*مُلحِدْجاوید اختر کو ہی دیکھ لیں...* ان کے پردادا، *فضل حق خیر آبادی* 1857 کی جنگ آزادی کے مجاہد، شیخ الاسلام، قرآن کے عالم، جنہوں نے انگریز کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا. ان کے دادا، *مضطر خیر آبادی* بڑے شاعر اور عالم، دینی روایت کے وارث. ان کے والد، *جانثار اختر* عظیم شاعر، مگر ... سوشلسٹ فکر میں ڈوب گئے، یعنی مذہب میں کمزور ہوتے گیے. اور پھر *جاوید اختر* ایک مشہور شاعر، مگر مُلحِد ، جو خدا کے وجود ہی کا انکار کرتا ہے. دیکھا؟؟؟ *چَند نَسلوں کے اندر ایک خاندان کہاں سے کہاں جا پہنچا.* دین سے وَفاداری کرنے والے عُلماء کا خاندان، ایک اِلحاد پر فَخر کرنے والے شَخص پر خَتم ہوا. سوچئے ... اگر ہم اپنی نَسل کو دین سے جوڑنے کے بجائے سکْرِین، مَغربی فَلسفہ اور نَفْس کی غُلامی کے حوالے کردیں گے... تو ہماری آئندہ نسلوں کا اَنجام کیا ہوگا؟؟؟ آج اگر ہمارے گھر میں اِیمان کی شَمَع ہے بھی؛ تو کَل ہَمارے بیٹے (نَعُوذُبِاللہ مِنْ ذالک) جاوید اختر سے بھی آگے بڑھ کر شایَدْ کُھلَّم کُھلّا دین کا مَذاق اُڑائیں گے... اور پھر... ہماری اَولاد کی اَولاد (نَعُوذُبِاللہ مِنْ ذالک) خُدا کو ماننے کا نام بھی جُرم سَمجھے گیں...! *تَفَکَّروا وَ تَدَبَّرُوا*

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

اور ملک الموت آپہنچا __!!

اور ملک الموت آپہنچا __!!

ایک نوجوان لڑکی ایک سپر مارکیٹ میں اپنے جسم کی نمائش کرتے ہوئے فتنہ انگیز انداز میں جارہی تھی۔ اس کے انداز میں ایسی خود نمائی اور خود ستائی تھی جیسے دنیا اسی کی وجہ سے پیدا کی گئی ہو ۔ وہاں سے ایک نیک اور صالح نوجوان گزر رہا تھا اس نے از راہ ہمدردی کہا: "میری بہن! اپنی اس روش سے باز آجاؤ۔ اگر اسی حالت میں ملک الموت تمہارے پاس آپہنچا تو ، اللّٰہ کو کیا جواب دو گی؟" اس کے جواب میں وہ مغرور لڑکی کہنے لگی..! "اگر تم میں جرات ہے تو ابھی اپنا موبائل نکالو اور اپنے رب سے کال ملاؤ کہ وہ ملک الموت کو بھیجے۔" وہ نوجوان کہتا ہے کہ : "اس نے ایسی ہولناک بات کہی تھی کہ مجھے ڈر ہوا کہیں اس بازار کو ہی نہ ہم پر الٹا دیا جائے۔ "میں ڈرتا ہوا جلدی سے وہاں سے نکلا۔ جب میں بازار کے کنارے پر پہنچا تو میں نے اپنے پیچھے چیخ وپکار اور آہ و بکا کی آوازیں سنیں۔ میں واپس مڑا تو دیکھا کہ ایک جگہ لوگ اکھٹے ہیں، یہ وہی جگہ تھی جہاں میری اس لڑکی سے بات ہوئی تھی۔ میں وہ منظر دیکھ کر ٹھٹک گیا۔ وہ لڑکی ٹھیک اُسی جگہ پر مردہ حالت میں پڑی تھی، جہاں اس نے ملک الموت کو بلانے کا چیلنج کیا تھا۔ میں تو اس چیلنج کے بعد فوراً وہاں سے نکل گیا تھا، لیکن لڑکی اسی وقت منہ کے بل گری اور دم توڑ دیا۔ کیونکہ ملک الموت آپہنچا تھا...! (آئین القلوب، مصطفیٰ کامل) قارئین کرام! یہ واقعہ بالکل سچا ہے اور ایک عرب ملک میں پیش آیا تھا۔ اس واقعہ کو قریباً بارہ پندرہ سال گزرے ہونگے، جب یہ رونما ہوا تو اس کی بازگشت مقامی اخبارات اور مجالس میں سنائی دی تھی۔ "بعض اوقات انسان تکبر اور جوانی کے نشے میں یا دولت واقتدار کے گھمنڈ میں بےحد غلط باتیں منہ سے نکال دیتا ہے، اسے معلوم نہیں ہوتا کہ عین ممکن ہے وہ قبولیت دعا کا وقت ہو۔" اور اس کے الفاظ پر رب کی طرف سے پکڑ بھی ممکن ہے، اس لئے ہمیشہ منہ سے اچھی بات نکالنی چاہئے۔۔۔۔ "دعاؤں کی قبولیت کے سنہرے واقعات" سے ماخوذ ۔