*کیا مظلوموں کے حق میں بولنا جرم ہے؟* یہ کیسا وقت آ گیا ہے کہ غزہ کے معصوم بچوں کے لیے دو لفظ بولنے پر ہتھکڑیاں پہنائی جا رہی ہیں؟ سنبھل، اتر پردیش میں سات مسلمانوں کو صرف اس لیے گرفتار کر لیا گیا کہ انہوں نے دیوار پر ایک پوسٹر چسپاں کیا جس میں لکھا تھا “فری فلسطین، فری غزہ” اور اپیل کی گئی تھی کہ ظالم ریاست کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ کیا یہی ہے ہمارا انصاف؟ کیا یہی ہے جمہوریت کا مطلب؟ کیا یہ جرم ہے کہ کوئی ظلم کے خلاف کھڑا ہو؟ ان نوجوانوں نے کسی سے نفرت نہیں پھیلائی، کسی کو نقصان نہیں پہنچایا، صرف ایک آواز بلند کی مظلوموں کے حق میں، بے گناہوں کی حمایت میں، اور ظالموں کے بائیکاٹ میں۔ لیکن اس آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی، ہتھکڑیاں پہنا دی گئیں، اور پیغام دے دیا گیا کہ اگر تم حق کی بات کرو گے تو تمھیں خاموش کر دیا جائے گا۔ یہ صرف سات افراد کی گرفتاری نہیں، یہ آزادیِ رائے پر حملہ ہے، یہ انسانیت کے ضمیر پر ضرب ہے۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

حکمت بھری باتیں

حکمت بھری باتیں

‏ایک بادشاہ نے اعلان کر رکھا تھا کہ جو اچھی بات کہے گا اس کو چار سو دینار (سونے کے سکے) دیئے جائیں گے...!!!! ایک دن بادشاہ رعایا کی دیکھ بھال کرنے نکلا اس نے دیکھا ایک نوے سال کی بوڑھی عورت زیتون کے پودے لگا رہی ہے بادشاہ نے کہا تم پانچ دس سال میں مر جاؤ گی اور یہ درخت بیس سال بعد پھل دیں گے تو اتنی مشقت کرنے کا کیا  فائدہ؟ بوڑھی عورت نے جواباً کہا ہم نے جو پھل کھائے وہ ہمارے بڑوں نے لگائے تھے اور اب ہم لگا رہے ہیں تاکہ ہماری اولاد کھائے...!!!! بادشاہ کو اس بوڑھی عورت کی بات پسند آئی حکم دیا اس کو چار سو دینار دے دیئے جائیں...!!!! جب  بوڑھی عورت کو دینار دیئے گئے وہ مسکرانے لگی...!!!! بادشاہ نے پوچھا کیوں مسکرا رہی ہو؟؟؟ بوڑھی عورت نے کہا کہ زیتون کے درختوں نے بیس سال بعد پھل دینا تھا جبکہ مجھے میرا پھل ابھی مل گیا ہے...!!!! بادشاہ کو اس کی یہ بات بھی اچھی لگی اور حکم جاری کیا اس کو مزید چار سو دینار دیئے جائیں...!!!! جب اس عورت کو مزید چار سو دینار دیئے گئے تو وہ پھر مسکرانے لگی...!!!! بادشاہ نے پوچھا اب کیوں مسکرائی؟؟؟ بوڑھی عورت نے کہا زیتون کا درخت پورے سال میں صرف ایک بار پھل دیتا ہے جبکہ میرے درخت نے دو بار پھل دے دیئے ہیں..!!!! بادشاہ نے پھر حکم دیا اس کو مزید چار سو دینار دیئے جائیں یہ حکم دیتے ہی بادشاہ تیزی سے وہاں سے روانہ ہو گیا...!!!! وزیر نے کہا حضور آپ جلدی سے کیوں نکل آئے؟؟؟ بادشاہ نے کہا اگر میں مزید اس عورت کے پاس رہتا تو میرا سارا خزانہ خالی ہو جاتا مگر عورت کی حکمت بھری باتیں ختم نہ ہوتیں...!!!! اچھی بات دل موہ لیتی ہے، نرم رویہ دشمن کو بھی دوست بنا دیتا ہے حکمت بھرا جملہ بادشاہوں کو بھی قریب لے آتا ہے اچھی بات دنیا میں دوست بڑھاتی اور دشمن کم کرتی ہے اور آخرت میں ثواب کی کثرت کرتی ہے آپ مال و دولت سے سامان خرید سکتے ہیں مگر دِل کی خریداری صرف اچھی بات سے ہو سکتی ہے💯!!