جو در کعبے کا کھلوائے اسے فاروق کہتے ہیں جو رب کا دین منوائے اسے فاروق کہتے ہیں نگاہ انتخاب ہے وہ نبوت کی نگاہوں کا اثر ہے جو محمد پاک کی پیاری دعاؤں کا فخر ہے جو محمد پاک کی شریعت کے گواہوں کا جو محسن ہے حکومت کے ایوانوں بادشاہوں کا جو عدوِ دین تڑپائے اسے فاروق کہتے ہیں جسے مانگا خدا سے اس کے آفاقی پیغمبرنے دعائے نبی کی لاج رکھی اس مرد قلندر نے عرب کے مرد حر نے اور حقیقت کے سکندر نے جس کے حکم کو مانا ہواؤں نے سمندر نے جو خشک دریا چلوائے اسے فاروق کہتے ہیں دمِ ہجرت وہ نکلا اور للکارا پجاری کو ابوجہل ،ابو لہب ، ہر بد بخت ناری کو حلالی ہو تو روکو آج عمر کی اس سواری کو میں موتیں بانٹنے نکلا ہوں بتادو ہر بھکاری کو جو کفر کے چھکے چھڑوائے اسے فاروق کہتے ہیں میرا ایمان ہے الطاف میرا یہ عقیدہ ہے پڑھا آپ کی مدحت میں، میں نے جب قصیدہ ہے جو سن کے جھوم اٹھتا ہے خوشا اس کا نصیبا ہے جو جل جائے تو سمجھ لینا شر اس نے خریدا ہے منافق جس سے جل جائے اسے فاروق کہتے ہیں جو در کعبے کا کھلوائے اسے فاروق کہتے ہیں رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔۔۔۔ ✍: حافظ محمد الطاف منہاس رح

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

مدرسین کو چاہئے کہ ہر طالب علم کو پورا عربی پڑھانا ضروری نہ سمجھیں ، جس کے اندر مناسبت دیکھیں ، اور فہم سلیم پائیں ، اس کو سب کتابیں پڑھادیں ، اور جس کو مناسبت نہ ہو ، یا فہم سلیم نہ ہو ، اس کو بقدر ضرورت مسائل پڑھا کر کہہ دیں کہ جاؤ دنیا کے دھندے میں لگو ، تجارت وحرفت کرو ، کیوں کہ ہر شخص مقتدا بننے کے لائق نہیں ہوتا ، بعضے نالائق بھی ہوتے ہیں ، ایسوں کو فارغ التحصیل بنا کر مقتدا بنا دینا خیانت ہے ۔ ایسے لوگوں کے لئے ایک مقدار معین کر لینا چاہیے کہ اس سے آگے ان کو نہ پڑھایا جائے ، اور وہ مقدار ایسی ہو جو دین کے ضروری مسائل جاننے کے لئے کافی ہو ۔ ( تعمیم التعلیم ، التبلیغ ۔ ص ۲۱۲ ۔ ص ۱۶۱ ۔ ج۲۱ )