مسلمان نسل پرست ہوتے ہیں؟

مشہور مناظر اسلام امام ابوبکر باقلانی ابوبکر باقلانی رحمة اللہ علیہ سے ایک عیسائی راہب نے ملاقات کی، دوران گفتگو عیسائی راہب نے کہا کہ تم مسلمان نسل پرست ہوتے ہو؟ امام ابوبکر باقلانی نے پوچھا: وہ کیسے؟ عیسائی راہب : تمہارے یہاں مسلمان مرد کسی عیسائی عورت یا یہودی - عورت سے نکاح کرنا چاہے تو وہ تو جائز ہے، لیکن اگر کوئی عیسائی یا یہودی مرد تمہاری مسلم عورتوں سے نکاح کرنا چاہے تو وہ جائز نہیں ہے۔ یہی تو تمہاری نسل پرستی ہے۔ امام ابو بکر باقلانی نے فرمایا : ہمارے یہاں یہودی عورت سے نکاح کرنا اس وجہ سے جائز ہے کہ ہم یہودیوں کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان - رکھتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے یہاں عیسائی عورت سے نکاح کرنا اس وجہ سے کا جائز ہے کہ ہم عیسائیوں کے نبی حضرت عیسی علیہ السلام پر بھی ایمان رکھتے۔ راہب صاحب ! تم لوگ بھی جب ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آؤ گے تو تمہارے لیے بھی ہماری مسلمان عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہو جائے گا۔ یہ سن کر راہب ہکا بکا رہ گیا۔ (کتاب : ماہنامہ دعوت دین کراچی اکتوبر۔ صفحہ : ۲۵۔ ناقل : اسلامک ٹیوب پرو ایپ) ♥️ 💐   📩 📤 *_ˡᶦᵏᵉ ᶠᵒˡˡᵒʷ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ_*

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

اور ملک الموت آپہنچا __!!

اور ملک الموت آپہنچا __!!

ایک نوجوان لڑکی ایک سپر مارکیٹ میں اپنے جسم کی نمائش کرتے ہوئے فتنہ انگیز انداز میں جارہی تھی۔ اس کے انداز میں ایسی خود نمائی اور خود ستائی تھی جیسے دنیا اسی کی وجہ سے پیدا کی گئی ہو ۔ وہاں سے ایک نیک اور صالح نوجوان گزر رہا تھا اس نے از راہ ہمدردی کہا: "میری بہن! اپنی اس روش سے باز آجاؤ۔ اگر اسی حالت میں ملک الموت تمہارے پاس آپہنچا تو ، اللّٰہ کو کیا جواب دو گی؟" اس کے جواب میں وہ مغرور لڑکی کہنے لگی..! "اگر تم میں جرات ہے تو ابھی اپنا موبائل نکالو اور اپنے رب سے کال ملاؤ کہ وہ ملک الموت کو بھیجے۔" وہ نوجوان کہتا ہے کہ : "اس نے ایسی ہولناک بات کہی تھی کہ مجھے ڈر ہوا کہیں اس بازار کو ہی نہ ہم پر الٹا دیا جائے۔ "میں ڈرتا ہوا جلدی سے وہاں سے نکلا۔ جب میں بازار کے کنارے پر پہنچا تو میں نے اپنے پیچھے چیخ وپکار اور آہ و بکا کی آوازیں سنیں۔ میں واپس مڑا تو دیکھا کہ ایک جگہ لوگ اکھٹے ہیں، یہ وہی جگہ تھی جہاں میری اس لڑکی سے بات ہوئی تھی۔ میں وہ منظر دیکھ کر ٹھٹک گیا۔ وہ لڑکی ٹھیک اُسی جگہ پر مردہ حالت میں پڑی تھی، جہاں اس نے ملک الموت کو بلانے کا چیلنج کیا تھا۔ میں تو اس چیلنج کے بعد فوراً وہاں سے نکل گیا تھا، لیکن لڑکی اسی وقت منہ کے بل گری اور دم توڑ دیا۔ کیونکہ ملک الموت آپہنچا تھا...! (آئین القلوب، مصطفیٰ کامل) قارئین کرام! یہ واقعہ بالکل سچا ہے اور ایک عرب ملک میں پیش آیا تھا۔ اس واقعہ کو قریباً بارہ پندرہ سال گزرے ہونگے، جب یہ رونما ہوا تو اس کی بازگشت مقامی اخبارات اور مجالس میں سنائی دی تھی۔ "بعض اوقات انسان تکبر اور جوانی کے نشے میں یا دولت واقتدار کے گھمنڈ میں بےحد غلط باتیں منہ سے نکال دیتا ہے، اسے معلوم نہیں ہوتا کہ عین ممکن ہے وہ قبولیت دعا کا وقت ہو۔" اور اس کے الفاظ پر رب کی طرف سے پکڑ بھی ممکن ہے، اس لئے ہمیشہ منہ سے اچھی بات نکالنی چاہئے۔۔۔۔ "دعاؤں کی قبولیت کے سنہرے واقعات" سے ماخوذ ۔