نوکری چھوڑ نے کے پانچ اسباب

بادشاہ نے غلام سے پوچھا ۔۔ تم نوکری چھوڑ کر کیوں جا رہے ہو ؟ غلام نے بولا ۔۔ پانچ اسباب ہیں ۔۔ پہلا سبب یہ ہے آپ بیٹھے رہتے ہیں , میں آپ کے سامنے کھڑا رہتا ہوں جبکہ جس کی میں بندگی کرتا ہوں وہ اپنی نماز میں بھی بیٹھنے کا حکم دیتا ہے ۔۔ دوسرا سبب یہ ہے آپ جب کھانا کھاتے ہیں میں آپ کی کُرسی کے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑا آپ کو کھاتے ہوئے دیکھتا رہتا ہوں جبکہ میرا رب مجھے کھلاتا ہے خود کھانے پینے سے پاک ہے ۔۔ تیسرا سبب یہ ہے آپ سوئے ہوتے ہیں میں پہرہ دیتا ہوں جبکہ میرا رب نہیں سوتا , اُلٹا میں جب سوتا ہوں وہ خود میری نگہبانی فرماتا ہے ۔۔ چوتھا سبب یہ ہے میں ڈرتا رہتا ہوں آپ مر گئے آپ کے دُشمن مجھے آپ کا غلام سمجھ کر تکلیف دیں گے جبکہ میرا رب ہمیشہ قائم رہے گا , اُس کی موجودگی میں مجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتا ۔۔ پانچواں اور آخری سبب یہ ہے مجھے ہمیشہ ڈر رہتا ہے مجھ سے معمولی سی غلطی ہوگئی آپ نے معاف نہیں کرنا ہے جبکہ میں روزانہ سو بار غلطیاں یا گناہ کروں میرا رب توبہ کرنے سے معاف فرما دیتا ہے ...

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

مدرسین کو چاہئے کہ ہر طالب علم کو پورا عربی پڑھانا ضروری نہ سمجھیں ، جس کے اندر مناسبت دیکھیں ، اور فہم سلیم پائیں ، اس کو سب کتابیں پڑھادیں ، اور جس کو مناسبت نہ ہو ، یا فہم سلیم نہ ہو ، اس کو بقدر ضرورت مسائل پڑھا کر کہہ دیں کہ جاؤ دنیا کے دھندے میں لگو ، تجارت وحرفت کرو ، کیوں کہ ہر شخص مقتدا بننے کے لائق نہیں ہوتا ، بعضے نالائق بھی ہوتے ہیں ، ایسوں کو فارغ التحصیل بنا کر مقتدا بنا دینا خیانت ہے ۔ ایسے لوگوں کے لئے ایک مقدار معین کر لینا چاہیے کہ اس سے آگے ان کو نہ پڑھایا جائے ، اور وہ مقدار ایسی ہو جو دین کے ضروری مسائل جاننے کے لئے کافی ہو ۔ ( تعمیم التعلیم ، التبلیغ ۔ ص ۲۱۲ ۔ ص ۱۶۱ ۔ ج۲۱ )