عربی اَدب سے ایک حکایت

ایک آدمی کئی راتیں سخت سردی میں آرام سے سوتا رہا۔ایک دن کسی راہگیر نے گزرتے ہوئے اسے کہا : " میں تمہیں ایک گرم رضائی لا کر دوں گا"!! وہ راہگیر اپنی منزل کو چلا گیا اور رضائی لانے کا وعدہ بھول گیا ، بوڑھا آدمی اس کا انتظار کرتے ہوئے سردی سے مر گیا۔لوگوں کو اس کی لاش کے پاس ایک مخطوط رقعہ ملا۔اس پر یہ الفاظ لکھے تھے : " میں نے تمہارے آنے سے پہلے کئی رات سردی برداشت کی کیونکہ میرے پاس کوئی اور آسرا نہیں تھا مگر تمہاری بات نے مجھے ایک امید دلا کر اسے میرا آسرا بنا دیا اور میں نے تم پر امید لگا کر اپنی قوت کھو دی۔چناچہ...سردی نے مجھے مار ڈالا"۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی بات اور وعدے کو ہمیشہ پورا کرو۔اور جب بولو تو الفاظ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرو۔اگر تمہاری امید کسی کو تسلی اور سہارا دے سکتی ہے تو اسے توڑ بھی سکتی ہے۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

یہ کالا نشان کیوں ہے؟

یہ کالا نشان کیوں ہے؟

امام زین العابدین رحمہ اللہ الله کو اللہ تعالیٰ نے بہت خوبصورت جسم عطا کیا تھا۔ جب ان کی وفات ہوئی اور غسال ان کو نہلانے لگا تو اس نے دیکھا کہ ان کے کندھے کے اوپر ایک کالا نشان ہے۔ اس کو سمجھ نہ آسکی کہ یہ کالا نشان کیوں ہے؟ اہل خانہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے بھی کہا کہ ہمیں پتہ نہیں ہے۔ جب کچھ دن گزر گئے تو وہاں کے ضعفا اور معذوروں کے گھروں سے آواز آئی ، وہ کہاں گیا جو ہمیں پانی پلایا کرتا تھا ؟ پھر پتہ چلا کہ رات کے اندھیرے میں امام زین العابدین رحمہ اللہ پانی کی بھری ہوئی مشک اپنے کندھے کے اوپر لے کر ان کے گھروں میں پانی مہیا کیا کرتے تھے اور اس راز کو انہوں نے اس طرح چھپائے رکھا کہ زندگی بھر کسی کو پتہ بھی نہ چلنے دیا۔(البدایہ والنہایہ : ۱۳۳۹، حلیۃ الاولیاء : ۱۳۶۳) یہ ہے ایمانی زندگی کہ انسان دوسرے کی خدمت بھی کر رہا ہے ، ہمدردی بھی کر رہا ہے، مگر اس سے صرف (شکریہ) کا بھی طلب گار نہیں ہے۔ وہ انسانیت کی خدمت فقط اللہ رب العزت کی رضا کے لیے کر رہا ہے۔