​​​​ابو حازم ؒ کی حق گوئی کی تاثیر

سلیمان بن عبدالملک نے جو بنو امیہ کا بادشاہ تھا ـ ایک مرتبہ شیخ الحدیث ابو حازم ؒ سے دریافت کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے؟... کہ ہم لوگ دنیا کو پسند اور آخرت کو ناپسند کرتے ہیں ـ آپ نے برجستہ جواب دیا... کہ تم لوگوں نے دنیا کو آباد کیا... اور آخرت کو برباد کیا... اس لئے تم لوگ آبادی سے ویرانے کی طرف جانے سے گھبراتے ہو ـ پھر سلیمان نے پوچھا... کہ کاش ہم کو معلوم ہوجاتا کہ آخرت میں ہمارا کیا حال ہوگا؟ آپ نے فرمایا کہ قرآن پڑھ لو... تمہیں معلوم ہوجائے گا ـ سلیمان نے کہا کہ کون سی آیات پڑھوں؟ آپ نے فرمایا کہ ( اِنَّ الْاَبْـرَارَ لَفِىْ نَعِـيْمٍ ،وَاِنَّ الْفُجَّارَ لَفِىْ جَحِـيْمٍ) یعنی نکوکار یقیناﹰ جنت میں اور بدکار یقینًا جہنم میں ہوں گے ـ پھر سلیمان نے یہ دریافت کیا... کہ دربار الٰہی میں بندوں کی حاضری کا کیا منظر ہوگا؟ آپ نے جواب دیا... کہ نیکوکار کا تو یہ حال ہوگا... کہ جیسے برسوں کا بچھڑا ہوا مسافر خوشی خوشی اپنے اہل و عیال میں آتا ہے... اور بدکاروں کا یہ حال ہوگا... کہ جیسے بھاگا ہوا غلام گرفتار کرکے آقا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے... شیخ ابو حازمؒ کی یہ حق گوئی تاثیر کا تیر بن کر سلیمان کے قلب میں پیوست ہوگئی... اور وہ چیخ مار کر رونے لگا ـ (حوالہ :- روح البیان ج ۵ ص ۲۵۳) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب : اللہ والوں کی دنیا سے بے رغبتی کے ۲۰۰ واقعات (صفحہ نمبر ۴۴۴ ) مصنف : مولانا ارسلان بن اختر انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

مسئلہ فلسطین اور ہماری ذمہ داریاں

مسئلہ فلسطین اور ہماری ذمہ داریاں

مسلمانوں کی دینی یا دنیوی پریشانیوں پر اہلِ علم کا اضطراب: حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور تصنیف؛ حیات المسلمین کے شروع میں ’’تسہیلِ مقدمہ‘‘ کے عنوان سے مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا ایک وقیع مقدمہ شامل ہے، اس میں حضرت مفتی صاحب ؒ نے عالمِ اسلام کے اور مسلمانوں کے زوال و انحطاط حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی بے چینی و اضطراب اورفکرمندی سے متعلق تحریر فرماتے ہیں: [’’جہاں کہیں مسلمانوں پر کوئی مصیبت آتی یا کسی پریشانی کی خبر آتی، وہ غم میں اس طرح گھلنے لگتے تھے جیسے کسی شفیق باپ کی صلبی اولاد پر کوئی مصیبت ائی ہو۔؎ خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے اس سے یہ اندازہ ہو سکتا ہے کہ اس پرفتن دور میں ایسے جذبہ رکھنے والے کو چین و ارام کہاں؟ خود احقر نے بارہا دیکھا کہ جب کوئی فتنہ مسلمانوں میں چلا جس سے ان کی دینی یا دنیاوی تباہی کا خطرہ تھا، تو حضرت کا نظامِ صحت مختل اور قوی میں ضعف و اضمحلال نظر آنے لگتا تھا۔ ایک ایسے ہی فتنہ کے زمانے میں خود فرمایا کہ: ’’ مسلمانوں کی موجودہ حالت اور اس کے نتائج کا تصور اگر کھانے سے پہلے آ جاتا ہے تو بھوک اڑ جاتی ہے اور سونے سے پہلے آ جاتا ہے تو نیند اڑ جاتی ہے۔‘‘] (بحوالہ: حیات المسلمین،ص۷،مطبوعہ مکتبۃ المیزان) جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے علم کی حقیقت نصیب ہوئی ان کا ہمیشہ یہی طرزِ عمل رہا ہے کہ وہ پوری دنیا میں مسلمانوں کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتے تھے اور اس کیلئے ہر لحاظ سے فکرمند رہتے ہیں۔اکابر علمائے کرام میں اور بزرگانِ دین میں اس کی دسیوں نہیں سینکڑوں مثالیں مل جائیں گی۔ اسی بات کے تناظر میں ہمیں آج ہم مسئلۂ فلسطین کو سامنے رکھ کر اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ اس اہم ترین مسئلے سے متعلق ہماری فکرمندی اور اضطراب کس درجے کا ہے؟ جتنا کچھ ہم کر سکتے ہیں، کیا وہ ہم کررہے ہیں؟ کیا ہم اہلِ فلسطین کیلئے اسی طرح دعائیں مانگ رہے ہیں جس طرح اگر خدانخواستہ ہماری اپنی اولاد، والدین ، بہن بھائی کسی مشکل میں گرفتار ہوتے تو ہم ان کیلئے مانگتے........! دعا مومن کا ہتھیار ہے،اس ہتھیار کو استعمال کیجیے اور دردِ دل کے ساتھ، تضرع و عاجزی کے ساتھ اپنے مظلوم و مقہور بھائیوں کیلئے سراپا دعا بن جائیے۔ اللہ پاک ہمیں توفیق عطا فرمائے اور اہلِ فلسطین کو ظلم و جبر سے خلاصی نصیب فرمائے۔ آمین۔ --------تحریر ابومعاذ راشد حیسن---------- منقول۔