ہمارے بچپن کی وہ افواہیں ، جو آج بھی ہمیںں یاد آتی ہیں ۔😉😉 تو پھر چلیں ، مل کر وہ افواہیں ، وہ یادیں تازہ کرتے ہیں ۔ جیسے کہ: پینسل کے کچرے کو دراز میں رکھنے سے تتلی بن جاتی ہے ۔ 😂😂 تربوز (یا کسی پھل ) کا بیج کھا لیا تو پیٹ میں درخت اگ آئے گا۔😂😂 سبزیوں کے اتنے فوائد گنوائے جاتے تھے جو خود سبزیوں کو بھی پتہ نہیں ہونگے😂😂) چاند پر بڑھیا چرخا چلا رہی ہے ۔😁😁 چاندنی رات میں پریاں آئیں گی ۔😂😂 چارپاٸی پر چپل سمیت بیٹھ جانے سے سانپ آجاتا ہے ۔😂😂 ٹوٹا ہوا دانت گھر کی چھت پر پھینک کر یہ کہنے سے کہ: "چڑیا چڑیا پرانا دانت لے جا اور نیا دے جا" نیا دانت مل جاتا ہے ۔ 😁😁 ٹیچر کی کرسی پر بیٹھو گے تو فیل ہو جاو گے😂😂😜 پتیلی میں کھانا کھانے سے شادی میں بارش ہوتی ہے ۔😂😂 قینچی کو خالی چلانے سے گھر میں لڑاٸی ہوتی ہے ۔😂😂 آلتو جلال تو آئی بلا کو ٹال تو ، بولنے سے ٹیچر نہیں ماریں گی😂😂 نمک گرتے ہی پانی بہاؤ ورنہ قیامت کے دن پلکوں سے اٹھانا پڑے گا ۔😂😂 مغرب سے پہلے اپنے اپنے گھروں کو چلے جاؤ کیونکہ مغرب کے بعد سر کٹا نکلتا ہے اوروہ بچوں کو مار دیتا ہے ۔😂😂 پنسل کے کچرے کو دودھ میں پکانے سے ریزر بنتی ہے ۔😂😂 ہمارا اسکول قبرستان پر بنا ہوا ہے ۔😂 ’’جُھوٹ بولو گے، تو زُبان کالی ہوجائے گی ۔ 😂😂 حالانکہ بظاہر یہ بھی ایک جھوٹ تھا 😂😂 مچھلی کھانے کے بعد پانی مت پینا ورنہ وہ پیٹ میں تیرے گی ۔😂😂 کوئی آپ کے اوپر سے پھلانگے تو آپ کا قد چھوٹا رہ جائے گا 😂😂 اور مزید اب اس میں آپ اضافہ کر دیں #جاناں🦋

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

​حکمران ہو تو ایسا! گورنرِ مدائن حضرت سلمان فارسی کی بے مثال خاکساری

​حکمران ہو تو ایسا! گورنرِ مدائن حضرت سلمان فارسی کی بے مثال خاکساری

حضرت سلمان فارسی بہت بڑے صحابی تھے ، تمام صحابہ کرام میں آپ نے سب سے زیادہ عمر پائی ہے ، آپ سبھی لوگوں کی خدمت کرتے اور بہت سیدھی سادی زندگی گزارتے تھے ۔ حضرت عمرؓ نے اپنی حکومت کے زمانے میں ان کو شہر مدائن کا گورنر بنا دیا؛ لیکن حضرت سلمان فارسی کی سادگی کی وجہ سے نئے لوگ انھیں دیکھ کر سمجھ ہی نہیں پاتے تھے کہ یہ شہر مدائن کے گورنر ہیں ؛ بلکہ ان کو ایک عام آدمی سمجھ کر ان سے خدمت بھی لے لیا کرتے تھے اور حضرت سلمان فارسی بھی گورنر ہونے کے باوجود بلا کسی شرم کے ان کی خدمت کر دیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ کی بات ہے کہ حضرت سلمان فارسی ایک عام آدمی کی طرح مدائن کی سڑک پر گھوم رہے تھے ۔ ملک شام کا ایک تاجر اپنی تجارت کا سامان بیچنے کے لیے مدائن آرہا تھا ۔ اس تاجر نے حضرت سلمان فارسی کو دیکھ کر سمجھا کہ یہ کوئی مزدور ہے ؛ اس لیے ان کو بلایا اور کہا کہ میرا سامان اٹھا کر فلاں جگہ لے چلو ، حضرت سلمان فارسی بھی بغیر کسی شرم کے اس تاجر کا سامان اٹھا کر چل دیئے ۔ کچھ دیر بعد جب مدائن کے شہریوں نے حضرت سلمان فارسی کو سامان اٹھائے ہوئے دیکھا ، تو اس شامی تاجر سے کہا : ارے ! یہ تو مدائن کے گورنر ہیں ! تو ان سے بوجھ اٹھوا رہا ہے ! یہ سن کر وہ تاجر گھبرا گیا اور شرمندہ ہو کر حضرت سلمان فارسی سے درخواست کرنے لگا : حضرت ! میں آپ کو پہچان نہیں سکا ؛ اس لیے آپ کے ساتھ یہ گستاخی ہو گئی ، مجھے معاف فرما دیں اور سامان مجھے دے دیں ، میں خود لے کر چلا جاؤں گا؛ لیکن حضرت سلمان فارسی اپنے سر سے سامان اتارنے کے لیے بلکل تیار نہ ہوئے ؛ بلکہ فرمایا : میں نے ایک نیکی کی نیت کر لی ہے ، جب تک وہ پوری نہ ہوگی ، یہ سامان نہیں اتاروں گا ، پھر انھوں نے وہ سامان اس کے ٹھکانے تک پہنچا دیا(طبقات ابنِ سعد البصری: ۵/۶۸) _____________📝📝📝_____________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔