اللہ تعالٰی کے سوا کسی اور کو رحْـمٰن کہنا جائز نہیں :

----------------------------------------- "رحْـمٰن" کا لفظ اللہ تعالٰی کے سوا کسی اور کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ہے،بلکہ حرام ہے ـ اگر کوئی شخص کسی انسان کو رحْـمٰن کہے تو یہ شرک ہے، کیوں کہ اللہ تبارک و تعالٰی کے سوا کوئی شخص ایسا نہیں ہوسکتا جس کی رحمت اتنی وسیع ہو،لٰہذا کسی اور کو رحمن یا اَلرَّحْـمٰن کہنا جائز نہیں ـ اسی سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ آج کل ہمارے معاشرے میں جو غلط رواج پڑ گیا ہے کہ کسی کا نام اگر عبدالرحمن ہے تو اس کو مخفف ( abbreviate) کرکے رحمن صاحب! کہہ دیا جاتا ہے،یہ بہت غلط بات ہے ـ رحمن کا لفظ اللہ تبارک و تعالٰی کی ذات کے علاوہ کسی اور کے لیے استعمال نہیں ہوسکتا،لٰہذا اگر کسی کا نام عبدالرحمن ہے تو اس کا نام پورا عبدالرحمن ہی لینا چاہیے، صرف رحمن کہہ کر اس کو خطاب کرنا یا اس کا حوالہ دینا درست نہیں اور اندیشہ ہے کہ غیر ارادی طور پر خدانخواستہ یہ انسان کو کہیں شرک کے قریب نہ لے جائے ـ اللہ تعالٰی اس سے ہم سب کو بچائے ـ لہذا اس سے بہت زیادہ بچنے کی ضرورت ہے ـ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے وہ نام یا وہ صفات جو صرف اللہ تعالٰی کے ساتھ خاص ہیں،جیسے الغفار،القہار،الخالق وغیرہ،اُن میں بھی یہ احتیاط رکھنی چاہیے، مثال کے طور پر اگر کسی کا نام عبدالخالق ہو تو اسے صرف خالق کہہ کر بلانا درست نہیں ہے ـ رحیم کا لفظ البتہ اس معاملے میں رحمن سے مختلف ہے،کیوں کہ رحیم کے معنٰی ہوتے ہیں جس کی رحمت مکمل اور پوری ہو ـ چونکہ یہ وصف کسی انسان میں بھی اللہ تعالٰی کی تخلیق کی وجہ سے ہوسکتا ہے کہ جب کوئی انسان کسی انسان کے ساتھ رحم کا معاملہ کرے تو مکمل رحم کا معاملہ کرے،لٰہذا رحیم کا لفظ اللہ تعالٰی کے علاوہ کسی فرد کے لیے استعمال کرنا جائز ہے ـ خود قرآن کریم نے کہا ہے : لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّـمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْـمٌ ● ترجمہ: لوگو تمہارے پاس ایک ایسا رسول آیا ہے جو تمہی میں سے ہے،جس کو تمہاری ہر تکلیف بہت گراں معلوم ہوتی ہے،جسے تمہاری بھلائی کی دُھن لگی ہوئی ہے،جو مومنوں کے لیے انتہائی شفیق،نہایت مہربان ہے ـ یہاں پر حضور نبی کریم ﷺ کو رحیم فرمایا گیا ہے،جس کا مطلب ہے کہ آپ رحم کرنے والے ہیں اور آپ کی رحمت جس پر بھی ہے پوری ہے،لٰہذا اس سے ثابت ہوا کہ کسی انسان کے لیے بھی رحیم کا لفظ استعمال ہوسکتا ہے،اگرچہ اس کا صحیح اور حقیقی مصداق اللہ تعالٰی ہی ہیں،لیکن اپنے لغوی معنی میں اس کو غیرُاللہ کے لیے استعمال کرنا بھی جائز ہے ـ (ماہنامہ البلاغ جنوری 2024 ص نمبر ۱۳،۱۴)

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

مریم اور حارث کی دوڑ (سطحی فیصلوں سے بچاؤ)

مریم اور حارث کی دوڑ (سطحی فیصلوں سے بچاؤ)

پہلی بار کوئی موٹیویشنل تحریر دل کو لگی ۔۔۔۔۔آپ بھی استفادہ کریں ۔ "مریم نے 1 گھنٹے میں 10 کلو میٹر فاصلہ طے کیا حارث نے ڈیڑھ گھنٹے میں یہی فاصلہ طے کیا... دونوں میں سے کون تیز رفتار اور صحت مند ہوا ؟ یقیناً ہمارا جواب ہوگا... "مریم " اگر ہم کہیں کہ مریم نے یہ فاصلہ ایک تیار ٹریک پر طے کیا جب کہ حارث نے ریتیلے راستے پر چل کر طے کیا تب؟ تب ہمارا جواب ہوگا... "حارث" لیکن ہمیں معلُوم ہوا کہ مریم کی عُمر 50 سال ہے جب کہ حارث کی عُمر 25 سال تب؟ ہم دوبارہ کہیں گے کہ "مریم " مگر ہمیں یہ بھی معلُوم ہوا کہ حارث کا وزن 140 کِلو ہے جب کہ مریم کا وزن 65 کِلو تب؟ تب ہم کہیں گے "حارث" جُوں جُوں ہم مریم اور حارث سے متعلق زیادہ جان لیں گے اُن میں سے کون بہتر ہے تو اُن سے متعلق ہماری رائے اور فیصلہ بھی بدل جائے گا. ہم بہت سطحی چیزیں اور بہت جلدی میں رائے قائم کرتے ہیں جِس سے ہم خُود اور دُوسروں کے ساتھ اِنصاف نہیں کر پاتے ہیں. اِسی طرح خُود کو دُوسروں کے ساتھ تقابل کرتے ہوئے ہم میں سے بہت سارے مایُوس ہو جاتے ہیں حالانکہ ہر ایک کا ماحول مختلف ہوتا ہے... مواقع مختلف ہوتے ہیں... زِندگی مختلف ہوتی ہے... وسائل مختلف ہوتے ہیں... مسائل مختلف ہوتے ہیں. آپ اپنے کِسی ہم عُمر سے کِسی کام میں پیچھے ہیں تو اِس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کامیاب اور آپ ناکام ہیں' وہ افضل اور آپ کمتر ہیں... مُمکن ہے آپ کو مُیسر مواقع اور درپیش حالات کو دیکھا جائے تو آپ اُن سے بہت بہتر ہوں... زِندگی کی دوڑ میں خود کو کبھی کمتر نہ سمجھیں' احساس کمتری شکست کی پہلی سیڑھی ہے..!! " _____📝📝📝_____ منقول ۔ انتخاب اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔