عربی چھارم

خلاصۃ الانوار شرح نور الانوار
خلاصۃ الانوار شرح نور الانوار
تذکرہ صاحب ہدایہ
تذکرہ صاحب ہدایہ
شرح شذور الذھب
شرح شذور الذھب
أحسن الوقایہ شرح اردو شرح الوقایہ جلد ۱
أحسن الوقایہ شرح اردو شرح الوقایہ جلد ۱
أحسن الوقایہ شرح اردو شرح الوقایہ جلد ۳
أحسن الوقایہ شرح اردو شرح الوقایہ جلد ۳
تسہیل الوقایہ شرح شرح الوقایہ
تسہیل الوقایہ شرح شرح الوقایہ
قوت الاخیار جلد 1,2
قوت الاخیار جلد 1,2
قوت الاخیار جلد ۳,۴
قوت الاخیار جلد ۳,۴
شرح الوقایہ جلد ۲
شرح الوقایہ جلد ۲

علم کا بدصورت عاشق :

علم کا بدصورت عاشق :

اصل نام عمرو بن محبوب تھا ، ۱۶۰ ہجری میں پیدا ہوئے اور جاحظ کے لقب سے معروف ہوئے ، عربی میں جاحظ اُسے کہتے ہیں جس کی آنکھوں کے ڈھیلے اُبھرے ہوں ۔ اوائل میں اس لقب کو ناپسند کرتے تھے ، رفتہ رفتہ خاموش ہو گئے ۔ شاید ہی کسی کی شکل کا یوں مذاق اڑایا گیا ہو ، کسی نے انہیں شیطان سے تشبیہ دی ہے اور کسی شاعر نے تو یونہی بھی کہا ہے : اگر خنزیر دوبارہ مسخ کر دیا جائے پھر بھی جاحظ سے کم ہی بدصورت ہوگا ۔ بادشاہ متوکل نے انہیں اپنے بچوں کا استاد مقرر کرنا چاہا ، شکل دیکھی تو انکار کر دیا ۔ حالانکہ معتزلی فکر سے وابستہ تھے ، اس کے باوجود عربی ادب کے امام گردانے جاتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے : جاحظ نے جس کتاب کو پکڑ لیا اسے مکمل پڑھنے تک نیچے نہیں رکھا ۔ اکثر کتابوں کی دکانیں کرائے پر لے کر رات رات بھر پڑھتے رہتے تھے ۔ آخری عمر میں کافی بیماریوں کا شکار ہوئے ، آدھا جسم مفلوج ہو گیا ، یونہی پڑھنے میں مصروف تھے کہ ارد گرد پڑی کتابیں ان پر آگریں اور یوں علم کا بدصورت عاشق کتابوں کے قبرستان میں دفن ہو گیا ۔ (علی سنان)

Image 1

Recent Articles

مولوی...

admin | 15 June, 2026

باپ کا آخری خط

admin | 4 June, 2026

Whats New

Naats