ترجمہ و تفسیر قرآن

الکشف و البیان عن تفسیر القرآن المجلد السابع و العشرون
الکشف و البیان عن تفسیر القرآن المجلد السابع و العشرون
الکشف و البیان عن تفسیر القرآن المجلد الثامن و العشرون
الکشف و البیان عن تفسیر القرآن المجلد الثامن و العشرون
الکشف و البیان عن تفسیر القرآن المجلد التاسع و العشرون
الکشف و البیان عن تفسیر القرآن المجلد التاسع و العشرون
الکشف و البیان عن تفسیر القرآن المجلد الثلاثون
الکشف و البیان عن تفسیر القرآن المجلد الثلاثون
الکشف و البیان عن تفسیر القرآن المجلد الحادی و الثلاثون
الکشف و البیان عن تفسیر القرآن المجلد الحادی و الثلاثون
الکشف و البیان عن تفسیر القرآن (فھارس) المجلد الثانی و الثلاثون
الکشف و البیان عن تفسیر القرآن (فھارس) المجلد الثانی و الثلاثون
الکشف و البیان عن تفسیر القرآن (فھارس) المجلد الثالث و الثلاثون
الکشف و البیان عن تفسیر القرآن (فھارس) المجلد الثالث و الثلاثون
امانت و دیانت کی اہمیت و فضیلت
امانت و دیانت کی اہمیت و فضیلت
عقائد اسلام
عقائد اسلام
Image 1

چشمِ خطا پوش :

چشمِ خطا پوش  :

ایک شخص نے فضل بن ربیعؒ کے نام کا جعلی خط تحریر کیا، جس میں اپنے لئے ایک ہزار دینار کا حکم جاری کر کے دستخط کئے گئے تھے، وہ شخص خط لے کر فضل بن ربیع کے خزانچی کے پاس پہنچا، اس نے خط پڑھ ڈالا مگر اسے کوئی شبہ نہ گزرا، وہ ایک ہزار دینار اس کے سپرد کرنے ہی لگا تھا کہ اس دوران فضل بن ربیعؒ کسی کام سے خود وہاں آ پہنچا، خزانچی نے اس شخص کا تذکرہ اس کے سامنے کیا اور خط بھی دکھایا، فضل بن ربیعؒ نے خط دیکھنے کے بعد ایک نظر اس شخص کے چہرے پر ڈالی تو اس کا چہرہ زرد پڑ گیا اور خوف سے تھر تھر کانپ رہا تھا، فضل بن ربیعؒ سر جھکا کر کچھ دیر سوچنے کے بعد خزانچی سے مخاطب ہوا " تمہیں معلوم ہے میں اس وقت تمہارے پاس کیوں آیا ہوں؟" خزانچی نے نفی میں گردن ہلادی، فضل بن ربیعؒ نے کہا،" میں تمہیں صرف یہ تاکید کرنے آیا ہوں کہ اس شخص کو رقم فوراً ادا کر کے اس کی ضرورت پوری کرو" خزانچی نے فوراً ہزار دینار تھیلی میں ڈال کر اس شخص کے سپرد کردیئے، وہ شخص ہکا بکا رہ گیا، گھبراہٹ کے عالم میں کبھی وہ فضل بن ربیعؒ کے چہرے کو دیکھتا اور کبھی خزانچی کے، فضل بن ربیعؒ قریب ہوکر اس سے مخاطب ہوا "گھبراؤ نہیں اور راضی خوشی گھر کا رخ کرو " اس شخص نے فرط جذبات سے فضل بن ربیعؒ کے ہاتھ کا بوسہ لیا اور کہا، "آپ نے میری پردہ پوشی کی اور رسوا نہ کیا، روز قیامت اللہ آپ کی پردہ پوشی فرمائے اور رسوائی سے بچائے" یہ کہہ کر اس نے دینار لئے اور نکل آیا ـ ( المستطرف ص:۲۰۶) ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب : کتابوں کی درس گاہ میں (صفحہ نمبر ۹۴ ) مصنف : ابن الحسن عباسی ؒ

Whats New

Naats