چار سو کتابوں کا مصنف! زندگی بھر مذہبی امور ومسائل پر قلم چلانے والا! ملک میں اکثریتی طبقے کی مذہبی بیداری پر زندگی بھر کام کرنے والا! دولت کی ریل پیل، ریکارڈ کے مطابق اسی کروڑ کی پراپرٹی! دنیا بھر کے تعلقات، حتی کہ ملک کا وزیر داخلہ ذاتی طور پر فون کرتا رہتا تھا! لیکن: محرومی کی انتہا دیکھیے! آخری عمر میں کوئی ساتھ رہنے والا نہیں! بچے اور تمام گھر والے اپنی دنیا میں مصروف! عمر کے آخری ایام اولڈ ایج ہوم میں گزارے! آخری رسومات تک میں بچے آنے کے لیے وقت نہیں نکال سکے! یہ کہانی ہے، شری رام کھنڈیل وال کی! حقیقت یہ ہے کہ آپ کے پاس کچھ بھی نہیں، اگر: آپ کا گھر اخلاق واقدار سے محروم ہے! آپ کا گھر خاندانی روایات سے محروم ہے! آپ کے گھر میں خونی رشتوں کا پاس ولحاظ نہیں! یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں: گھر اور خاندان کا تذکرہ بار بار آیا ہے۔ گھریلو اور خاندانی اقدار اور روایات کا تذکرہ بار بار آیا ہے۔ خونی رشتوں کا تذکرہ بار بار آیا ہے۔ اور خونی رشتوں کے احترام اور ان کی پاسداری کا تذکرہ بار بار آیا ہے۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ایک گھڑی سے ملنے والا عظیم سبق

ایک گھڑی سے ملنے والا عظیم سبق

اپنی وفات سے قبل ایک والد نے اپنے بیٹے سے کہا : میری یہ گھڑی میرے والد نے مجھے دی تھی ۔ جو کہ اب 100 سال پرانی ہو چکی ہے ۔ لیکن اس سے پہلے کہ یہ میں تمہیں دوں کسی سُنار کے پاس اسے لے جاؤ اور ان سے کہو کہ میں اسے بیچنا چاہتا ہوں پھر دیکھو وہ اس کی کیا قیمت لگاتا ہے ۔ بیٹا سنار کے پاس گھڑی لے گیا ۔ واپس آکر اس نے اپنے والد کو بتایا کہ سنار اسکے 25 ہزار قیمت لگا رہا ہے ، کیونکہ یہ بہت پرانی ہے والد نے کہا کہ اب گروی رکھنے والے کے پاس جاؤ بیٹا گروی رکھنے والوں کی دکان سے واپس آیا اور بتایا کہ گروی رکھنے والے اس کے 15 سو قیمت لگا رہے ہیں کیونکہ یہ بہت زیادہ استعمال شدہ ہے۔ اس پر والد نے بیٹے سے کہا کہ اب عجائب گھر جاؤ اور انہیں یہ گھڑی دکھاؤ ۔ وہ عجائب گھر سے واپس آیا اور پر جوش انداز میں والد کو بتایا کہ عجائب گھر کے مہتمم نے اس گھڑی کے 8 کروڑ قیمت لگائی ہے کیونکہ یہ بہت نایاب ہے اور وہ اسے اپنے مجموعہ میں شامل کرنا چاہتے ہیں اس پر والد نے کہا، میں تمہیں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ صحیح جگہ پر ہی تمہاری صحیح قدر ہوگی ۔ اگر تم غلط جگہ پر بے قدری کئے جاؤ تو غصہ مت ہونا ۔ صرف وہی لوگ جو تمہاری قدر پہچانتے ہیں وہی تمہیں دل سے داد دینے والے بھی ہوں گے ۔ اس لئے اپنی قدر پہچانو اور ایسی جگہ پر مت رکنا جہاں تمہاری قدر پہچاننے والا نہیں ۔ ____________📝📝📝____________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ۔