خُدا کی کبریائی:

​پاکیزہ ہے وہ ذات جس نے سب مخلوقات کو فناء کرنے کا فیصلہ فرمایا ہے ـ اس حیثیت سے بادشاہ اور غلام سب اس کے نزدیک برابر ہوئے ـ صرف خود کو بقاء کے ساتھ منفرد کیا اور قدامت میں بھی اپنے آپ کو واحد رکھا ـ اپنی قدرتوں کو دنیا وغیرہ میں جیسے چاہا استعمال فرمایا ـ سب کی حاجت مندی اس کے سامنے ظاہر ہوئی چاہے کوئی نیک تھا یا بد،گمراہ تھا یا ہدایت پر ـ يَسْاَلُـهٝ مَنْ فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۚ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِىْ شَاْنٍ (سورہ الرحمن ۲۹) ترجمہ: آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں اسی سے (اپنی حاجتیں) مانگتے ہیں، وہ ہر روز کسی شان میں ہے۔ وہ بڑا فیاض ہے' اس کی عطاء نے سب کو ڈھانپ رکھا ہے' یہ گناہگار کہاں بھاگ سکے گا؟ گم گشتہ راہ کی تلافی کون کرے گا؟ کتنی بار ضامن سے قضاء مقابلہ کرچکی ہے ـ کتنے مردود لوگوں کو اپنی بارگاہ میں حاضری کی توفیق بخشی ہے ـ انسانوں کی قسمت میں گناہگاروں کو کتنا غافل کردیا ہے'انہی میں سے کوئی بدبخت بنا کوئی نیک بخت ـ إحدى وسِتُّون لو مرَّت علی حجرٍ لکان من حُکمھا أن یَخلَقَ الحجرُ تُــؤمِـلُ النّــفـسُ آمــالاً لـتبلُـغَـھَا کأنـھـا لا تــری مـا یــصنَـعُ الـقدر ترجمہ : (❶) اگر اکسٹھ برس کسی پتھر کو بھی گزر جائیں تو وہ بھی بوسیدہ پتھر شمار ہوگا ـ (❷) نفس بہت سی امیدوں تک پہنچنے کی امید میں ہے،گویا کہ اس کو یہ خبر نہیں کہ تقدیر کیا کرنے والی ہےـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب  :  آنسوؤں کا سمندر           (صفحہ نمبر ۱۹۳)  مصنف :  امام ابن جوزی رح ترجمہ  :  مولانا مفتی امداد اللہ انور صاحب

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

جماعت اور مسجد کا اہتمام

جماعت اور مسجد کا اہتمام

مجھے یاد ہے کہ دیوبند میں جب میری عمر تقریباً دس بارہ سال تھی ، ایک دن فجر کی نماز کے وقت سخت آندھی موسلا دھار بارش اور گرج چمک کی بنا پر والد صاحب ( مفتی محمد شفیع صاحب ) مسجد تشریف نہ لے جاسکے اور نماز گھر میں ہی ادا فرمائی، اُدھر دادا ابا جو مسجد کے عاشق اور نماز باجماعت کے شیدائی تھے، اسی حالت میں پائینچے چڑھا کر مسجد کی جانب روانہ ہو گئے، اور والد ماجد کو بارش کی وجہ سے ان کے جانے کا پتہ نہ چل سکا، دادا ابا جب مسجد پہونچے تو دیکھا کہ بجز مؤذن کے کوئی دوسرا شخص موجود نہیں ہے، خیر مؤذن کے ساتھ دو آدمیوں کی جماعت ہوئی ، اور بعد نماز جب دادا ابا گھر لوٹنے لگے تو سب محلے والوں کو ان کے گھروں سے اٹھا کر ساتھ لیتے ہوۓ سخت غصے میں گھر پہنچے، اور والد صاحب کو بلا کر سب کے سامنے اس قدر ڈانٹا کہ والد صاحب اور سب محلے والے دم بخود رہ گئے، اور فر مایا: افسوس ہے کہ مجھے اپنی زندگی میں ایسا دن دیکھنا پڑا ، جس کی مجھ کو تم سے توقع بھی نہیں تھی، آج اگر میں نہ پہونچتا تو مسجد ویران ہو جاتی ، اور جماعت نہ ہوتی ، میرے بعد تو تم اس مسجد کو ویران ہی کر دو گے، مجھے افسوس تو سب پر ہے لیکن سب سے زیادہ اپنے اس بیٹے نمونے کے انسان حصہ اول پر ہے، اور بھی نہ جانے کیا کیا کہا؟ دادا ابا کو دنیا میں والد صاحب سے بڑھ کر کوئی عزیز نہ تھا، مگر ترک جماعت پر اس قدر گرفت فرمائی اور تمام محلہ والوں اور چھوٹی اولاد کے سامنے، پھر بھی حضرت والد صاحب کی انتہائی سعادت مندی تھی کہ انہوں نے ذرا بھی نا گواری کا اظہار نہیں فرمایا ، بلکہ ندامت اور شرمندگی کا اظہار کرتے ہوۓ سب کے سامنے معافی مانگی ، بعد میں فرمایا کرتے تھے کہ اگر اس دن اتنی لتاڑ نہ پڑتی تو عمر بھر احساس نہ ہوتا کہ ہم سے کوئی غلطی سرزد ہوئی تھی ۔ (البلاغ مفتی اعظم نمبر ۔ ج ۲ ص ۱۰۶۹) ___________📝📝___________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ۔