اردو رسائل

ماہنامہ انوار ختم نبوت(مارچ)
ماہنامہ انوار ختم نبوت(مارچ)
ماہنامہ اشرف الجرائد حیدرآباد (مارچ)
ماہنامہ اشرف الجرائد حیدرآباد (مارچ)
ماہنامہ نصرة العلوم گوجرانوالہ(مارچ)
ماہنامہ نصرة العلوم گوجرانوالہ(مارچ)
ماہنامہ نقیب ختم نبوت ملتان (مارچ)
ماہنامہ نقیب ختم نبوت ملتان (مارچ)
میرے بھائی جان (شیخ الحدیث مولانا عبد الرحیم صاحبؒ)
میرے بھائی جان (شیخ الحدیث مولانا عبد الرحیم صاحبؒ)
سکون خانہ (میاں بیوی کے حقوق و ذمہ داریاں)
سکون خانہ (میاں بیوی کے حقوق و ذمہ داریاں)
ماہنامہ انوار مدینہ لاہور (مارچ)
ماہنامہ انوار مدینہ لاہور (مارچ)
حسن تربیت (دینی احکام ، اسلامی آداب ، مسنون دعائیں)
حسن تربیت (دینی احکام ، اسلامی آداب ، مسنون دعائیں)
رفع الجناح وخفض الجناح بأربعين حديثا في النکاح
رفع الجناح وخفض الجناح بأربعين حديثا في النکاح
Image 1

ایک شاہین اور بادشاہ کی سبق آموز کہانی

ایک شاہین اور بادشاہ کی سبق آموز کہانی

ایک بادشاہ کو کسی نے دو شاہین کے بچّے تحفے میں پیش کئے۔ بادشاہ نے دونوں کو اپنی شاہینوں کی تربیت کرنے والوں کے سپرد کر دیا تاکہ وہ اُن دونوں کو تربیت دیں کہ وہ شکار پر لے جائیں جا سکیں۔ ایک مہینے کے بعد وہ ملازم بادشاہ کے پاس حاضر ہوا اور کہا کہ ایک شاہین تو مکمّل تربیت یافتہ ہو چکا ہے اور شکار کے لئے بالکل تیّار ہے لیکن دوسرے کے ساتہ پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے کہ پہلے دن سے ایک ٹہنی پر بیٹہا ہے اور کوششوں کے باوجود ہلنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اس بات سے بادشاہ کا تجسّس بڑہا اور اس نے درباری حکیموں اور جانوروں اور پرندوں کے ماہرین سے کہا کہ پتہ لگائیں آخر وجہ کیا ہے؟ وہ بھی کوشش کر کے دیکہھ چکے لیکن کوئی نتیجہ معلوم نہ کر سکے۔ پھر بادشاہ نے پورے ملک میں منادی کروا دی کہ جو کوئی بھی اِس شاہین بچے کو قابلِ پرواز بنائے گا، بادشاہ سے منہ مانگا انعام پائے گا۔ اگلے دن بادشاہ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جو شاہین پرواز کرنے پر آمادہ ہی نہیں تھا، شاہی باغ میں چاروں طرف اُڑ رہا ہے۔ بادشاہ نے فوراً حکم دیا کہ اُس شخص کو پیش کیا جائے جس نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ بادشاہ کے کارندے ایک دیہاتی کو لے کر بادشاہ کے پاس لائے کہ یہ کمال اِس شخص کا ہے۔ بادشاہ نے اُس شخص سے پوچہا؛ “تم آخر کس طرح وہ کام کر گئے جو میرے دربار کے ماہر حکیم اور پرندوں کو سُدھانے والے نہ کر سکے، کیا تمہارے پاس کوئی جادو ہے؟” وہ شخص گویا ہوا؛ “بادشاہ سلامت، میں نے صرف اِتنا کیا کہ جس ٹہنی پر یہ بیٹھا ہوا تھا وہ کاٹ دی اور زمین کی طرف گرتے وقت جبلّی طور پر اِس کے پر کُھل کر پھڑپھڑائے اور اسے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ اس میں طاقتِ پرواز ہے۔” بعض دفعہ ہمیں بھی اپنی طاقت کا اندازہ کچھ ہونے سے ہوتا ہے۔۔ اس لیے ازمائش سے ڈرنا نہیں بلکہ مقابلہ کرنا چاہیے۔۔۔ ✅♻️اردو سچی کہانیاں ♻️✅

Whats New

Naats