عبرت ناک جرم کی داستان __!!

حضرت مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے زندگی میں 60 حج کیے۔ ایک حج کے موقع پر میں نے مکہ مکرمہ میں غیرمعمولی رش دیکھا، جہاں لاکھوں کا عظیم الشان اجتماع تھا۔ لاکھوں کے اس مجمع کو دیکھ کر میرے دل میں اچانک یہ خیال آیا اور میں نے دل ہی دل میں التجا کی: اے اللہ! اتنے لوگ تیرے گھر آئے ہیں، کیا تو نے ان سب کا حج قبول فرما لیا ہے یا نہیں؟ فرماتے ہیں کہ میں اسی سوچ میں گم سو گیا تو رات کو خواب میں ایک غیبی آواز سنی، کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا: مالک! اللہ نے سب کا حج قبول فرما لیا ہے، سوائے بلخ کے رہنے والے ایک شخص کے، جس کا نام 'محمد بن ہارون بلخی' ہے، اس کا حج قبول نہیں ہوا۔ محمد بن ہارون بلخی کی تلاش حضرت مالک بن دینارؒ فرماتے ہیں کہ اس زمانے میں عرفات و منیٰ میں شہروں اور ملکوں کے لحاظ سے الگ الگ خیمے لگتے تھے (جیسے آج بھی مختلف ممالک کے حجاج کے لیے الگ الگ خیمے اور جھنڈے ہوتے ہیں)۔ صبح ہوتے ہی میں نے اس شخص کی تلاش شروع کر دی۔ میں بلخ کے خیموں کی طرف گیا اور وہاں موجود لوگوں سے محمد بن ہارون کے بارے میں دریافت کیا۔ لوگوں نے جیسے ہی اس کا نام سنا، اس کی تعریفوں کے پل باندھ دیے اور کہنے لگے: "وہ تو نہایت نیک اور عابد شخص ہے۔ وہ 'قائم اللیل' (راتوں کو جاگ کر عبادت کرنے والا) اور 'صائم الدہر' (ہمیشہ روزے رکھنے والا) ہے۔ اگر آپ اسے دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ سامنے پہاڑ کی اوٹ میں تنہا بیٹھا یادِ الٰہی میں مصروف ہوگا، وہ لوگوں سے الگ تھلگ ہی رہتا ہے۔" فرماتے ہیں کہ میں لوگوں کی یہ باتیں سن کر حیران رہ گیا کہ خواب میں مجھے کیا دکھایا گیا اور یہ لوگ اس کی کیسی تعریفیں کر رہے ہیں! میں تجسس اور حیرت کے عالم میں پہاڑ کے پیچھے گیا، تو دیکھا کہ ایک شخص مصلّے پر بیٹھا ہے۔ کثرتِ عبادت اور زہد و تقویٰ کے آثار اس کے چہرے اور وجود سے عیاں تھے، مگر اس کا ایک بازو کٹا ہوا تھا۔ حیرت انگیز مکالمہ اور ندامت کے آنسو : جب اس شخص نے اپنی دو رکعتیں مکمل کر کے سلام پھیرا، تو میں نے آگے بڑھ کر کہا: "السلام علیکم!" اس نے جواب دیا: "وعلیکم السلام! کیا آپ مالک بن دینار ہیں؟" میں دنگ رہ گیا اور دل میں سوچا کہ اس شخص کی بصیرت اور فراست کتنی تیز ہے کہ اس نے مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا! پھر اس نے ایک سرد اور ٹھنڈی سانس بھری اور انتہائی رنجیدہ آواز میں کہنے لگا: "اے مالک! یقیناً آپ کو رات خواب میں یہی بتایا گیا ہوگا کہ میرا حج قبول نہیں ہوا؟" فرماتے ہیں کہ یہ سن کر مجھ پر جیسے بجلی گر پڑی۔ میں نے حیرت سے پوچھا: "بھائی! لوگ تو تیری نیکی اور تقویٰ کی اتنی تعریفیں کر رہے ہیں، اور تیری اپنی بصیرت کا یہ عالم ہے، پھر یہ ماجرا کیا ہے؟" اس نے تڑپ کر کہا: "آپ مجھ سے یہ نہ پوچھیں تو بہتر ہے۔" یہ کہہ کر اس نے زار و قطار رونا شروع کر دیا اور دیر تک روتا رہا۔ میں نے اصرار کرتے ہوئے کہا: "نہیں بھائی، مجھے بتاؤ تو سہی۔" اس نے روتے ہوئے کہا: "آپ سنیں گے تو مجھ سے ناراض ہو جائیں گے۔" میں نے تسلی دی: "میں ناراض نہیں ہوں گا، تم اپنا قصہ بیان کرو۔" عبرت ناک جرم کی داستان : وہ شخص کہنے لگا: "حضور! یہ میرا 24 واں حج ہے۔ 24 سال سے میں مسلسل حج کر رہا ہوں اور ہر سال اللہ کا کوئی نہ کوئی ولی (سچی خواب دیکھ کر) میرے پاس آتا ہے اور یہی کہتا ہے کہ 'جا چلا جا، تیرا کوئی حج قبول نہیں ہوا! میں نے پوچھا: "آخر تم سے ایسا کون سا گناہ سرزد ہوا ہے؟"وہ بولا: "میں اپنی ماں کا نافرمان اور گنہگار ہوں۔ واقعہ یہ ہے کہ اللہ نے مجھے بڑی دولت، زمینیں اور مال و اسباب دیا تھا، لیکن میں عیاش اور بدراہ ہو گیا۔ ایک مرتبہ رمضان المبارک کا مہینہ تھا، عصر کے بعد میری بوڑھی ماں افطاری کی تیاری میں مصروف تھی۔ میں گھر میں داخل ہوا تو شراب کے نشے میں دھت تھا۔ میں نے بدتمیزی سے کہا: 'اماں! مجھے روٹی دے۔' میری ماں نے مجھے اس حالت میں دیکھا تو تڑپ کر کہنے لگی: 'ارے ظالم! کچھ شرم کر، کچھ حیا کر! تو نے خود تو روزہ نہیں رکھا، کم از کم روزہ داروں کا ہی احترام کر لیتا۔'" (یہاں راوی برسبیلِ تذکرہ کہتے ہیں: کتنا بدنصیب ہے وہ بیٹا جس کا باپ اس سے بات کرتے ہوئے ڈرتا ہو کہ نہ جانے یہ آگے سے کیا بدتمیزی کرے گا! اور کتنی مظلوم ہے وہ ماں جو اپنے ہی بیٹے سے بات کرتے ہوئے سہم جائے کہ نہ جانے یہ کس لہجے میں جواب دے گا! وہ اولاد خسارے میں ہے جس سے اس کے بوڑھے ماں باپ کھل کر بات بھی نہ کر سکیں)۔ محمد بن ہارون نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: "جب میری ماں نے مجھے شرم دلائی، تو نشے کے خمار اور غصے میں مغلوب ہو کر میں نے اپنی سگی ماں کو زور دار تھپڑ مار دیا۔ میری ضعیف ماں توازن برقرار نہ رکھ سکی اور پیچھے جلتے ہوئے تندور میں جا گری! یہ دیکھ کر محلے کے لوگوں نے دوڑ کر مجھے ایک کمرے میں بند کر دیا۔ میں ساری رات نشے کی حالت میں وہیں پڑا رہا اور باہر لوگوں کا شور سنتا رہا۔ صبح جب میری آنکھ کھلی، تو میں نے دیکھا کہ میری بیوی اپنا سامان باندھ رہی ہے۔ میں نے پوچھا: 'تم کہاں جا رہی ہو؟' اس نے نفرت سے میری طرف دیکھا اور کہا: 'جو اپنی سگی ماں کا نہ ہو سکا، وہ میرا خاک وفادار ہوگا؟' میں نے گھبرا کر پوچھا: 'میری ماں کہاں ہے؟' وہ رو کر کہنے لگی: 'رات ہی لوگوں نے ان کا جنازہ پڑھا کر انہیں دفن کر دیا۔' میں تڑپ اٹھا اور کہا: 'تم لوگوں نے مجھے کیوں نہیں جگایا؟ مجھے کیوں نہیں بتایا؟' بیوی نے جواب دیا: 'تیری مرتی ہوئی ماں یہ وصیت کر گئی تھی کہ میرے اس ظالم بیٹے کو میرا آخری منہ نہ دیکھنے دینا اور اسے میرے جنازے کے قریب بھی نہ آنے دینا۔'" توبہ کی تڑپ اور حضرت مالک بن دینارؒ کا رد عمل : حضرت مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے اس کے منہ سے یہ ہولناک واقعہ سنا، تو غیرتِ ایمانی میں آ کر میں نے بھی اس کے منہ پر ایک تھپڑ مارا اور کہا: "تو واقعی اسی سلوک کے قابل ہے! تو نے اپنی ماں کے ساتھ اتنی بڑی درندگی کی؟" وہ شخص مزید رویا اور التجا کرنے لگا: "حضور! میرے حق میں دعا فرمائیں کہ میرا مالک مجھ سے راضی ہو جائے۔ جب مجھے ماں کے انتقال کی خبر ملی اور نشہ اترا، تو میں نے اسی وقت کلہاڑی اٹھائی اور اپنا وہ دایاں ہاتھ کاٹ ڈالا جس سے میں نے ماں پر وار کیا تھا۔ میں نے اپنی تمام جائیداد اللہ کی راہ میں خیرات کر دی۔ آج 24 سال ہو گئے ہیں، میں سارا دن روزہ رکھتا ہوں، ساری رات رو رو کر نمازیں پڑھتا ہوں اور ہر سال حج کرتا ہوں، مگر ہر بار یہی جواب ملتا ہے کہ تیرا کوئی عمل قبول نہیں۔ حضور! دعا کیجیے کہ میرا رب مجھ سے راضی ہو جائے۔" حضرت مالک بن دینارؒ فرماتے ہیں کہ میں غصے اور افسوس میں وہاں سے چلا آیا اور کہا: "تجھ جیسے ظالم سے اللہ کیسے راضی ہو سکتا ہے!" رحمتِ الٰہی کی جھلک اور بشارت : حضرت مالک بن دینارؒ فرماتے ہیں کہ اس رات جب میں مکہ میں سویا، تو خواب میں مجھے کائنات کے سرور، نبی کریم ﷺ کا دیدار نصیب ہوا۔ آپ ﷺ نے مجھ سے (عتاب آمیز محبت کے لہجے میں) فرمایا: "مالک! تم اس بندے کو مایوس کیوں کر آئے ہو؟ اللہ تبارک وتعالیٰ تو بڑا غفور و رحیم اور مہربان ہے۔" میں نے ادب سے عرض کی: "یا رسول اللہ ﷺ! وہ اپنی ماں کا قاتل اور سخت نافرمان ہے، اسے معافی کیسے مل سکتی ہے؟"تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مالک! جاؤ اور اسے خوشخبری دے دو کہ قیامت کے دن اسے اس کی اسی ماں کی وجہ سے بخش دیا جائے گا۔" میں نے حیرت سے پوچھا: "حضور! ماں کی وجہ سے کس طرح؟" محبوبِ خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا: "قیامت کے دن اس کی ماں ربِ کریم کی عدالت میں اپنے بیٹے کے خلاف مقدمہ پیش کرے گی۔ وہ کہے گی: 'اے میرے پروردگار! میں نے نو ماہ اسے اپنے پیٹ میں رکھا، دردِ زہ سہہ کر اسے جنا، اپنے جگر کا خون (دودھ) پلا کر اسے پالا پوسا، لیکن اس نے مجھے زندہ تندور میں جلا کر مار ڈالا۔' ربِ ذوالجلال ماں کی یہ بپتا سن کر جلال میں فرمائے گا: 'اس گنہگار کو پکڑو اور دوزخ کی آگ میں جھونک دو! اس نے دنیا میں ماں کو جلایا تھا، آج اسے جہنم کی آگ میں جلاؤ۔'" نبی پاک ﷺ نے فرمایا: "جب فرشتے محمد بن ہارون کو پکڑ کر جہنم کی طرف گھسیٹ رہے ہوں گے، تو وہ مڑ کر حسرت سے اپنی ماں کی طرف دیکھے گا۔ فرشتے اسے دوبارہ گھسیٹیں گے، وہ پھر مڑ کر ماں کو دیکھے گا۔ جب تیسری بار اسے گھسیٹا جائے گا، تو وہ تڑپ کر پکارے گا: 'اماں! دیکھ یہ مجھے آگ میں جلانے لے جا رہے ہیں، اماں! یہ مجھے جہنم میں پھینک رہے ہیں!'" میرے حبیب ﷺ نے فرمایا: "اپنے بیٹے کی یہ آہ و پکار سن کر، وہ دنیا میں جل کر مرنے والی ماں تڑپ اٹھے گی اور مامتا کے جوش میں الٰہی کی بارگاہ میں التجا کرے گی: 'یا اللہ! یہ میرا ہی بچہ ہے، میں نے اسے معاف کیا، تو بھی اسے معاف فرما دے! اے میرے اللہ! میں نے اپنا حق بخشا، تو بھی اسے بخش دے!'" چنانچہ ماں کی اس سفارش پر اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے گا۔ درسِ حیات: سبحان اللہ! ماں باپ کی محبت جیسی بے غرض اور بے لوث محبت کائنات میں کسی انسان کی نہیں ہو سکتی۔ ماں دنیا میں بھی تڑپتی ہے اور آخرت میں بھی اس کا دل اولاد کے لیے پگھل جاتا ہے۔ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ اپنے والدین کی زندگی میں ان کی قدر کریں، ان کے سامنے اف تک نہ کہیں، ان کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھیں۔ یاد رکھیے، اگر یہ سائبان سر سے اٹھ گیا، تو پھر دنیا کی کوئی دولت ان کا متبادل نہیں بن سکتی۔ اللہ پاک اس واقعے کو ہمارے دلوں میں اثر پذیری کا ذریعہ بنائے۔ والدین کی قدر اور خدمت کی خوب خوب توفیق عطا فرمائے۔آمین! ۔ ۔ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

خواص میں نرم مزاجی کی ضرورت واہمیت

خواص میں نرم مزاجی کی ضرورت واہمیت

اہل علم اور خواص کے طبقہ میں نرم مزاجی اور نرم خوئی از حد ضروری ہے۔ سخت لب ولہجہ میں بات کرنا اور کسی بات پر ناراض ہونا اگر تربیت اور اصلاح کے جذبہ سے ہو تو ظاہر ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے، تاہم اگر اس کا منشا محض اپنے غصہ کی تسکین اور اپنے دل کی بھڑاس نکالنا ہو تو یہ علماء اور خواص کی شان کے خلاف ہے۔ عامی آدمی سے اگر ایسی بات صادر ہو جائے جو خواص کی طبیعت اور مزاج کے خلاف ہو تو فوراً مشتعل نہیں ہونا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ عام طور پر ایک عامی اور جاہل آدمی کا انداز گفتگو عامیانہ ہوتا ہے، اس کو علماء اور خواص کے ساتھ گفتگو کے آداب معلوم نہیں ہوتے ہیں ، اب اگر خواص بھی اس سے الجھ جائیں تو وہ عامی آدمی جو ایک عالم دین سے رجوع ہوا تھا، خواہ اس کا مقصد کچھ بھی رہا ہو، دنیوی مقصد ہو یا اخروی، جب عالم اس سے غیر سنجیدہ گفتگو کرے گا، اور اس کی جانب سے ناگوار بات پیش آنے پر درشت اور کرخت لہجہ اختیار کرے گا تو ظاہر ہے کہ وہ عامی آدمی اس سے دور اور نفور ہو جائے گا، اور اس عالم دین سے دوبارہ ملاقات کرنے اور اس کی بافیض صحبت سے فائدہ اٹھانے سے کترائے گا ، اس کے برخلاف اگر عالم دین اس کی جانب سے پیش آنے والی خلاف طبیعت بات پر صبر وتحمل سے کام لے، اور اس کی غیر سنجیدہ گفتگو کے جواب میں سنجیدہ اور نرم انداز میں گفتگو کرے تو ایک تو اس کو علماء اور خواص کی جانب سے اچھا اور مثبت پیغام جائے گا ، دوسرے علماء اور خواص کا یہ کریمانہ اور شریفانہ برتاؤ اس کو متاثر کیے بغیر نہیں چھوڑے گا، چناں چہ کیا معلوم کہ وہ اس سے متاثر ہو کر علماء کی ہم نشینی اور خواص کی صحبت کو لازم پکڑلے، اور اس کی دنیا و آخرت دونوں سنور جائیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ دیگر علماء تک اس پیغام خاص کو پہنچا کر ثواب دارین حاصل کریں۔ ____________🌹🌹____________ (کتاب : ماہنامہ زاد السعید کراچی (نومبر) صفحہ نمبر : ۲۸ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ)