*میں نہیں جانتا کہ یہ کس مصنف کا کارنامہ ہے۔ لیکن بہترین ہے۔* الفاظ *لکھے* جاتے ہیں ، الفاظ *پڑھے* جاتے ہیں ، الفاظ *بولے* جاتے ہیں ، الفاظ *گڑھے* جاتے ہیں الفاظ *تولے* جاتے ہیں ، الفاظ *ٹٹولے* جاتے ہیں ، الفاظ *کھنگالے* جاتے ہیں ، ... اس طرح الفاظ *بنتے* ہیں ، الفاظ *سنورتے* ہیں ، الفاظ *بہتر* ہوتے ہیں ، الفاظ *نکھرتے* ہیں ، الفاظ *ہنساتے* ہیں ، الفاظ *مناتے* ہیں ، الفاظ *رلاتے* ہیں ، الفاظ *مسکراتے* ہیں ، الفاظ *گدگداتے* ہیں ، الفاظ *میٹھے* ہوتے ہیں ... اتنا ہونے کے بعد بھی الفاظ *چبھتے* ہیں ، الفاظ *بکتے* ہیں ، الفاظ *روٹھتے* ہیں ، الفاظ *چوٹ* دیتے ہیں ، الفاظ *تاو* دیتے ہیں ، الفاظ *لڑتے* ہیں ، الفاظ *بکھرتے* ہیں ، الفاظ *جھگڑتے* ہیں ، الفاظ *بگڑتے* ہیں الفاظ *لرزتے* ہیں ... لیکن الفاظ کبھی *مرتے* نہیں الفاظ کبھی *تھکتے* نہیں الفاظ کبھی *رکتے* نہیں ... اس لیے الفاظ سے *کھیلیں* نہیں بغیر سوچے سمجھے *بولیں* نہیں الفاظ کا *احترام* کریں الفاظ پر *غور* کریں الفاظ کو *پہچان* دیں الفاظ کو اونچی *اڑان* دیں الفاظ کو *جذبات* دیں ان سے ان کی *بات* کریں، الفاظ *ایجاد* کریں ... کیونکہ الفاظ *قیمتی* ہیں زبان سے الفاظ *تول* کے بولیں الفاظ میں *دھار* ہوتی ہے الفاظ بہت *اچھے* ہوتے ہیں اور ... حقیقت یہ ہے کہ الفاظ کی بھی اپنی ایک دنیا🌎 ہے۔ *الفاظ کو* *عزت دیں*

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

صحابہ کرامؓ کی حب النبی کی خاص دلیل :

صحابہ کرامؓ کی حب النبی کی خاص دلیل :

ہم میں سے کسی بھی انسان کی جوانی جب ڈھلنے لگتی ہے اور ادھیڑ عمر کی جانب بڑھنے لگتا ہے تو عموماً بال سفید ہونے شروع ہوتے ہیں، تو جب بال سفید ہونا ابھی شروع ہوئے ہوں تب اگر کسی انسان سے پوچھا جائے کہ آپ کے بدن میں کتنے بال سفید ہیں؟ تو بہت مشکل ہے کہ وہ شمار کے ساتھ بتا سکے کہ اتنے بال سفید ہوئے ہیں، کوئی انسان خود کے بارے میں بھی یہ بات قطعی طور پر نہیں بتا سکتا لیکن قربان جاؤ حضرات صحابہ کرامؓ کے حب نبی پر کہ اُنھوں نے رسول اللہ ﷺ کے جمالِ جہاں آرا اور حسن بے مثال کا اتنی باریکی سے دیدار کیا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ دعوے کے ساتھ یہ بات بیان فرماتے ہیں کہ سرکار دو جہاںﷺ کے سر اور ڈاڑھی مبارک ملا کر بیس سے زیادہ سفید بال نہیں تھے۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلَا بِالْقَصِيرِ ، وَلَا بِالْأَبْيَضِ الْأَمْهَقِ وَلَيْسَ بِالْآدَمِ وَلَيْسَ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبْطِ بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً ، فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ ، فَتَوَفَّاهُ اللَّهُ وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ(بُخاری شریف: ۳۵۴۸) رسول اللہ ﷺ نہ بہت لمبے تھے اور نہ چھوٹے قد کے ، نہ بالکل سفید تھے اور نہ گندمی رنگ کے ، نہ آپ کے بال بہت زیادہ گھنگھریالے تھے اور نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیس سال کی عمر میں نبوت دی اور آپ نے مکہ میں دس سال تک قیام کیا اور مدینہ میں دس سال تک قیام کیا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی تو آپ کے سر اور داڑھی کے بیس بال بھی سفید نہیں تھے ۔ ذرا تصور کرو! حضرات صحابہ کرامؓ کو رسول اللہ ﷺ سے کس قدر محبت تھی کہ آپ ﷺ کے حلیہ مبارکہ کا اتنی باریکی سے مشاہدہ کیا ، اُن کے حب نبی کو بیان کرنے کے لیے تو پورا کتب خانہ بھی نا کافی ہے۔ ___________📝📝📝___________ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو۔