*کیا مظلوموں کے حق میں بولنا جرم ہے؟* یہ کیسا وقت آ گیا ہے کہ غزہ کے معصوم بچوں کے لیے دو لفظ بولنے پر ہتھکڑیاں پہنائی جا رہی ہیں؟ سنبھل، اتر پردیش میں سات مسلمانوں کو صرف اس لیے گرفتار کر لیا گیا کہ انہوں نے دیوار پر ایک پوسٹر چسپاں کیا جس میں لکھا تھا “فری فلسطین، فری غزہ” اور اپیل کی گئی تھی کہ ظالم ریاست کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ کیا یہی ہے ہمارا انصاف؟ کیا یہی ہے جمہوریت کا مطلب؟ کیا یہ جرم ہے کہ کوئی ظلم کے خلاف کھڑا ہو؟ ان نوجوانوں نے کسی سے نفرت نہیں پھیلائی، کسی کو نقصان نہیں پہنچایا، صرف ایک آواز بلند کی مظلوموں کے حق میں، بے گناہوں کی حمایت میں، اور ظالموں کے بائیکاٹ میں۔ لیکن اس آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی، ہتھکڑیاں پہنا دی گئیں، اور پیغام دے دیا گیا کہ اگر تم حق کی بات کرو گے تو تمھیں خاموش کر دیا جائے گا۔ یہ صرف سات افراد کی گرفتاری نہیں، یہ آزادیِ رائے پر حملہ ہے، یہ انسانیت کے ضمیر پر ضرب ہے۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

دُم کٹا لومڑ

دُم کٹا لومڑ

ایک لومڑ کی دم پہ پتھر اَگرا، اور دم کٹ گئ۔ ایک دوسرے لومڑ نے جب اسے دیکھا تو پوچھا! یہ تمنے اپنی دم کیوں کاٹی؟ دم کٹا لومڑ بولا اس سے بڑی خوشی وفرحت محسوس ھوتی ھے۔ایسے لگتا ھے کہ جیسے ھواوں میں اڑ رھا ھوں۔واہ!! کیا تفریح ھے! بس گھیر گھار کر اس دوسرے لومڑ کو اسنے دم کاٹنے پر راضی کرہی لیا۔ اسنے جب یہ دم کٹائ کی مہم سرکرلی تو بجاے سکون کے شدید قسم کا درد محسوس ھونے لگا!! پوچھا میاں!! جھوٹ کیوں بولا مجھ سے؟ پہلا کہنے لگا جو ہوا سو ہوا! اب یہ درد کی داستان دوسرے لومڑوں کو سنائ تو انہوں نے دمیں نہیں کٹوانی اور ہم دو دم کٹوں کا مذاق بنتا رھےگا! بات سمجھ لگی تو یہ دونوں دم کٹے پوری برادری کو یہ خوش کن تجربہ کرنے کا کہتے رہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ لومڑوں کی اکثریت دم کٹی ھوگئ۔ اب حالت یہ ھوگئ یہ جہاں کوئ دم والا لومڑ دکھلائ دیتا اسکا مذاق اڑایا جاتا! جب بھی فساد عام ہوکر پھیل جاتا ھے عوام نیکوکاروں کو انکی نیکی پہ طعنے دینے لگ جاتے ہیں اور احمق لوگ انکا مذاق اڑاتے ہیں۔ حضرت کعب سے روایت ہے کہ فرمایا لوگوں پہ ایسا زمانہ آئے گا کہ مومن کو اسکے ایمان پہ ایسے ہی عار دلائ جاوےگی جیسے کہ آجکل بدکار کو اسکی بدکاری پہ عار دلائ جاتی ھے۔یہاں تک کہ آدمی کو طنزا کہا جاےگا کہ واہ بھئ! تم تو بڑے ایمان دار فقیہ بندے ھو!! بگڑا ھوا معاشرہ جب نیکوکارون میں کوئ قابلِ اعتراض بات نہیں تلاش کرپاتا تو انکی بھترین خوبی پہ ہی انکو عار دلانے لگ جاتا ھے! لوط علیہ السلام کی قوم نے کیا نہی کہا تھا  نکال دو لوط کے گھر والون کو اپنی بستی سے!! یہ تو بھت نیک بنے پھرتے ہیں۔ یہ ہمارے معاشرہ کی حقیقت ہے کہ جس میں ہم جیتے ہیں منقول