھے، تو یہ جان لو کہ وہ تمہیں بے وقعت کرنا چاہتا ہے۔ اگر دعا میں مشغول کرے، تو یقین کرو کہ وہ تمہیں نوازنا چاہتا ہے۔ اگر فائدہ مند علم میں مصروف کرے، تو وہ چاہتا ہے کہ تم اس کی معرفت حاصل کرو۔ اگر تمہیں جہاد فی سبیل اللہ میں لگائے، تو وہ تمہیں اپنے لیے چننا چاہتا ہے۔ اگر خدمت خلق اور بھلائی کے کاموں میں مشغول کرے ، تو جان لو کہ وہ تمہیں اپنی محبت والے کاموں میں لگا رہا ہے۔ اور اگر تمہیں غیر ضروری کاموں میں مصروف کرے ، تو سمجھو کہ تمہیں اپنی محبت سے نکال رہا ہے۔ اگر تمہیں دین میں تحریف یا ایسے کاموں میں مشغول رکھے جو اسکی نافرمانی کے ہوں تو جان لو کہ وہ تمہیں اپنی محبت سے محروم کر رہا ہے اور اگر تمہیں اپنے بندوں کو تکلیف اور اذیت پہنچانے میں مصروف رہنے دے، تو جان لو کہ تمہیں خیر سے محروم کیا جا رہا ہے لہذا، اپنے حال پر غور کرو کہ تم کس کام میں مشغول ہو، کیونکہ تمہارا مقام وہی ہے جہاں اللہ نے تمہیں مصروف رکھا ہے۔۔ اللّٰه اللّٰه اللّه _____📝📝📝_____ منقول ۔ انتخاب اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ایک نوجوان کی استقامت

ایک نوجوان کی استقامت

سمرقند کے اسی سفر میں ایک عالم ایک نوجوان کو اس عاجز(شیخ پیر ذو الفقار احمد نقشبندی) سے ملانے کے لیے لائے اور بتایا کہ یہ وہ خوش نصیب نو جوان ہے جو روسی انقلاب کے زمانے میں پانچ مرتبہ اذان دے کر کھلے عام نمازیں پڑھتا تھا۔ یہ سن کر اس عاجز کو حیرت ہوئی اور پوچھا: وہ کیسے؟ اس نوجوان نے اپنی پیٹھ پر سے کپڑا ہٹا دیا۔ ہم نے دیکھا تو اس کی پیٹھ کے ایک ایک انچ جگہ پر زخموں کے نشانات موجود تھے ۔ اس عاجز نے پوچھا: یہ کیا معاملہ ہے؟ اس نے اپنی داستان بیان کرنا شروع کی ۔ وہ کہنے لگا: جب میں نے پہلی مرتبہ اذان دی تو پولیس والے مجھے پکڑ کر لے گئے اور خوب مارا۔ میں جان بوجھ کر اس طرح بن گیا جس طرح کوئی پاگل ہوتا ہے۔ وہ جتنا زیادہ مارتے میں اتنا ہی زیادہ ہنستا ۔ ایک وقت میں کئی کئی پولیس والے مارتے مارتے تھک جاتے ، مگر میں اللہ کے نام پر مار کھاتے کھاتے نہ تھکتا ۔ مجھے بجلی کے جھٹکے بھی لگائے گئے ، مگر میں نے برداشت کر لیے۔ مجھے کئی کئی گھنٹے برف پر لٹایا گیا، مجھے پوری پوری رات الٹا لٹکایا گیا ، مجھے گرم چیزوں سے داغا گیا، میرے ناخن کھینچے گئے، مگر میں اس طرح محسوس کرواتا جیسے کوئی پاگل ہوتا ہے۔ میں جان بوجھ کر پاگلوں والی حرکتیں کرتا تھا۔ پولیس والوں نے ایک سال میری پٹائی کرنے کے بعد مجھے پاگل خانے بھجوا دیا۔ وہاں بھی میں نے ایک سال اسی طرح گزارا جتی کہ ڈاکٹر نے لکھ کر دے دیا کہ یہ شخص پاگل ہے، اس کا ذہنی توازن خراب ہے، یہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا ، یہ اپنے آپ میں ہی مگن رہتا ہے۔ لہذا اب اس کو دوباره گرفتار نہ کیا جائے ۔ چنانچہ اس ڈاکٹر کی رپورٹ پر مجھے آزاد کر دیا گیا۔ جب میں باہر آیا تو میں نے ایک جگہ پر چھوٹی سی مسجد نما جگہ بنائی ، میں وہیں دن میں پانچ مرتبہ اذانیں دیتا اور پانچ نمازیں کھلے عام پڑھا کرتا تھا۔ اس عاجز نے بڑھ کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیا اور کہا: اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں ہوتی ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد یہ عاجز اس نوجوان کے چہرے کو بار بار دیکھتا اور اس کی ثابت قدمی پر رشک کرتا رہا۔ ازل سے رچ گئی ہے سر بلندی اپنی فطرت میں ہمیں کٹنا تو آتا ہے مگر جھکنا نہیں آتا (کتاب : ایمان و یقین کے تقاضے۔ صفحہ نمبر : ۱۴۹ - ۱۵۰ از افادات: حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی۔ انتخاب: اسلامک ٹیوب پرو ایپ۔)