https://islamictube.in/new_site/public/images/news_images/8015_2026-06-04_islamictube.webp

مالویہ نگر آتشزدگی سانحہ: 21 اموات کے بعد جاگی انتظامیہ، MCD اور فائر ڈیپارٹمنٹ کٹہرے میں

دہلی آتشزدگی کا سانحہ: 21 اموات کے بعد انتظامیہ بیدار، ایم سی ڈی اور فائر ڈیپارٹمنٹ پر سنگین سوالات نئی دہلی: دہلی کے مالویہ نگر میں واقع 'فلورش سٹے ہوٹل' میں ہولناک آگ لگنے سے 12 غیر ملکیوں سمیت 21 افراد جاں بحق ہو گئے۔ اس بڑے سانحے کے بعد دہلی حکومت، ایم سی ڈی (MCD) اور پولیس اچانک حرکت میں آگئی ہے۔ علاقے کے کئی ہوٹلوں پر تالے لٹک گئے ہیں اور غیر قانونی جائیدادوں کو سیل کرنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں، لیکن عوامی حلقوں میں یہ سوال گونج رہا ہے کہ یہ کارروائی پہلے کیوں نہیں کی گئی؟ اہم انکشافات اور حکومتی ایکشن: فائر این او سی کی عدم موجودگی: دہلی فائر سروس کے مطابق علاقے کے ایک بھی ہوٹل کے پاس 'فائر نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ' (Fire NOC) نہیں تھا۔ مشترکہ کمیٹی کا قیام: حکومت نے ڈی ایم، ایم سی ڈی، پولیس اور محکمہ بجلی پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی بنائی ہے جو پوری دہلی میں غیر قانونی تعمیرات کی جانچ کرے گی۔ ابتدائی طور پر مالویہ نگر کی 18 جائیدادوں کو قوانین کی خلاف ورزی پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ تحقیقات کا آغاز: ایل جی (LG) نے مجسٹریل انکوائری کا حکم دیا ہے، میئر نے 3 دن میں رپورٹ طلب کی ہے، اور پولیس نے مجرمانہ قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ سنگین سوال: کیا 21 معصوم جانوں کے ضائع ہونے کے بعد شروع کی جانے والی یہ سیلنگ مہم محض انتظامیہ کا "ڈیمج کنٹرول" ہے؟ اگر ہوٹل برسوں سے بغیر لائسنس اور این او سی کے چل رہے تھے، تو نگرانی کرنے والے سرکاری افسران اب تک خاموش کیوں تھے؟