نوکری چھوڑ نے کے پانچ اسباب

بادشاہ نے غلام سے پوچھا ۔۔ تم نوکری چھوڑ کر کیوں جا رہے ہو ؟ غلام نے بولا ۔۔ پانچ اسباب ہیں ۔۔ پہلا سبب یہ ہے آپ بیٹھے رہتے ہیں , میں آپ کے سامنے کھڑا رہتا ہوں جبکہ جس کی میں بندگی کرتا ہوں وہ اپنی نماز میں بھی بیٹھنے کا حکم دیتا ہے ۔۔ دوسرا سبب یہ ہے آپ جب کھانا کھاتے ہیں میں آپ کی کُرسی کے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑا آپ کو کھاتے ہوئے دیکھتا رہتا ہوں جبکہ میرا رب مجھے کھلاتا ہے خود کھانے پینے سے پاک ہے ۔۔ تیسرا سبب یہ ہے آپ سوئے ہوتے ہیں میں پہرہ دیتا ہوں جبکہ میرا رب نہیں سوتا , اُلٹا میں جب سوتا ہوں وہ خود میری نگہبانی فرماتا ہے ۔۔ چوتھا سبب یہ ہے میں ڈرتا رہتا ہوں آپ مر گئے آپ کے دُشمن مجھے آپ کا غلام سمجھ کر تکلیف دیں گے جبکہ میرا رب ہمیشہ قائم رہے گا , اُس کی موجودگی میں مجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتا ۔۔ پانچواں اور آخری سبب یہ ہے مجھے ہمیشہ ڈر رہتا ہے مجھ سے معمولی سی غلطی ہوگئی آپ نے معاف نہیں کرنا ہے جبکہ میں روزانہ سو بار غلطیاں یا گناہ کروں میرا رب توبہ کرنے سے معاف فرما دیتا ہے ...

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

چشمِ خطا پوش :

چشمِ خطا پوش  :

ایک شخص نے فضل بن ربیعؒ کے نام کا جعلی خط تحریر کیا، جس میں اپنے لئے ایک ہزار دینار کا حکم جاری کر کے دستخط کئے گئے تھے، وہ شخص خط لے کر فضل بن ربیع کے خزانچی کے پاس پہنچا، اس نے خط پڑھ ڈالا مگر اسے کوئی شبہ نہ گزرا، وہ ایک ہزار دینار اس کے سپرد کرنے ہی لگا تھا کہ اس دوران فضل بن ربیعؒ کسی کام سے خود وہاں آ پہنچا، خزانچی نے اس شخص کا تذکرہ اس کے سامنے کیا اور خط بھی دکھایا، فضل بن ربیعؒ نے خط دیکھنے کے بعد ایک نظر اس شخص کے چہرے پر ڈالی تو اس کا چہرہ زرد پڑ گیا اور خوف سے تھر تھر کانپ رہا تھا، فضل بن ربیعؒ سر جھکا کر کچھ دیر سوچنے کے بعد خزانچی سے مخاطب ہوا " تمہیں معلوم ہے میں اس وقت تمہارے پاس کیوں آیا ہوں؟" خزانچی نے نفی میں گردن ہلادی، فضل بن ربیعؒ نے کہا،" میں تمہیں صرف یہ تاکید کرنے آیا ہوں کہ اس شخص کو رقم فوراً ادا کر کے اس کی ضرورت پوری کرو" خزانچی نے فوراً ہزار دینار تھیلی میں ڈال کر اس شخص کے سپرد کردیئے، وہ شخص ہکا بکا رہ گیا، گھبراہٹ کے عالم میں کبھی وہ فضل بن ربیعؒ کے چہرے کو دیکھتا اور کبھی خزانچی کے، فضل بن ربیعؒ قریب ہوکر اس سے مخاطب ہوا "گھبراؤ نہیں اور راضی خوشی گھر کا رخ کرو " اس شخص نے فرط جذبات سے فضل بن ربیعؒ کے ہاتھ کا بوسہ لیا اور کہا، "آپ نے میری پردہ پوشی کی اور رسوا نہ کیا، روز قیامت اللہ آپ کی پردہ پوشی فرمائے اور رسوائی سے بچائے" یہ کہہ کر اس نے دینار لئے اور نکل آیا ـ ( المستطرف ص:۲۰۶) ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب : کتابوں کی درس گاہ میں (صفحہ نمبر ۹۴ ) مصنف : ابن الحسن عباسی ؒ