حضرت عمرؓ کے دربار کا ایک واقعہ :

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دربار میں ایک باپ نے اپنے بیٹے پر دعویٰ کیا کہ یہ میرے حقوق ادا نہیں کرتا ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لڑکے سے دریافت کیا اس نے کہا اے امیر المومنین ! کیا باپ ہی کا سارا حق اولاد پر ہے یا اولاد کا بھی باپ پر کچھ حق ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اولاد کا بھی باپ کے ذمہ حق ہے ، کہا میں ان حقوق کو سننا چاہتا ہوں ۔ فرمایا اولاد کا حق باپ پر یہ ہے کہ اولاد حاصل کرنے کے لیے شریف عورت تجویز کرے ! اور جب اولاد پیدا ہو تو ان کا نام اچھا رکھے تا کہ اس کی برکت ہو ! اور جب ان کے ہوش درست ہو جائیں ان کو تہذیب سکھائے اور دین کی تعلیم دے ! لڑکے نے کہا کہ میرے باپ نے ان حقوق میں سے ایک حق بھی ادا نہیں کیا اور جب میں پیدا ہوا تو میرا نام ”جعل“ رکھا جس کا معنی ”پاخانہ کا کیڑا“ ! اور مجھے دین کا ایک حرف بھی نہیں سکھایا مجھے دینی تعلیم سے بالکل کورا رکھا ۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو باپ پر بہت غصہ آیا اور اس کو بہت دھمکایا اور یہ کہہ کر مقدمہ خارج کر دیا کہ جاؤ پہلے تم اپنے ظلم کی مکافات کرو اس کے بعد لڑکے کے ظلم کی فریاد کرنا ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مقدمہ خارج کر دیا اور باپ سے فرمایا کہ تو نے اس سے زیادہ حق تلفی کی ہے جاؤ اپنی اولاد کے ساتھ ایسا برتاؤ نہ کیا کرو۔ (الفیض الحسن ص ۱۰۲ ، حقوق البیت ص ۴۷) (کتاب : ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اکتوبر۔ ناقل : اسلامک ٹیوب پرو ایپ)

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ہم سنار تھے سمجھے گئے لوہار __!!

ہم سنار تھے سمجھے گئے لوہار __!!

ایک مرتبہ شیخ حضرت مولانا مسیح اللہ خان صاحب رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور اس وقت وہاں اور کوئی نہیں تھا ، صرف میں تھا ۔ اسی درمیان میں ایک آدمی آیا اور حضرت سے تعویذ مانگنے لگا ۔ حضرت نے کہا کہ میں تعویذ نہیں دیا کرتا ۔ جاؤ بھائی جان سے لے لو! ( بھائی جان سے مراد حضرت والا کے صاحب زادے ہیں ، جن کو طلبا اور عوام سب بھائی جان کہتے ہیں ) وہ شخص باہر گیا ، پھر تھوڑی دیر بعد آکر کہنے لگا ، حضرت! آپ ہی دیدیجیے ، حضرت والا رحمہ اللہ نے پھر فرمایا : میں تعویذ نہیں دیا کرتا ، بھائی جان سے لے لو ۔ وہ شخص پھر باہر گیا اور کچھ دیر کے بعد پھر آکر اسی طرح کہا کہ حضرت! تعویذ آپ ہی دیدیجیے ، حضرت نے پھر وہی جواب دیا اور اس کو بھیج دیا اور میری طرف دیکھ کر فرمانے لگے : بھائی! ہم تو سنار تھے ، لوگوں نے ہمیں لوہار سمجھ لیا ، یعنی کوئی سنار کے پاس لوہے کا کچھ کام بنانے لے جائے تو یہ ’’ وضع الشيء في غیر محلہ ‘‘ کی قبیل سے ہوگا ، اسی طرح آج لوگ اللہ والوں کے پاس اپنی اصلاح کرانے کے اور معرفت الٰہی حاصل کرنے کے ، دینی باتیں معلوم کرنے کے ، وصول الی اللہ کے طرقہ معلوم کرنے کے ، تعویذ کے بارے میں پوچھنے جاتے ہیں ، دنیا کے بارے میں معلوم کرنے جاتے ہیں کہ حضرت میرا فلاں کام رک گیا ہے ، حل کردیجیے وغیرہ وغیرہ ۔ ایک مرتبہ حضرت شاہ ابرار الحق صاحب رحمہ اللہ جب بیمار ہو کر ممبئی میں زیرِ علاج تھے ، میں وہاں حضرت کی زیارت کے لیے حاضر ہوا ، بعد عصر لوگ زیارت و ملاقات کے لیے حاضری دیتے تھے اور حضرت والا کبھی خود پانچ دس منٹ بیان کرتے اور کبھی کوئی مہمان عالم ہوتے ، تو ان کو وعظ کہنے کا حکم دیتے تھے ، اس دن مجھ سے فرمایا کہ آج آپ کچھ دینی باتیں لوگوں کو بتادیں ، تعمیل حکم میں۔ میں بیان کر رہا تھا کہ حضرت والا بھی اوپر سے جہاں قیام تھا تشریف لے آئے اور اس میں میں نے حضرت مسیح الامت کا یہی واقعہ بھی سنایا ، تو حضرت والا اس سے بہت متأثر ہوئے اور فرمایا کہ مولانا نے بڑی خوب بات فرمائی ، بڑی خوب بات فرمائی ۔ (واقعات پڑھئے اور عبرت لیجئے) ___________📝📝___________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب ____________📝📝____________