اعتدال کی حسین شاہراہ ، مرکز علم و عرفاں ، منبع خیر و برکت ، اہل حق کی اماجگاہ ، ترجمان اہل سنت والجماعت ، ام المدارس ، ازہر ہند ، دارالعلوم دیوبند ، اس کو ایک ادارہ کہیے یا کہیے دور فرنگ میں چلائی جانے والی ایک انقلابی تحریک ، موجودہ دور میں پنپنے والے فتنوں کی کاٹ کہیے یا کہیے اس دور تجددی میں اصل ہیئت اسلام کی بقا کا ضامن ، حصن تحفظ ختم نبوت کہیے یا کہیے دفاع اسلام کے لیے قائم کی جانے والی ایک آہنی دیوار ۔ الغرض یہ ادارہ قدرت خداوندی کا ایک عظیم شاہکار ، حکمت خداوندی کا مظہر ، عالم اسلام خصوصا بر صغیر کے متدینین پر ایک عظیم احسان ، احیاء اسلام کی ایک سبیل ، اور احقاق حق و ابطال باطل کی ایک تفسیر ہے۔ خلوص تقوی کی بنیاد پر قیام پذیر ہونے والا یہ بابرکت ادارہ جہاں بقائے اسلام کا ضامن ٹھہرا ، وہیں مردم سازی کا ایسا بے مثال کیمپ ثابت ہوا جہاں سے سینکڑوں محدثین و مفسرین ہزاروں فقہاء و متکلمین اور بے شمار خطباء و واعظین نکلے جنہوں نے ہر میدان ہر شعبے اور دنیا کے ہر کونے میں کامیابی و کامرانی کے نہ صرف جھنڈے گاڑے بلکہ ایسے ایسے کارہاۓ نمایاں انجام دیے جن پر عقل دنیا حیرت زدہ رہ گئی اور ان کی تربیت پر اہل دنیا عش عش کرتے رہ گئے جی ہاں میں بات کر رہا ہوں اسی دارالعلوم دیوبند اور اس کے فیض یافتہ علمائے دیوبند کی ، شاعر کہتا ہے : تاریخ مرتب کرتی ہے دیوانوں کی روداد یہاں ۔ اور الحمدللہ مردم سازی کا یہ مبارک سلسلہ تاہنوز جاری ہے اور انشاء اللہ تاقیامت جاری رہے گا ۔ ✍🏻#مستقیمـجمالی ---------------------------------------------

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

امام شافعیؒ کی مرض الوفات کی حالت

امام شافعیؒ کی مرض الوفات کی حالت

امام مزنیؒ فرماتے ہیں: میں حضرت امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے ہاں مرض الوفات میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا : آپ نے کس حالت میں صبح کی ہے؟ فرمایا: آج دنیا سے رحلت کرنے والا ہوں،دوستوں کو چھوڑنے والا ہوں، موت کا پیالہ پینے والا ہوں، اپنے اعمال بد سے ملنے والا ہوں، اللہ کے روبرو حاضر ہونے والا ہوں ـ مجھے معلوم نہیں کہ میری روح جنت میں داخل ہوگی اور اس کو خوش آمدید کہتا ہوں یا دوزخ میں ڈالی جاتی ہے اور میں اس پر ارمان کرتا ہوں، پھر آپ رو پڑے اور یہ اشعار کہے: ولما قسا قلبى وضاقت مذاھبی فعلت الرَّجا منی لعفوک سُلَّما تعـاظـمنی ذنبـی فلمــا قرنتـه بعفوک ربی کان عفُوک أعظما فما زلتَ ذاعفوٍ عن الذنب لم تزک تجـود وتعفــو مـنَّتهَّ وتــکـرُّمــا ولو لا لم یغوی بابلیس عابد فکیف وقد أغوی صفیک آدما (۲۵) ترجمہ : ❶ جب میرا دل سخت ہوگیا اور راستے تنگ ہوگئے میں نے آپ سے معافی کی امید کو سیڑھی بنایا ہے ـ ❷ مجھے اپنے گناہ بڑے لگتے ہیں لیکن جب میں نے ان کو تیرے معاف کرنے سے مقابلہ کیا تو تیرا معاف کرنا بہت بڑا پایا ـ ❸ پس میں ہمیشہ گناہ سے معافی مانگتا رہا اور تو مہربانی کرتا رہا اور احسان اور عزت کرتے ہوئے معاف کرتا رہا ـ ❹ اگر آپ (کا یہ کرم) نہ ہوتا تو شیطان سے کوئی بزرگ نجات نہ پاسکتا اور یہ کیسے ہوسکتا ہے اس نے تو حضرت آدم صفی اللہ کو بھی پھسلا دیا ـ نصحیت : میرے بھائیوں! گناہوں سے توبہ کرنے میں جلدی کرو،توبہ کرنے والوں کے نقوش قدم کی پیروی کرو ،ان کے طریقوں پر چلتے رہو جو توبہ اور مغفرت کے درجات پر فائز ہوگئے ـ اپنے نفوس کو رضائے خداوندی میں ڈال دو ، کاش کہ تو ان خوفزدہ دلوں کے ساتھ راتوں کے اندھیروں میں عبادت خداوندی میں اپنے پروردگار کی کتاب کی تلاوت میں دیکھ لے ، جنہوں نے اپنی جبینیں زمین پر ٹکادی ہیں ـ اور اپنی ضروریات اس کے سامنے رکھ دی ہیں جو سب کو دیکھتا ہے لیکن نظر نہیں آتا ـ (۲۵) دیوان امام شافعیؒ ص ۷۸ صفوۃ الصوہ ۲/ ۳۸۶ ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب : آنسوؤں کا سمندر (صفحہ نمبر ۶۶-۶۷) مصنف : امام ابن جوزی رحمہ اللہ۔ ترجمہ : مولانا مفتی امداد اللہ انور صاحب ناقل : اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔ ♥️ 💐   📩 📤 *_ˡᶦᵏᵉ ᶠᵒˡˡᵒʷ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ_*