اہلِ علم سے وفا کی نادر مثال ... سعودی مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل شیخ حفظه الله نے امام ابن حزم، حافظ ابن عبد البر، امام منذري، امام نووي اور حافظ ابن رجب رحمهم الله کی طرف سے حج کیے ہیں۔ شیخ فرماتے ہیں کہ ان ائمہ کی کتب سے مجھے بہت فائدہ ہوا، میں ان کو اپنا محسن سمجھتا ہوں۔ ---- عمر بن عبدالعزيز رحمہ اللہ کی انگوٹھی پر نقش تھا : ”الْوَفَاءُ عَزِيزٌ“ ، وفا نایاب ہے۔ (تاريخ دمشق لابن عساكر : ١٧٧/٤٥) ---- ”وفا دار دوستوں کو ڈھونڈنا دشمن بنانے سے کہیں مشکل ہے۔ کسی کو دشمن بنانے میں لمحہ لگتا ہے، مگر سچے دوست کی تلاش میں عمر بیت جاتی ہے۔ جس کسی کو با وفا دوست مل جائے تو وہ اس دوستی پر گرہ باندھ لے!“ (شیخ صالح العصيمي حفظه الله)

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ملا نصیر الدین کا مشوره

ملا نصیر الدین کا مشوره

ایک دن امیر تیمور لنگ در بار لگائے ہوا تھا۔ درباری مؤدبانہ طریق سے اپنی جگہوں پر کھڑے ہوئے تھے۔ تیمور نے خلفائے بغداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ” ان کے القاب بڑے پر شکوہ ہوتے ہیں۔ مثلاً مستقر بالله، واثق بالله، معتصم باللہ اور متوکل باللہ وغیرہ۔ میں چاہتا ہوں کہ میں بھی اس قسم کا کوئی لقب اختیار کروں ۔ درباریوں نے اپنی اپنی سمجھ کے مطابق مختلف القابات تجویز کئے ..... جب ملا نصیر الدین کی باری آئی تو اس نے جان کی امان پاتے ہوئے عرض کیا: ” ناچیز کے خیال میں حضور کا لقب نعوذ باللہ بہت موزوں رہے گا۔“ ( بحوالہ ماہنامہ ”ہما“ نئی دہلی : جنوری ۱۹۹۵ء ص ۷۷ )