عربی چھارم

مختارات جلد ثانی
مختارات جلد ثانی
مبشرات فی حل مختارات
مبشرات فی حل مختارات
مختارات
مختارات
توضیح البلاغہ شرح اردو دروس البلاغہ
توضیح البلاغہ شرح اردو دروس البلاغہ
تحفۃ البلاغہ شرح اردو دروس البلاغہ
تحفۃ البلاغہ شرح اردو دروس البلاغہ
تفہیم البلاغہ شرح اردو دروس البلاغہ
تفہیم البلاغہ شرح اردو دروس البلاغہ
دروس البلاغہ عربی
دروس البلاغہ عربی
دروس البلاغہ اردو
دروس البلاغہ اردو
توضیح الوقایہ آخرین ۱
توضیح الوقایہ آخرین ۱

ملا نصیر الدین کا مشوره

ملا نصیر الدین کا مشوره

ایک دن امیر تیمور لنگ در بار لگائے ہوا تھا۔ درباری مؤدبانہ طریق سے اپنی جگہوں پر کھڑے ہوئے تھے۔ تیمور نے خلفائے بغداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ” ان کے القاب بڑے پر شکوہ ہوتے ہیں۔ مثلاً مستقر بالله، واثق بالله، معتصم باللہ اور متوکل باللہ وغیرہ۔ میں چاہتا ہوں کہ میں بھی اس قسم کا کوئی لقب اختیار کروں ۔ درباریوں نے اپنی اپنی سمجھ کے مطابق مختلف القابات تجویز کئے ..... جب ملا نصیر الدین کی باری آئی تو اس نے جان کی امان پاتے ہوئے عرض کیا: ” ناچیز کے خیال میں حضور کا لقب نعوذ باللہ بہت موزوں رہے گا۔“ ( بحوالہ ماہنامہ ”ہما“ نئی دہلی : جنوری ۱۹۹۵ء ص ۷۷ )

Image 1

Whats New

Naats