اے اہل دنیا! جان لو کہ تم کو بھی ایک دن مرنا ہے ـ موت کے بعد اٹھنا اور اپنے نیک و بد اعمال کی جزا اور سزا کو پہنچنا ہے ـ پس دنیا کے چند روز جینے پر مت پھولو اور موت کو کبھی نہ بھولو ـ دنیا مصیبت کا گھر ہے ـ فنا ہونا اس کا مشہور ہے اور دھوکہ اس کا شعار ہے ـ اس کی ہر ایک چیز کا انجام زوال ہے اور اس کا ہمیشہ کسی کے پاس رہنا محال ہے ـ جب آدمی کو اس میں تھوڑا آرام آتا ہے تو اس کے عوض برسوں کا رنج سامنے آتا ہے ـ موت ہر ایک کے سر پر قائم ہے اور اس کا ذائقہ چکھنا سب کو لازم ہے ـ خدا تعالٰی کے بندو! آج تمہارا دنیا میں ایسا حال ہے جیسا تم سے پہلے لوگوں کا تھا جو تم سے عمر میں ذیادہ، طاقت میں قوی، آبادی کثیر اور مکانات میں اعلٰی تھے ـ مگر زمانہ کے انقلاب سے آج ان کی آواز بھی نہیں نکلتی ـ ان کے جسم قبروں میں سڑ گئے، شہر اجڑ گئے اور مکانات گر گئے ـ یا وہ محالت ( محلات) عالیشان گاؤ تکیے اور مخملی فرش تھے یا اب پتھر اور اینٹیں، خاک گور اور گوشئہ لحد ہے ـ کیا تمہیں کچھ شبہ ہے کہ جیسا اُن کا حال ہوا وہی تمہارا نہ ہوگا ؟وہی تنہائی نہ ہوگی اور وہی خاک میں یہ جسم کیڑوں کی خوراک نہ ہوگا ؟؎ سنورتے تھے کہ اک عالم کی آنکھیں ہم کو دیکھیں گی خبر کیا تھی ہماری مجلسیں ماتم کو دیکھیں گی! ستم ہے جامہ ہستی کا اس تن سے جدا ہونا لباس تنگ ہے اترے گا آخر دھجیاں ہوکر! جتنی بڑھتی ہے اتنی گھٹی ہے زندگی آپ ہی آپ کٹتی ہے نظر غور سے جو دنیا کی حالت دیکھی برپا ہم نے ہر روز یہاں کی قیامت دیکھی

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

چوہدری صاحب کا ایثار اور علماء دین سے محبت

چوہدری صاحب کا ایثار اور علماء دین سے محبت

۔۔۔۔ مدرسہ کے طالب علموں کے لئے ایک چوہدری سال بھر کی گندم مدرسہ کے لئے وقف کرتا تھا کسی شر پسند شخص نے مولانا صاحب کے بارے میں دشمنی اور نفرت کا اظہار ایسا کیا کہ پتہ معلوم کرتے کرتے چوہدری کے گھر پہنچ گیا اور کہنے لگا چوہدری صاحب مدرسے جا کر پتہ تو کریں کیا خیانتیں ہو رہی ہے طالب وعلموں کے نام پر آدھی گندم مدرسہ میں۔۔۔اور آدھی مولوی صاحب کے گھر ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ چوہدری کی قبر پر رحمت کریں جہاں وہ گمنام مجاھد سو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔چوہدری اٹھا۔۔۔اس شر پسند شخص کو گلے لگایا اور شکریہ ادا کرکے کہنے لگا یار تو پہلے کیوں نہیں آیا۔۔یہ بات بتا کے تو نے میری مدد کر دی۔۔آج سے سال کی گندم مولانا کے گھر اور سال کی الگ گندم مدرسہ کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو آخری الفاظ چوہدری نے کہے سونے کے پانی کے ساتھ لکھنے والے ہیں کہنے لگا سن! طالب علموں کا کھانا بھی بڑی بات ہے مگر میرے لئے فخر کی بات یہ ہے وقت کا محدث میری گندم کو کھاتا ہے جس کا سارا دن قال اللہ اور قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے پڑھاتے گزر جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔جس کے ثواب میں مجھے کوئی شک نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اللہ اکبر _____________________________________ منقول۔ انتخاب اِسلامک ٹیوب پرو ایپ