اسرائیلی مظالم کی ایک جھلک:

اقوام متحدہ کے ۱۹۴۸ء کے منظور کردہ نقشے کے مطابق نا جائز ریاست اسرائیل کا رقبہ پانچ ہزارتین سو (۵،۳۰۰) مربع میل تھا۔ لیکن اسرائیل نے رفتہ رفتہ تئیس ہزار (۲۳٬۰۰۰) مربع میل پر قبضہ کر لیا۔ اور اس پر بس نہیں عظیم تر اسرائیل کے نقشے میں مصر ، عراق ، شام ، سعودیہ عرب حتی کہ مدینہ منورہ، خیبر ، تک کو اسرائیل کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ یہودیوں کے فلسطین میں ظلم و تشدد کے پیش نظر مظلوم فلسطینی عوام نے اپنے دفاع کے لیے تنظیمیں تشکیل دیں۔ (۱) فتح تنظیم (۱۹۵۷ء) (۲) - تنظیم آزادی فلسطین (۱۹۶۴ء)(۳)-حماس [۱۹۸۷ء] سابقہ دو تنظیموں کی کارکردگی سے مایوسی کے بعد شیخ احمد یاسین نے ۱۹۸۷ء میں حماس کی بنیاد رکھی۔ ۲۰۰۴ء میں شیخ احمد یاسین کو شہید کر دیا گیا۔ ۲۰۰۷ء میں حماس نے فلسطینی عوام کا بھر پور اعتماد حاصل کر کے غزہ کے انتخابات میں کامیابی پائی۔ تب سے اب تک اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ: ”غزہ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی جیل ہے۔“ یہود/اسرائیلی جب چاہتے ہیں اہل غزہ کا پانی بجلی سوئی گیس، یہاں تک کہ خوراک ، ادویات تک بند کر دیتے ہیں۔ غزہ کے ایک جانب سمندر، ایک طرف مصر اور ایک طرف خود اسرائیل ہے۔ سمندر بھی اسرائیلی قبضے میں ہے۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ اسرائیل نے پچاسی فیصد پینے کا پانی اپنے قبضے میں کیا ہوا ہے اور صرف پندرہ فیصد پانی فلسطینی مسلمانوں کے لیے چھوڑ رکھا ہے۔ وہ بھی جب چاہتا ہے بند کر دیتا ہے۔ اس وقت تقریباً ۸۰ لاکھ یہودی ظلماً فلسطین پر قابض ہیں، جبکہ ۸۰ لاکھ ہی فلسطینی ہجرت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، جن میں ۴۵ لاکھ سے زائد تعداد مہاجر کیمپوں میں مقیم ہے۔ ۲۰۱۸ ء کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند سال سے اسرائیل اوسطاً ۲۸۵/فلسطینیوں کو بلا وجہ سالانہ شہید کرتا ہے۔ اور یہ عام ایام کی بات ہے، جن ایام میں فضائی بمباری جاری ہو اُن دنوں شہدا کی تعداد یومیہ بیسیوں اور سیکڑوں میں ہوتی ہے۔ اکتوبر ۲۰۰۱ ء تا جنوری ۲۰۰۵ء تک ساڑھے چھ سو سے زائد فلسطینیوں کے گھر بلا وجہ راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیئے گئے ۔ میں تبدیل کر دیئے گئے ۔ سن ۲۰۰۰ ء تا سن ۲۰۰۶ ء کی رپورٹس کے مطابق خواتین کو اسرائیلی چوکیوں پر ایسے وقت میں قصداً روکا گیا، جب ولادت کا وقت قریب تھا، اور ۶۸ خواتین نے چیک پوسٹوں پر بچے جنم دیئے ۔ جن میں سے ۱۴ خواتین اُسی موقع پر شہید ہوئیں ۔ سن ۱۹۶۸ء کی لڑائی میں ساڑھے تین لاکھ فلسطینیوں کو شہید کیا گیا۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

حضرت حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ، "ناشطہ" اور ایک بنگالی طالب علم

حضرت حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ، "ناشطہ" اور ایک بنگالی طالب علم

ڈاکٹر تابش مہدی اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں، ہمارے بزرگ دوست مفتی عبدالرٔوف  منصف مبارک پوری مرحوم نے اپنے دور طالب علمی کا ایک واقعہ ایک سے زائد بار سنایا تھا۔ بتایا کہ دارالعلوم دیوبند میں چوں کہ ناشتے کا نظم کبھی نہیں رہا ہے، جو طلبہ ناشتہ کرنا چاہتے ہیں، وہ  اپنے اپنے طور پر ناشتے کا نظم کرتے ہیں اور جن طلبہ کی مالی حالت اچھی نہیں ہوتی وہ صرف دوپہر اور رات کے کھانے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ مفتی صاحب کے ایک بنگالی ساتھی نے مہتمم صاحب کے نام درخواست لکھی۔ اُس کا مضمون کچھ اس طرح تھا: حضرت ! میں بنگال کا ایک طالب علم ہوں دارالعلوم میں موقوف علیہ میں زیر تعلیم ہوں، دارالعلوم میں ناشتے کا کوئی انتظام نہیں ہے، میری حیثیت ایسی نہیں ہے کہ میں اپنے طور پر صبح کے ناشتے کا نظم کر سکوں، گھر میں رات کی روکھی سوکھی روٹی کھا کر کام چلاتا رہا ہوں، مدرسے میں اچھے نمبر حاصل کرتا رہا ہوں، الحمدللہ دارالعلوم میں بھی میری تعلیمی حالت اچھی ہے، اچھے نمبر لاتا ہوں، ساتھیوں سے مقابلہ رہتا ہے، لیکن دو پہر تک بغیر کچھ کھائے پیے پڑھنا میرے لیے بے حد مشکل ہے، اس کا اثر میری تعلیم پر بھی پڑ سکتا ہے، اگر حضرت والا میرے لیے ناشتے کا کوئی انتظام فرما دیں تو بڑی نوازش ہوگی، تعلیم کی تکمیل بھی ہو جائے گی اور میرے نمبرات میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔“ اس مضمون کی درخواست وہ طالب علم دفتر اہتمام کے منشی کو دے کر آ گیا حضرت مہتمم صاحب تشریف لائے، درخواست دیکھی تو مسکرائے اور کسی چپراسی کے ذریعے سے اُس طالب علم کو بلوایا، وہ آیا اور سلام کر کے کھڑا رہا، حضرت قاری صاحب نے کچھ دیر بعد سر اٹھایا۔ پوچھا: درخواست آپ کی ہے؟ اس نے کہا: جی حضرت! حضرت قاری صاحب نے فرمایا: آپ کی صلاحیت اور استعداد کا عالم یہ ہے کہ آپ ناشتہ "ط" سے لکھتے ہیں "ناشطہ" ۔ لیکن رعایت اتنی بڑی چاہتے ہیں کہ دارالعلوم کے قانون اور ضابطے کے علی الرغم آپ کے ساتھ خصوصی معاملہ کیا جائے، حضرت قاری صاحب کی یہ تنقیدی گفتگو سن کر وہ طالب علم فورا کسی ہچکچاہٹ کے بغیر مخاطب ہوا اور کہا: حضرت! آپ ناشتہ "ت" سے لکھتے ہیں؟ پھر تھوڑے سے توقف کے بعد بولا صحیح لفظ تو "ناشطہ" ہی ہے، یہ نشاط پیدا کرتا ہے، صبح کا یہ ناشطہ، دن بھر انسان کو چاق و چوبند اور پھرتیلا رکھتا ہے، اگر ناشتہ "ت" سے عام ہے تو اس کی اصلاح ہونی چاہئے، قاری صاحب نے خفیف مسکراہٹ کے بعد اسے رخصت کیا اور منشی دفتر سے کہا: منشی جی! اگر چہ دارالعلوم میں ناشتہ کا نظم نہیں ہے، لیکن اس طالب علم کو اس کی حاضر دماغی اور ذہانت کے پیش نظر میرے حساب میں ناشتہ کی بہ قدر رقم ہر ماہ دی جاتی رہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیز دھوپ کا مسافر/ ڈاکٹر تابش مہدی/ ۲۴۷ _____📝📝📝_____ منقول ۔ انتخاب اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔