یومِ عاشورہ کی تاریخی اہمیت

یوم عاشورہ بڑا ہی مہتم بالشان اور عظمت کا حامل دن ہے، تاریخ کے عظیم واقعات اس سے جڑے ہوئے ہیں؛ چناں چہ مورخین نے لکھا ہے کہ:(1) یوم عاشورہ میں ہی آسمان وزمین ، قلم اور حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا۔ (۲) اسی دن حضرت آدم علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کی توبہ قبول ہوئی۔ (۳) اسی دن حضرت ادریس علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا گیا۔ (۴) اسی دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی ہولناک سیلاب سے محفوظ ہو کر کوہ جودی پر لنگر انداز ہوئی۔ (۵) اسی دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل اللہ بنایا گیا، اور ان پر آگ گل گلزار ہوئی۔ (۶) اسی دن حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔ (۷) اسی دن حضرت یوسف علیہ السلام کو قید خانے سے رہائی نصیب ہوئی اور مصر کی حکومت ملی۔ (۸) اسی دن حضرت یوسف علیہ السلام کی حضرت یعقوب علیہ السلام سے ایک طویل عرصے کے بعد ملاقات ہوئی ۔ (۹) اسی دن حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و استبداد سے نجات حاصل ہوئی ۔ (۱۰) اسی دن موسیٰ علیہ السلام پر توریت نازل ہوئی ۔ (11) اسی دن حضرت سلیمان علیہ السلام کو بادشاہت واپس ملی ۔ (۱۲) اسی دن حضرت ایوب علیہ السلام کو سخت بیماری سے شفا نصیب ہوئی۔ (۱۳) اسی دن حضرت یونس علیہ السلام چالیس روز مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے بعد نکالے گئے ۔ (۱۴) اسی دن حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی توبہ قبول ہوئی اور ان کے اوپر سے عذاب ٹلا۔ (۱۵) اسی دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔ (۱۶) اور اسی دن حضرت عیسی علیہ السلام کو یہودیوں کے شر سے نجات دلا کر آسمان پر اٹھایا گیا۔ (۱۷) اسی دن دنیا میں پہلی باران رحمت نازل ہوئی۔ (۱۸) اسی دن قریش خانہ کعبہ پر نیا غلاف ڈالتے تھے۔ (۱۹) اسی دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجة الکبری رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ (۲۰) اسی دن کوفی فریب کاروں نے نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور جگر گوشہ فاطمہ، سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو میدان کربلا میں شہید کیا۔ (۲۱) اور اسی دن قیامت قائم ہوگی ۔ - ( نزہۃ المجالس ۱/ ۳۴۷، ۳۴۸، معارف القرآن پ ۱۱ ۔ آیت ۹۸ - معارف الحدیث (۴/ ۱۶۸) ____📝📝📝____ کتاب : ماہنامہ ارمغان ولی اللہ (جولائی ۔ ۲۰۲۵)۔ صفحہ نمبر : ۱۱ ۔ ۱۲ ۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

📖 قرآن کا اعجاز _____ اور قبول اسلام!!!!

📖 قرآن کا اعجاز _____ اور قبول اسلام!!!!

قبول اسلام کا یہ واقعہ حیرت انگیز بھی ہے اور سبق آموز بھی۔ حیرت انگیز اس اعتبار سے کہ نزول قرآن کو کم و بیش ڈیڑھ ہزار سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی آج تک اس نکتے پر کسی کی نظر نہ جاسکی جو ایک امریکی ڈاکٹر کے قبول اسلام کا محرک بنی اور سبق آموز اس پہلو سے ہے کہ کتاب الٰہی میں غور وتدبر اور تحقیق جستجو بندگان خدا کیلئے ہدایت و معرفت کے دروازے کھولنے اور صراط مستقیم پر گامزن ہونے کا آج بھی اتنا ہی مؤثر ذریعہ ہے جتنا وہ نزول وحی کے وقت تھا۔ امریکہ کے ایک ہسپتال میں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا اور اس واقعے کے زیر اثر امریکن ڈاکٹر مسلمان ہوگیا۔ مذکورہ ہسپتال میں ایک روز ڈلیوری کے دو کیس ایک ساتھ آئے۔ ایک عورت سے لڑکا پیدا ہوا اور دوسری سے لڑکی… جس رات میں ان دونوں بچوں کی ولادت ہوئی اتفاق سے نگران ڈاکٹر موقع پر موجود نہیں تھا‘ دونوں بچوں کی کلائی میں وہ پٹی بھی نہیں باندھی ہوئی تھی جس پر بچے کی ماں کا نام درج ہوتا ہے تو نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں بچے خلط ملط ہوگئے اور ڈاکٹروں کیلئے یہ شناخت کرنا مشکل ہوگیا کہ کس عورت کا کون سا بچہ ہے حالانکہ ان میں سے ایک لڑکی تھی اور دوسرا لڑکا…! ولادت کی نگرانی کرنیوالے ڈاکٹروں کی ٹیم میں ایک مسلمان مصری ڈاکٹر تھا جس کو اپنے فن میں بڑی مہارت حاصل تھی اور امریکن ڈاکٹروں سے اس کی بڑی اچھی شناسائی تھی اور اپنے سٹاف کے ایک امریکی ڈاکٹر سے گہری دوستی تھی۔ دونوں ڈاکٹرز سخت پریشان تھے کہ اس مشکل کا حل کیسے نکالا جائے؟ امریکی غیرمسلم ڈاکٹر نے مصری ڈاکٹر سے کہا کہ تم تو دعویٰ کرتے ہو کہ قرآن ہر چیز کی تبیین و تشریح کرتا ہے ا ور اس میں ہر طرح کے مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے تو اب تم ہی بتاؤ کہ ان میں سے کون سا بچہ کس عورت کا ہے؟ مصری ڈاکٹر نے کہا کہ ہاں قرآن حکیم بے شک ہر معاملے میں نص ہے اور میں اسے آپ کو ثابت کرکے دکھاؤں گا۔ مگر مجھے ذرا موقع دیجئے کہ میں خود پہلے اس معاملے میں اطمینان حاصل کرلوں چنانچہ مصری ڈاکٹر نے باقاعدہ اس مقصد کیلئے مصر کا سفر کیا اور جامع ازہر کے بعض شیوخ سے اس مسئلے میں استفسار کیا اور امریکن دوست ڈاکٹر کے ساتھ کی گئی بات چیت کی روداد بھی پیش کی۔ ازہری عالم نے جواب دیا کہ مجھے طبی معاملات و مسائل میں ادراک حاصل نہیں ہے۔ البتہ میں قرآن کی ایک آیت پڑھتا ہوں۔ آپ اس پر غورو فکر کریں۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو آپ کو اس مسئلے کا حل اس میں مل جائے گا چنانچہ اس عالم نے درج ذیل آیت پڑھ کر سنائی۔ ’’ترجمہ: مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔‘‘ (النساء ۱۱) مصری ڈاکٹر نے اس آیت میں غوروتدبر شروع کردیا اور گہرائی میں جانے پر اسے اس مشکل کا حل بالآخر مل ہی گیا۔ چنانچہ وہ لوٹ کر امریکہ آیا اور اپنے دوست ڈاکٹر کو اعتماد بھرے لہجے میں بتایا کہ قرآن نے ثابت کردیا ہے کہ ان دونوں میں سے کون سا بچہ کس ماں کا ہے۔ امریکن ڈاکٹر نے بڑی حیرت سے پوچھا کہ یہ کس طرح ممکن ہے؟ مصری ڈاکٹر نے کہا کہ ہمیں ان دونوں عورتوں کا دودھ ٹیسٹ کرنے کا موقع دیجئے تو اس معمے کا حل معلوم ہوجائے گا۔ چنانچہ تجزئیے و تحقیق کے نتیجے میں معلوم ہوگیا کہ کون سا بچہ کس عورت کا ہے اور مصری ڈاکٹر نے اپنے غیرمسلم دوست ڈاکٹر کو اس نتیجے سے پورے اعتماد کے ساتھ آگاہ کردیا۔ ڈاکٹر حیران و ششدر تھا کہ آخر یہ کیسے معلوم ہوگیا؟ مصری ڈاکٹر نے بتایا کہ اس تحقیق و تجزئیے کے نتیجے میں جو بات سامنے آئی ہے وہ یہ تھی کہ ''لڑکے کی ماں میں لڑکی کی ماں کے مقابلے میں دوگنا دودھ پایا گیا'' مزید برآں لڑکے کی ماں کے دودھ میں نمکیات اور وٹامنز (حیاتین) کی مقدار بھی لڑکی کی ماں کے مقابلے میں دوگنی تھیں۔ پھر مصری ڈاکٹر نے امریکن ڈاکٹر کے سامنے قرآن کریم کی وہ متعلقہ آیت تلاوت کی (مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے) جس کے ذریعے اس نے اس مشکل کا حل تلاش کیا اور جس عقدے کو حل کرنے میں دونوں ڈاکٹر نہایت پریشان تھے۔ چنانچہ وہ امریکی ڈاکٹر فوراً ایمان لے آیا۔ چنانچہ ایسا ہی ایک واقعہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہٗ کے زمانے میں بھی پیش آیا تھا چودہ سو سال پہلے اسلام نے اس طرح کے پیچیدہ مسائل کو لمحوں میں کس طرح حل کیا تھا اس مقصد کیلئے وہ واقعہ یہاں پیش کیا جارہا ہے:۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے زمانہ خلافت میں دو عورتوں کی ایک جگہ اور ایک ہی رات میں زچگی ہوئی۔ ایک لڑکا اور دوسری لڑکی تھی‘ لڑکی والی نے اپنی لڑکی کو لڑکے والی کے جھولے میں ڈال کر لڑکے کو لے لیا۔ لڑکے والی نے کہا کہ لڑکا میرا ہے یہ مقدمہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے پاس آیا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے حکم دیا دونوں کے دودھ وزن کیے جائیں جس کا دودھ وزنی ہوگا لڑکا اس کا ہوگا..........!!!!