سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہم نشینوں کے ساتھ

حضرت حسینؓ بن علیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ابا جان سید نا علیؓ سے پوچھا کہ حضور ﷺ اپنے ہم نشینوں کے ساتھ کیسے رہتے تھے؟ آپ نے فرمایا : آپﷺ خنده رو ، خوش اخلاق ، نرم خو تھے ، بداخلاقی سخت مزاجی ، شور و غل فحش گوئی ، عیب جوئی اور بخل و کنجوسی سے پاک تھے ، جو بات یا کام پسند نہ ہوتا تو اُس سے اعراض فرماتے ،کسی دوسرے کو پسند ہوتا تو اُسے منع کر کے مایوس نہ کرتے ، اور کوئی ناپسندیدہ بات کی دعوت دیتا تو اُسے قبول نہ فرماتے ؛ بل کہ خوش اسلوبی سے منع فرما دیتے ۔ تین باتوں سے خود کو محفوظ رکھتے تھے (۱) لڑائی، جھگڑا (۲) تکبر (۳) لا یعنی وبے کار بات اور تین باتوں سے لوگوں کو بچائے رکھتے تھے : (۱) کسی کی برائی نہ فرماتے ، (۲) کسی پر عیب نہیں لگاتے تھے، (۳) کسی کا عیب بھی تلاش نہ کرتے تھے ۔ وہی بات فرماتے جس میں ثواب کی امید ہوتی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکلم فرماتے تو صحابہ سر جھکائے سراپا گوش ہوتے ، ایسا لگتا جیسے اُن کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں ( کہ ذراسی جنبش سے اُڑ جائیں) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سکوت فرماتے تب صحابہ کرام بولتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صحابہ کرام کسی بات پر لڑتے جھگڑتے نہیں اور کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کر رہا ہوتا تو سب اس کے فارغ ہونے کا خاموشی سے انتظار کرتے ہر ایک کی بات بہ غور سماعت فرماتے ، صحابہ کسی بات پر ہنستے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسکراتے ، وہ کسی بات پر حیرت ظاہر کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی متعجب ہوتے ، کوئی اجنبی مسافر سخت لب ولہجہ میں بات کرتا اور کچھ مانگتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تحمل سے کام لیتے ، ( اور اس کی باتوں کا صبر کے ساتھ جواب دیتے ) حتی کہ صحابہ کرام ایسے کسی بدو کو پکڑ لے آتے ، تاکہ اُس کے سوالات سے صحابہ کو علمی فائدہ ہو ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : کہ کسی ضرورت مند سائل کو دیکھو کہ وہ کچھ مانگ رہا ہے تو اس کی ضرورت پوری کروں کسی کے ساتھ حسن سلوک پر بے جا تعریف سننا پسند نہ فرماتے تھے ، ہاں کلمات تشکر ادا کرنے کی حد تک گنجائش ہوتی۔ کسی کی بات نہ کاٹتے تھے ، ہاں اگر حد سے تجاوز کرتا تو منع فرما دیتے یا وہاں سے چلے جاتے ۔ (شمائل الترمذی: ۳۳۶) (کتاب : ماہنامہ اشرف الجرائد حیدرآباد ستمبر۔ ص:۲۵۔ ناقل : اسلامک ٹیوب پرو ایپ)

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

شیشے سے دیوار تک

شیشے سے دیوار تک

ایک خاتون کہتی ہیں: ایک دن میں اپنے گھر کی صفائی کر رہی تھی، اتنے میں میرا بیٹا آیا اور شیشے سے ایک شاہکار (تحفہ) گرا دیا اور وہ ٹوٹ گیا۔ میں اس سے بہت ناراض تھی کیونکہ یہ بہت مہنگا تھا، میری ماں نے مجھے دیا تھا، میں اسے پسند کرتی تھی اور اسے رکھنا چاہتی تھی۔ میں نے غصے سے اسے بلایا اور کہا۔ (میرا رب ایسی دیوار گرائے جو تمہاری ہڈیاں توڑ دے) وہ خاتون کہتی ہیں: سال گزر گئے، میں اس پکار اس بدعا کو بھول گئی، مجھے اس کی پرواہ نہیں تھی اور نہ ہی مجھے معلوم تھا کہ وہ آسمان پر چڑھ گئی ہے! میرا بیٹا اپنے بھائیوں بہنوں کے ساتھ پلا بڑھا اور وہ میرے دل میں میرے بیٹوں میں سب سے زیادہ پیارا تھا۔ میں اس کو ہوا لگنے سے بھی ڈرتی تھی وہ میرے لیے اپنے بھائیوں اور بہنوں سے زیادہ نیک تھا۔ اس نے تعلیم حاصل کی، گریجویشن کیا، ملازمت حاصل کی، اور میں اس کے لیے بیوی تلاش کر رہی تھی۔ اس کے والد کی ایک پرانی عمارت تھی، اور وہ اسے گرا کر دوبارہ تعمیر کرنا چاہتے تھے۔ میرا بیٹا اپنے والد کے ساتھ عمارت کی طرف گیا، مزدور منہدم کرنے کی تیاری کر رہے تھے، ادھر اپنے کام کے درمیان میرا بیٹا اپنے والد سے دور چلا گیا اور کارکن نے اسے نوٹس نہیں کیا تو دیوار اس پر گر گئی!! میرا بیٹا چیخا اور پھر اس کی آواز غائب ہوگئی۔ کارکن رک گئے اور سب پریشان اور خوف زدہ ہو گئے!! انہوں نے بڑی مشکل سے اس سے دیوار ہٹائی، ایمبولینس آئی، اس کا جسم لے جانے کے قابل بھی نہیں بچا تھا وہ شیشے کی طرح گر کر ٹوٹ چکا تھا، انہوں نے اسے بڑی مشکل سے اٹھایا اور انتہائی نگہداشت میں منتقل کیا!! اور جب اس کے والد نے مجھے خبرکی تو میں بے ہوش ہو گئی اور جب مجھے ہوش آیا تو گویا اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کے سامنے وہ گھڑی بحال کر دی ہو جس میں میں نے بچپن میں کئی سال پہلے اس کے لیے بددعا کی تھی اور مجھے وہ بددعا یاد آ گئی۔ میں روتی رہی اور روتی رہی یہاں تک کہ میں دوبارہ ہوش کھو بیٹھی، جب ہسپتال میں مجھے افاقہ ہوا، تو میں نے اپنے بیٹے کو دیکھنے کے لیے کہا؟ میں نے اسے دیکھا، اور کاش میں نے اسے اس حالت میں نہ دیکھا ہوتا! ان لمحوں میں دل کی دھڑکن رک گئی اور میرے بیٹے نے آخری سانس لی۔ میں نے روتے ہوئے کہا: کاش وہ دوبارہ زندہ ہو جائے، گھر کے تمام فن پاروں کو توڑ دے، بس میں اسے نہ کھووں۔ کاش میں گونگی ہوجاتی اور اس کو بد دعا نہ دیتی۔ کاش کاش کاش، لیکن کاش لفظ کا وقت پورا ہو چکا تھا! ایک شخص عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ کے پاس اپنے بیٹے کی نافرمانی کی شکایت کرنے آیا!! ابن مبارک نے اس سے پوچھا: کیا تم نے اس کے لیے بددعا کی؟ اس نے کہا: ہاں اس نے کہا: جاؤ، تم نے ہی اسے خراب کر دیا ہے۔ _____📝📝📝_____ منقول ۔ انتخاب اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔