اللہ کے مقابلہ میں کسی کو ترجیح مت دو: ارشاد فرمایا کہ:اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ"والذین آمنوا اشد حبا للہ" جن لوگوں نے میری عظمت اور بڑائ کو پہچان لیا ....وہ مجھ پر مرمٹتا ہے....جان دیتا ہے پر مجھے ناراض نہیں کرتا....جو شیر کو پہچان لیتا ہے وہ بندر اور لومڑی کو خوش نہیں کرتا....وہ اکثریت کو نہیں دیکھتا بس اللہ کے حکم کو دیکھتا ہے....   شیر کے مقابلہ میں کوئ الیکشن نہیں لڑتا....ایک طرف شیر دوسری طرف ایک لاکھ بندر ہیں...تو کوئ بے وقوف ہی ایسے وقت میں اکثریت کو دیکھے گا.....   اسی طرح اللہ کے حکم کے سامنے ڈاڑھی رکھنے میں اکثریت کو مت دیکھو....اللہ کے حکم کو دیکھو....لہذا اللہ تعالی کی عظمت کے مقابلہ میں بیوی کو بھی ترجیح مت دو....آپ بتاؤ سورج کے مقابلہ میں ستارے الیکشن لڑسکتے ہیں....حالانکہ ان کی اکثریت ہے....    جب مہر نمایاں ہوا سب چھپ گۓ تارے    وہ ہم کو بھری بزم میں تنہا نظر آۓ      لہذا دوستو!اللہ کے سامنے نہ معاشرے کو دیکھو نہ نفس کو دیکھو بس اللہ ہی پر نظر رکھو.... لا ترج الا ربک

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ عدالت میں

حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ عدالت میں

 ایک مرتبہ حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ پر غداری کا مقدمہ چلا اور فرنگی کی عدالت ہال کراچی میں ان کی پیشی ہوئی، مولانا محمد علی جوہر اور بہت سارے دوسرےاکابرین بھی وہاں جمع تھے، فرنگی نے بلایا اور کہا کہ حسین احمد! یہ جو تم نے فتویٰ دیا ہے کہ انگریز کی فوج میں شامل ہونا حرام ہے۔ اس کی اجازت نہیں، تمہیں پتا ہے کہ اسکا نتیجہ کیا ہوگا؟ حضرت نے فرمایا کہ ہاں مجھے پتا ہے اس کا نتیجہ کیا ہے، اس نے پوچھا کہ کیا نتیجہ ہے؟ حضرت کے کندھے پر ایک سفید چادر تھی، حضرت نے اس کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ یہ اس کا نتیجہ ہے، فرنگی نے کہا کہ کیا مطلب؟ فرمایا کہ کفن ہے، میں اپنے ساتھ لے کر آیا ہوں تاکہ تم اگر مجھے پھانسی بھی دے دو گے تو کفن میرے پاس ہوگا، مولانا محمد علی جوہر نے حضرت کے پاؤں پکڑ لیے اور عرض کیا کہ حضرت! تھوڑا سا ذومعنی سا جواب دے دیں جس سے آپ بچ جائیں، کیونکہ ہمیں آپکی بڑی ضرورت ہے، آپ ہمارے سر کا تاج ہیں، آپ جیسے اکابر ہمیں پھر نہیں ملیں گے مگر حضرت مدنیؒ کی اس وقت عجیب شان تھی۔سبحان اللہ فرنگی کہنے لگا: حسین احمد! تمہیں کفن لانے کی کیا ضرورت تھی؟ جس کو حکومت پھانسی دے اس کو کفن بھی حکومت دیتی ہے، حضرت مدنیؒ نے فرمایا: اگرچہ کفن حکومت دیتی ہے، لیکن میں اپنا کفن اس لیے لایا ہوں کہ فرنگی کے دیے ہوئے کفن میں مجھے اللہ کے حضور جاتے ہوئے شرم آتی ہے، میں قبر میں تمہارا کفن بھی لے کر جانا نہیں چاہتا۔ ہمارے اکابر کیا استقامت کے پہاڑ تھے۔ اللہ اکبر شجرہ نسب سے حسین احمد مدنی سید ہیں۔۔۔اور حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی اولاد میں سے ہیں۔