مولوی...

یہ وہ شخص ہے جسے اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، مگر جب غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی خدمات ہماری زندگی کے ہر موڑ پر موجود ہیں۔ انسان کی زندگی کا آغاز بھی مولوی کے ساتھ اور اختتام بھی مولوی کے ساتھ قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے نہیں بنتیں... قومیں کردار سے بنتی ہیں... اور کردار بنانے والوں میں مولوی کا مقام ہمیشہ بلند رہا ہے۔ سردیوں کی یخ بستہ رات ہو... کہرے میں لپٹی ہوئی فجر ہو... گرمی کی تپتی دوپہر ہو... یا بارش کی اندھیری رات... محلے کے اکثر لوگ اپنے بستروں میں آرام سے سو رہے ہوتے ہیں، مگر مسجد کا ایک چراغ پھر بھی روشن ہوتا ہے... اور اس چراغ کے نیچے ایک مولوی بیٹھا ہوتا ہے ایک ڈاکٹر جسم کا علاج کرتا ہے... ایک انجینئر عمارت بناتا ہے... ایک تاجر بازار چلاتا ہے... مگر ایک مولوی نسلوں کی سوچ بناتا ہے... اگر مولوی یہ کام چھوڑ دے تو شاید کچھ عرصہ بعد عمارتیں تو کھڑی رہیں... مگر انسانیت گرنے لگے... معاشرہ بکھرنے لگے... اور رشتوں کی بنیادیں کمزور ہونے لگیں... اگر لاکھوں لوگ دین کی بنیادی باتیں جانتے ہیں... تو اس میں کسی نہ کسی مولوی کی محنت ضرور شامل ہے۔ کچی بستیوں میں... صحراؤں میں... پہاڑوں میں... جہاں کوئی سرکاری ملازم جانے کو تیار نہیں ہوتا... وہاں بھی ایک مسجد ہوتی ہے... اور اکثر اس مسجد میں ایک مولوی موجود ہوتا ہے... جو معمولی تنخواہ پر پوری بستی کی دینی ضرورتیں پوری کر رہا ہوتا ہے... اختلافات ہو سکتے ہیں، آراء مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ اس ملک کی آزادی، دینی شناخت اور مذہبی شعور کی حفاظت میں علماء کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ انصاف سے بتائیے: اگر ایک دن کیلئے تمام مولوی حضرات اپنی خدمات بند کر دیں تو معاشرے پر کیا اثر پڑے گا؟ مگر صد افسوس کہ اس ملک کے بجٹ میں مولویوں کیلئے کچھ نہیں ہے ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے... اگر آپ کا بیٹا ایک دن کہے: "ابو! مجھے بھی مولوی بننا ہے..." تو کیا آپ خوش ہوں گے؟ اور اگر جواب "نہیں" ہے... تو پھر خود سے ایک سوال ضرور کیجیے... آخر ہم نے اس طبقے کے ساتھ ایسا کیا کیا کہ لوگ اسے عزت تو دیتے ہیں... مگر اس جیسی زندگی اپنے بچوں کیلئے پسند نہیں کرتے...؟

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

یہ کالا نشان کیوں ہے؟

یہ کالا نشان کیوں ہے؟

امام زین العابدین رحمہ اللہ الله کو اللہ تعالیٰ نے بہت خوبصورت جسم عطا کیا تھا۔ جب ان کی وفات ہوئی اور غسال ان کو نہلانے لگا تو اس نے دیکھا کہ ان کے کندھے کے اوپر ایک کالا نشان ہے۔ اس کو سمجھ نہ آسکی کہ یہ کالا نشان کیوں ہے؟ اہل خانہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے بھی کہا کہ ہمیں پتہ نہیں ہے۔ جب کچھ دن گزر گئے تو وہاں کے ضعفا اور معذوروں کے گھروں سے آواز آئی ، وہ کہاں گیا جو ہمیں پانی پلایا کرتا تھا ؟ پھر پتہ چلا کہ رات کے اندھیرے میں امام زین العابدین رحمہ اللہ پانی کی بھری ہوئی مشک اپنے کندھے کے اوپر لے کر ان کے گھروں میں پانی مہیا کیا کرتے تھے اور اس راز کو انہوں نے اس طرح چھپائے رکھا کہ زندگی بھر کسی کو پتہ بھی نہ چلنے دیا۔(البدایہ والنہایہ : ۱۳۳۹، حلیۃ الاولیاء : ۱۳۶۳) یہ ہے ایمانی زندگی کہ انسان دوسرے کی خدمت بھی کر رہا ہے ، ہمدردی بھی کر رہا ہے، مگر اس سے صرف (شکریہ) کا بھی طلب گار نہیں ہے۔ وہ انسانیت کی خدمت فقط اللہ رب العزت کی رضا کے لیے کر رہا ہے۔