حضرت یوسف اور موسیٰ: قرآنی موازنہ اور تدبر

حضرت یوسف کو کنویں میں ڈالا گیا تو حضرت موسی کو بھی پانی میں ڈالا گیا۔ حضرت یوسف مصر میں تھے تو حضرت موسی بھی مصر میں تھے۔ حضرت یوسف نے محل میں زندگی گزاری تو حضرت موسی نے بھی فرعون کے محل میں پرورش پائی۔ حضرت یوسف کو اٹھانے والوں کی بھی اولاد نہیں تھی اور حضرت موسی کو اٹھانے والوں کی بھی اولاد نہیں تھی۔ حضرت یوسف کو اٹھانے والوں نے بھی کہا: عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا کچھ بعید نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔ (سورت یوسف: 21) حضرت موسی کو اٹھانے والوں نے بھی کہا: عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا کچھ بعید نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔ (سورت قصص:9) حضرت یوسف کو اٹھانے والوں کے بارے میں کہا: لَا یَعْلَمُوْنَ وہ جانتے نہیں حضرت موسی کو اٹھانے والوں کے بارے میں بھی کہا: لَا یَشعُرُون انہیں انجام کا پتہ نہیں۔ حضرت یوسف کے بھائیوں نے کہا: اقْتُلُوْا یُوْسُفَ یوسف کو قتل کر ڈالو۔ حضرت موسی کے بارے میں فرعون نے کہا: ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى مجھے چھوڑو تاکہ میں موسی کو قتل کر دوں۔ (سورت قصص:26) یوسف کے بھائیوں نے ایک چال چلی اور وہ ناکام ہوئی ۔ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدً (اے یوسف!) وہ تیرے ساتھ کوئی چال چلیں گے۔ موسی کے خلاف بھی پرورش کرنے والوں نے چال چلی اور ناکام ہوئی: وَمَا كَيْدُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ اور کافروں کی چال کا انجام اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ مقصد تک نہ پہنچ سکیں۔ حضرت یوسف کو بھی جیل میں ایک دوست مل گیا تھا جو بعد میں جیل سے نکالنے کا سبب بنا۔ حضرت موسی کو بھی ایک دوست مل گیا تھا جو مصر سے مدین کی طرف نکالنے کا سبب بنا۔ حضرت یوسف کے بارے میں کہا کہ ہم نے انہیں حکمت اور علم عطا کیا تھا، حضرت موسی کے بارے میں بھی کہا کہ ہم نے انہیں حکمت اور علم عطا کیا تھا۔ حضرت یوسف کو حسن دے کر اور حضرت موسی کو طاقت دے کر آزمایا گیا۔ اتنی گہری مناسبت کے باوجود جب حضرت موسی نے فرعون اور اس کے ماننے والوں کو دعوت دی تو انہوں نے کہا: مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ اور ہم نے یہ بات پچھلے باپ دادوں میں نہیں سنی۔ (قصص: 36) فرعونیوں کی اس بات سے ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے وہ سچ بول رہے ہوں اور واقعی انہیں کچھ پتا نہ ہو اور ان کے باپ دادوں میں کوئی نبی نہ آیا ہو۔ لیکن سورت مومن کی آیت نمبر 34 میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ موسی علیہ السلام پر ایمان لانے والے ایک شخص نے فرعونیوں سے کہا: وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖؕ-حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًاؕ-كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُ اور حقیقت یہ ہے کہ اس سے پہلے یوسف تمہارے(آباء و اجداد) کے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے تھے۔ تب بھی تم ان کی لائی ہوئی باتوں کے متعلق شک میں پڑے رہے۔ پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا کہ ان کے بعد اللہ اب کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح اللہ ان تمام لوگوں کو گمراہی میں ڈالے رکھتا ہے جو حد سے گذرے ہوئے، شکی ہوتے ہیں۔ سبحان اللہ ! کیا ہی خوبصورت انداز ہے! کیا ہی خوبصورت تدبیر ہے ہمارے رب کی! کیا ہی عمدہ طریقے سے قافلہ خیر کی کڑیاں جڑتی ہیں! وقت محدود ہے، قرآن سمندر ہے، موتی بے شمار ہیں، کیسے اور کس کس پہلو سے قرآن میں غور کریں؟ کاش دنیا میں اور کوئی مصروفیت نہ ہوتی، بس صرف رب کے کلام میں غور و فکر کرنا ہوتا۔ اے قرآن اتارنے والے کریم رب! جنت میں ہمیں ضرور اپنے کلام کے مفاہیم سمجھائیے گا تاکہ ہم اس بحر ناپیدا کنار سے سیراب ہو سکے۔ _____📝📝📝_____ منقول ۔ انتخاب اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

دلوں کی فتح

دلوں کی فتح

فتح مکہ کے موقع پر جگہ جگہ آنحضور ﷺ کی رحمة اللعالمینی کے جلوے نظر آتے ہیں، بلکہ واقعہ یہ ہے کہ فتح مکہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہی وہ واقعہ بنا جس نے آپ کے دردمند اور انسانیت نواز دل کو تڑپا دیا، سیرت نگار لکھتے ہیں: سن ٦ ھ میں جو معاہدہ قریش نے نبی سے بمقام حدیبیہ کیا تھا، اس کی ایک دفعہ میں یہ تھا کہ دس سال جنگ نہ ہوگی، اس شرط میں جو قومیں نبی ﷺ کی جانب ملنا چاہیں وہ اودھر مل جائیں اور جو قریش کی جانب ملنا چاہیں وہ ادھر مل جائیں۔ اس کے موافق بنی خزاعہ نبیﷺ کی کی طرف اور بنو بکر قریش کی طرف مل گئے تھے، معاہدہ کو ابھی دو برس بھی نہ پورے ہوئے تھے کہ بنوبکر نے بنو خزاعہ پر حملہ کر دیا، اور قریش نے بھی اسلحہ سے امداد دی عکرمہ بن ابی جہل سہیل بن عمرو، (معاہدہ پر اسی نے دستخط کئے تھے) صفوان بن امیہ (مشہور سرداران قریش) خود بھی نقاب پوش ہوکر مع اپنے حوالی وموالی بنوخزاعہ پر حملہ آور ہوۓ ،ان بے چاروں نے امان بھی مانگی، بھاگ کر خانہ کعبہ میں پناہ لی مگر ان کو ہر جگہ بے دریغ تہہ تیغ کیا گیا، جب یہ مظلوم "الهك إلهك (اپنے خدا کے واسطے ) کہہ کر رحم کی درخواست کرتے تو یہ ظالم ان کے جواب میں کہتے تھے "لا اله اليوم ( آج خدا کوئی چیز نہیں) مظلوموں کے بچے کچے چالیس آدی جنہوں نے بھاگ کر اپنی جان بچائی تھی، نبی ﷺ کی خدمت میں پہنچے اور اپنی مظلومی و بربادی کی داستان سنائی۔ ان واقعات کو سن کر آپ ﷺ کا دل بھر آیا، معاہدے کی پابندی، فریق مظلوم کی دادرسی ، دوستدار قبائل کی آئندہ حفاظت کی غرض سے آپ ﷺ دس ہزار کی جمعیت کے ساتھ مکہ مکرمہ روانہ ہوئے۔ رحمت عامہ راہ میں ابوسفیان بن الحارث بن عبد المطلب اور عبد اللہ بن ابوامیہ آنحضرت ﷺ سے ملے، یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے نبی ﷺ کو سخت ایذائیں دی تھیں، اور اسلام کے مٹانے میں بڑی کوششیں کی تھیں، آنحضرت نے انہیں دیکھا اور رخ پھیر لیا، ام المومنین ام سلمہ نے عرض کی: "یا رسول اللہ ﷺ ابوسفیان آپ کے حقیقی چچا کا بیٹا ہے اور عبداللہ حقیقی پھوپھی (عاتکہ) کا لڑکا ہے، اتنے قریبی تو مرحمت سے محروم نہ رہنے چاہئیں۔ اس کے بعد حضرت علی نے ان دونوں کو یہ ترکیب بتائی کہ جن الفاظ میں برادران یوسف نے معافی کی درخواست کی تھی ، تم بھی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں جا کر انہیں الفاظ کا استعمال کرو، نبی ﷺ کے عفو و کرم سے امید ہے کہ ضرور کامیاب ہو جاؤ گے۔ انہوں نے نبی ﷺ کے حضور میں حاضر ہوکر یہ آیت پڑھی:«قَالُوا تَاللَّهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللَّهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَاطِئِينَ﴾ (يوسف: ۹۱) (انھوں نے کہا کہ خدا کی قسم اللہ ہی نے آپ کو ہم پر ترجیح دی اور ہم ہی خطا کار ہیں) رسول اللہ ﷺ نے جواب میں فرمایا: "لا تثـريـب عـلـيـكـم الـيـوم يغفر الله لكم وهو أرحم الراحمين“. "رسول اللہ ﷺ نے معافی اور امن و حفاظت کا دائرہ اس روز وسیع فرما دیا کہ اہل مکہ میں سے صرف وہی شخص ہلاک ہوسکتا تھا جو خود معافی اور سلامتی کا خواہش مند نہ ہو، اور اپنی زندگی سے بیزار ہو، آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے گا اس کو پناہ ملے گی ، جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے گا وہ محفوظ ہے، جو مسجد حرام میں داخل ہوگا اس کو امن ہے، رسول اللہ ﷺ نے اہل لشکر کو ہدایت فرمائی کہ مکہ میں داخل ہوتے وقت صرف اس شخص پر ہاتھ اٹھا ئیں جو ان کی راہ میں حائل ہو اور ان کی مزاحمت کرے، آپ ﷺ نے اس کا بھی حکم فرمایا کہ اہل مکہ کی جائیداد کے بارے میں مکمل احتیاط برتی جائے اس میں مطلق دست درازی نہ کی جاۓ"۔ فتح مکہ کے روز ایک شخص نے آپ ﷺ سے گفتگو کی تو اس پر کپکپی طاری ہوگئی ، آپ ﷺ نے فرمایا: ڈرو ، نہیں، اطمینان رکھو میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں، میں تو قریش کی ایک ایسی عورت کا لڑکا ہوں جو گوشت کے سوکھے ٹکڑے کھایا کرتی تھی۔ آج تو معافی کا دن ہے جب حضرت سعد بن عبادہ جو انصار دستہ کے امیر تھے، ابوسفیان کے پاس سے گزرے،انہوں نے کہا: "الیوم یوم الملحمة، اليوم تستحل الكعبة، اليوم أذل الله قريشا“ ( آج گھمسان کا دن ہے، اور خونریزی کا دن ہے، آج کعبہ میں سب جائز ہوگا، اللہ تعالی نے قریش کو ذلیل کیا ہے) جب رسول اللہ ﷺ اپنے دستے میں ابوسفیان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے آپ ﷺ سے اس کی شکایت کی اور کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ نے سنا سعد نے ابھی کیا کہا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا کہا ؟ انہوں نے وہ سب دوہرا دیا، سعد کے جملے کو آپ ﷺ نے ناپسند فرمایا اور فرمایا:"اليـوم يـوم الـمـرحـمة، اليوم يعز الله قريشا ويـعـظـم الله الكعبة ( نہیں آج تورحم و معافی کا دن ہے، آج اللہ تعالی قریش کو عزت عطا فرمائے گا، اور کعبہ کی عظمت بڑھاۓ گا) آپ ﷺ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو بلوا بھیجا اور اسلامی پرچم ان سے لے کر ان کے صاحبزادے قیس کے حوالہ کیا، آپ ﷺ نے یہ خیال فرمایا کہ ان کے صاحبزادے کو پرچم دینے کے معنی یہ ہوں گے کہ گویا پر چم ان سے واپس نہیں لیا گیا۔ اس طرح ایک حرف کی تبدیلی (الـمـلـحـمة کے بجاۓ الـمـرحـمة فرمادینے اور ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے تبدیل کر دینے سے (جن میں سے ایک باپ کا تھا دوسرا بیٹے کا) آپ ﷺ نے سعد بن عبادہ (جن کے ایمانی اور مجاہدانہ کارنامے أظهر من الشمس تھے) کی ادنی دل شکنی کے بغیر ابوسفیان کی (جن کی تالیف قلب کی ضرورت تھی دل جوئی کا سامان ایسے حکیمانہ بلکہ معجزانہ طریقہ پر انجام دے دیا جس سے بہتر طریقہ پر تصور میں آنا مشکل ہے، باپ کے بجاۓ ان کے بیٹے کو یہ منصب عطا کر دیا، جس سے ابوسفیان کے زخم خوردہ دل کی تسکین منظور تھی ، دوسری طرف آپ ﷺ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو آزردہ خاطر نہیں دیکھنا چاہتے تھے، جنہوں نے اسلام کے لیے بڑی خدمات انجام دی تھیں‘‘۔ آج کا دن تو سلوک کرنے کا ہے ہوئے اور وہاں جا کر آپ ﷺ نے طواف کیا: جب آپ نے طواف پورا فرمالیا تو عثمان بن طلحہ کو جو کعبہ کے کلید بردار تھے بلوایا، کعبہ کی کلید ان سے لی دروازہ کھولا گیا ، اور آپ ﷺ کعبہ میں داخل ہوئے اس سے پہلے جب آپ ﷺ نے مدینہ ہجرت سے قبل ایک دن یہ کلید طلب فرمائی تھی تو انہوں نے سخت جواب دیا تھا۔ اور آپ ﷺ سے اہانت آمیز گفتگوی کی تھی، اور آپ ﷺ نے حلم اور بردباری سے کام لیتے ہوئے یہ فرمایا تھا: عثمان ! تم یہ کلید کسی وقت میرے ہاتھ میں دیکھو گے، اس وقت میں جسے چاہوں گا اسے یہ دوں گا، اس کے جواب میں انہوں نے کہا تھا: اگر ایسا ہوا تو وہ دن قریش کی بڑی ذلت و تباہی کا ہوگا ، آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں ، اس دن وہ آباد اور باعزت ہوں گے، یہ الفاظ عثمان بن طلحہ کے دل نشیں ہو گئے ، اور انہوں محسوس کیا کہ جیسا آپ ﷺ نے فرمایا ہے ویسا ہی ہوگا - جب آپ ﷺ کعبہ سے باہر تشریف لائے تو کنجی آپ ﷺ کے دست مبارک میں تھی، آپ ﷺ کو دیکھتے ہی حضرت علی کھڑے ہو گئے اور عرض کیا: اللہ آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجے ، آپ ﷺ سقایہ (پانی پلانے کا انتظام) کے ساتھ حجابہ ( بیت اللہ کی دربانی) بھی ہمیں عطافرمائیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا:اليوم يوم البر والوفاء. (آج کا دن تو سلوک کرنے، پورے عطیات دینے کا ہے) پھر عثمان کو بلایا انہیں کو کلید مرحمت فرمائی، اور ارشاد فرمایا کہ جوکوئی تم سے یہ قلید چھینےگا وہ ظالم ہوگا۔ جاؤ تم سب آزاد ہو "خطبہ کے بعد آپﷺ نے مجمع کی طرف دیکھا تو جباران قریش سامنے تھے، ان میں وہ حوصلہ مند بھی تھے جو اسلام کے مٹانے میں سب سے پیشرو تھے، وہ بھی تھے جن کی زبانیں رسول اللہ ﷺ پر گالیوں کا بادل برسایا کرتی تھیں، وہ بھی تھے جن کی تیغ وسنان نے پیکر قدسی کے ساتھ گستاخیاں کی تھیں، وہ بھی تھے جنہوں نے آنحضرت ﷺ کے راستہ میں کانٹے بچھائے تھے، وہ بھی تھے جو وعظ کے وقت آنحضرت ﷺ کی ایڑیوں کو لہولہان کر دیا کرتے تھے۔ وہ بھی تھے جن کے حملوں کا سیلاب مدینہ کی دیواروں سے آ آ کر ٹکراتا تھا، وہ بھی تھے جو مسلمانوں کو جلتی ہوئی ریت پرلٹا کران کے سینوں پر آتش مہریں لگایا کرتے تھے۔ رحمت عالم ﷺ نے ان کی طرف دیکھا اور خوف انگیز لہجہ میں پوچھا ”تم کو کچھ معلوم ہے؟ میں تم سے کیا معاملہ کرنے والا ہوں‘‘۔ یہ لوگ اگر چہ ظالم تھے شقی تھے لیکن مزاج شناس تھے۔ پکار اٹھے کہ "اخ كـريـم وابن أخ كريم“ ( آپ شریف بھائی ہے اور شریف برادرزادہ ہیں) ارشاد ہوا:لا تثـريـب عـلـيـكـم اليوم اذهبوا فأنتم الطلقاء .( تم پر کچھ الزام نہیں جاؤ تم سب آزاد ہو) کفار مکہ نے تمام مہاجرین کے مکانات پر قبضہ کرلیا تھا۔ اب وقت تھا کہ ان کو حقوق دلائے جاتے لیکن آپ نے مہاجرین کو حکم دیا کہ وہ بھی اپنی مملوکات سے دست بردار ہوجائیں ۔ "رؤسائے عرب میں دس شخص تھے جو قریش کے سرتاج تھے، ان میں صفوان بن امیہ جدہ بھاگ گئے عمیر بن وہب نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آ کر عرض کی کہ رئیس عرب مکہ سے جلاوطن ہوا جاتا ہے، آپ ﷺ نے علامت امان کے طور پر اپنا عمامہ عنایت کیا، عمیر جدہ پہنچ کر ان کو واپس لائے حنین کے معرکہ تک اسلام نہیں لائے۔ عبداللہ بن زبعری عرب کا شاعر جو آنحضرت ﷺ کی ہجو کیا کرتا اور قرآن مجید پر نکتہ چینیاں کرتا تھا، نجران بھاگ گیا لیکن پھر آ کر اسلام لایا۔ حارث بن ہشام کی صاحبزادی ام حکیم عکرمہ بن ابو جہل کی زوجہ تھیں، وہ فتح مکہ کے دن اسلام لائیں لیکن ان کے شوہر عکرمہ بن ابو جہل اسلام سے بھاگ کر یمن چلے گئے ،ام حکیم یمن گئیں اور ان کو اسلام کی دعوت دی، اور وہ مسلمان ہو گئے اور مکہ میں آۓ ، آنحضرت ﷺ نے جب ان کو دیکھا تو فرط مسرت سے فورا اٹھ کھڑے ہوئے اور اس تیزی سے ان کی طرف بڑھے کہ جسم مبارک پر چادر تک نہ تھی، پھر ان سے بیعت لی۔ وحشی کو بھی معافی دی گئی جس نے امیر حمزه (أســــــد الله ورسـولـه) کو دھوکہ سے مارا تھا، اور پھرنعش کو بے حرمت کیا تھا۔ دنیا جانتی ہے کہ جنگی قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جا تا ہے، تاریخ عالم کا مطالعہ کرنے والوں کے سامنے یہ حقیقت مخفی نہیں کہ تہذیب و ثقافت کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں نے عام شہریوں کے ساتھ کیا کچھ نہ کیا۔ مارے جانے والوں کی تعداد ان واقعات میں لاکھوں نہیں کروڑوں میں پہنچتی ہے، لیکن اسلام کا سب سے بڑا معرکہ فتح مکہ کا، جس کے بعد (يدخلون في دين الله أفواجاً )کا سماں بندھ گیا، یہ اس کے جستہ جستہ واقعات ہیں ، جو رحمۃ للعالمین ﷺ کی سراپا رحمت ذات کا صدقہ ہیں، پورے معرکہ میں دو ایک واقعات کو چھوڑ کر نہ کسی کا خون بہا، اور نہ کسی کی نکسیر پھوٹی ، رحم دلی اور عام معافی کی اس سے بڑھ کر کوئی تصویر دنیانے نہ دیکھی ہے اور قیامت تک نہ دیکھ سکے گی۔ کتاب : اسوۂ رحمت صاحب کتاب : مولانا بلال عبد الحی حسنی ندوی صفحہ نمبر : ٢٨ تا ٣٩ ناقل مضمون : مولانا انس میمن پالنپوری (اقبال گڑھی)