میری ناقص رائے میں!؟ ٭٭٭ حسنِ اتفاق ہے کہ آج پے بہ پے دو نہایت قابلِ احترام اہلِ علم کی تحریروں میں بطورِ انکسار یہ مشہور جملہ نظر سے گزرا: ’’میری ناقص رائے میں۔‘‘ بندۂ ناچیز کی رائے میں یہ تعبیر کچھ موزوں نہیں۔ سوچیے، جب آپ خود اپنی بات کو ناقص قرار دے رہے ہیں تو پھر اس کے بیان کا جواز کیا رہ جاتا ہے؟ اور کوئی سامع یا قاری اسے سنجیدگی سے کیوں لے گا؟ یاد رہے کہ ’’ناقص‘‘ کے معنی ہی عیب دار، ناپختہ، خراب اور کم تر کے ہیں۔ سو جس بات کو آپ دلیل کے طور پر پیش کر رہے ہوں، اسے ازخود معیوب کہنا (اگرچہ مراد یہ نہ ہو) مناسب تو نہیں۔ انکسار کے اظہار کے لیے کہیں زیادہ مناسب ہوگا کہ یوں کہا جائے: ’’میری عاجزانہ رائے میں‘‘ بلکہ زیادہ خوبصورتی اس میں ہے کہ نسبت رائے کی طرف نہیں، اپنی ذات کی طرف کی جائے، جیسے: ’’مجھ ناچیز کی رائے میں۔‘‘ ٭

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ایک گھڑی سے ملنے والا عظیم سبق

ایک گھڑی سے ملنے والا عظیم سبق

اپنی وفات سے قبل ایک والد نے اپنے بیٹے سے کہا : میری یہ گھڑی میرے والد نے مجھے دی تھی ۔ جو کہ اب 100 سال پرانی ہو چکی ہے ۔ لیکن اس سے پہلے کہ یہ میں تمہیں دوں کسی سُنار کے پاس اسے لے جاؤ اور ان سے کہو کہ میں اسے بیچنا چاہتا ہوں پھر دیکھو وہ اس کی کیا قیمت لگاتا ہے ۔ بیٹا سنار کے پاس گھڑی لے گیا ۔ واپس آکر اس نے اپنے والد کو بتایا کہ سنار اسکے 25 ہزار قیمت لگا رہا ہے ، کیونکہ یہ بہت پرانی ہے والد نے کہا کہ اب گروی رکھنے والے کے پاس جاؤ بیٹا گروی رکھنے والوں کی دکان سے واپس آیا اور بتایا کہ گروی رکھنے والے اس کے 15 سو قیمت لگا رہے ہیں کیونکہ یہ بہت زیادہ استعمال شدہ ہے۔ اس پر والد نے بیٹے سے کہا کہ اب عجائب گھر جاؤ اور انہیں یہ گھڑی دکھاؤ ۔ وہ عجائب گھر سے واپس آیا اور پر جوش انداز میں والد کو بتایا کہ عجائب گھر کے مہتمم نے اس گھڑی کے 8 کروڑ قیمت لگائی ہے کیونکہ یہ بہت نایاب ہے اور وہ اسے اپنے مجموعہ میں شامل کرنا چاہتے ہیں اس پر والد نے کہا، میں تمہیں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ صحیح جگہ پر ہی تمہاری صحیح قدر ہوگی ۔ اگر تم غلط جگہ پر بے قدری کئے جاؤ تو غصہ مت ہونا ۔ صرف وہی لوگ جو تمہاری قدر پہچانتے ہیں وہی تمہیں دل سے داد دینے والے بھی ہوں گے ۔ اس لئے اپنی قدر پہچانو اور ایسی جگہ پر مت رکنا جہاں تمہاری قدر پہچاننے والا نہیں ۔ ____________📝📝📝____________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ۔