نوکری چھوڑ نے کے پانچ اسباب

بادشاہ نے غلام سے پوچھا ۔۔ تم نوکری چھوڑ کر کیوں جا رہے ہو ؟ غلام نے بولا ۔۔ پانچ اسباب ہیں ۔۔ پہلا سبب یہ ہے آپ بیٹھے رہتے ہیں , میں آپ کے سامنے کھڑا رہتا ہوں جبکہ جس کی میں بندگی کرتا ہوں وہ اپنی نماز میں بھی بیٹھنے کا حکم دیتا ہے ۔۔ دوسرا سبب یہ ہے آپ جب کھانا کھاتے ہیں میں آپ کی کُرسی کے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑا آپ کو کھاتے ہوئے دیکھتا رہتا ہوں جبکہ میرا رب مجھے کھلاتا ہے خود کھانے پینے سے پاک ہے ۔۔ تیسرا سبب یہ ہے آپ سوئے ہوتے ہیں میں پہرہ دیتا ہوں جبکہ میرا رب نہیں سوتا , اُلٹا میں جب سوتا ہوں وہ خود میری نگہبانی فرماتا ہے ۔۔ چوتھا سبب یہ ہے میں ڈرتا رہتا ہوں آپ مر گئے آپ کے دُشمن مجھے آپ کا غلام سمجھ کر تکلیف دیں گے جبکہ میرا رب ہمیشہ قائم رہے گا , اُس کی موجودگی میں مجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتا ۔۔ پانچواں اور آخری سبب یہ ہے مجھے ہمیشہ ڈر رہتا ہے مجھ سے معمولی سی غلطی ہوگئی آپ نے معاف نہیں کرنا ہے جبکہ میں روزانہ سو بار غلطیاں یا گناہ کروں میرا رب توبہ کرنے سے معاف فرما دیتا ہے ...

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

علّامہ اِقبال اور جذبہ اطاعت رسول

علّامہ اِقبال اور جذبہ اطاعت رسول

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے سنت رسول کی پیروی کو اپنا شیوہ حیات بنالیا تھا۔ جوہر اقبال میں ایک عجیب اور بصیرت افروز واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ جس سے علامہ اقبال کے جذبہ شوق و اطاعت رسول کا اندازہ ہوتا ہے۔ لکھتے ہیں کہ پنجاب کے ایک دولت مند رئیس نے ایک قانونی مشورے کے لیے اقبال اور سر فضل حسین اور ایک دو مشہور قانون دان اصحاب کو اپنے ہاں بلایا، اور اپنی شاندار کوٹھی میں ان کے قیام کا انتظام کیا۔ رات کو جس وقت اقبال اپنے کمرے میں آرام کرنے کے لیے گئے تو ہر طرف عیش و تنعم کے سامان دیکھ کر، اور اپنے نیچے نہایت نرم اور قیمتی بستر پا کر معا ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ جس رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیوں کے صدقے میں آج ہم کو یہ مرتبے حاصل ہوئے ہیں، اس نے بوریے پر سوکر زندگی گزار دی تھی ۔ یہ خیال آنا تھا کہ آنسوؤں کی جھڑی بندھ گئی۔ اسی بستر پر لیٹنا ان کے لیے ناممکن ہو گیا۔ اٹھے اور برابر کے غسل خانے میں جا کر ایک کرسی پر بیٹھ گئے، اور مسلسل رونا شروع کر دیا۔ جب ذرا دل کو قرار آیا تو اپنے ملازم کو بلوا کر اپنا بستر کھلوایا ، اور ایک چار پائی اسی غسل خانے میں بچھوائی۔ اور جب تک وہاں مقیم رہے، غسل خانے ہی میں سوتے رہے۔ یہ وفات سے کئی برس پہلے کا واقعہ ہے۔ (محمد حسنین سید۔ جوہر اقبال - ص 39-40، مطبوعہ مکتبہ جامعہ دہلی 1938)(ماہنامہ صدائے اسلام/ستمبر/۲۰۲۴)