متفرقات

قادیانیوں کے حق میں سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ
قادیانیوں کے حق میں سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ
داعی کی روحانی صفحات
داعی کی روحانی صفحات
چھ صفات کی محنت اور حضور ﷺ کی سنتیں
چھ صفات کی محنت اور حضور ﷺ کی سنتیں
تین قیمتی رسالے
تین قیمتی رسالے
مکتوبات مجدد الف ثانیؒ
مکتوبات مجدد الف ثانیؒ
رحمۃ للعالمین ﷺ کی چمک اور مہک
رحمۃ للعالمین ﷺ کی چمک اور مہک
عالمی تعلیمی کانفرنس میں شرکت (مختصر روداد)
عالمی تعلیمی کانفرنس میں شرکت (مختصر روداد)
مقالات فریدی جلد ۳
مقالات فریدی جلد ۳
مقالات فریدی جلد ۲
مقالات فریدی جلد ۲
Image 1

اسرائیل سے متعلق تین موقف

اسرائیل سے متعلق تین موقف

موجودہ دور میں اسرائیل سے متعلق تین موقف پائے جاتے ہیں : نمبر(۱) اسرائیل، امریکہ وغیرہ: ان کا موقف ہے کہ : بیت المقدس سمیت فلسطین کے جتنے حصے پر اسرائیل قابض ہے، وہ اسرائیل کا حصہ ہیں۔ جلا وطن کیے گئے فلسطینی جہاں کہیں جائیں، فلسطین میں اُن کی کوئی جگہ نہیں۔ بیت المقدس اسرائیل کا دارالحکومت ہوگا۔ نمبر (۲) ترکی ، اردن ، مصر: وہ اسلامی ممالک، جنھوں نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے، اُن کا موقف یہ ہے کہ: ۱۹۴۸ء میں اقوام متحدہ نے جو رقبہ اور حدود اسرائیل کے لیے طے کیا تھا، اسرائیل اُن کے اندر رہے، بیت المقدس اور باقی فلسطین کو آزاد کرے۔ وہ اسرائیل کا حصہ نہیں ہے۔ نمبر (۳) پاکستان اور سعودیہ عرب وغیرہ: وہ ممالک جنھوں نے اسرائیل کے ناجائز وجود کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کیا۔ ان کا موقف یہ ہے کہ : یہودی پورے فلسطین پر غاصبانہ قبضہ ختم کریں، اُن کے پاس یورپی ممالک کی شہریتیں موجود ہیں۔ وہ ۱۹۲۲ء میں اور اس کے بعد جہاں جہاں سے اُٹھ کر فلسطین آئے تھے، وہاں واپس جائیں۔ اور قضیہ فلسطین کا حل ۱۹۴۸ء کے بجائے ۱۹۱۷ء کی پوزیشن پر حل کیا جائے ۔ جب خلافت عثمانیہ کی عملداری تھی اور فلسطین کے اندر کسی یہودی کو مستقل رہنے کی اجازت نہیں تھی۔ (ماہنامہ صفدر اکتوبر/ ص: ۱۰)

Whats New

Naats