جنتر منتر پر تصادم کا خطرہ: کاکروچ جنتا پارٹی کے خلاف ہندو رکشا دل میدان میں، حامیوں کو لاٹھیوں کے ساتھ پہنچنے کی اپیل
قومی دارالحکومت نئی دہلی کا تاریخی احتجاجی مقام، جنتر منتر، آج ایک بار پھر شدید سیاسی گہما گہمی، نظریاتی تصادم اور ممکنہ تشدد کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ملک میں حالیہ امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کی مبینہ نااہلی، نیٹ (NEET-UG) پیپر لیک اور سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (CBSE) کی مارک شیٹ میں بے قاعدگیوں کے خلاف آواز اٹھانے والی نو تشکیل شدہ تنظیم "کاکروچ جنتا پارٹی" (CJP) نے آج جنتر منتر پر ایک بہت بڑے احتجاجی دھرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ لیکن اس کہانی میں سنسنی خیز اور تشویشناک موڑ اس وقت آیا جب کٹر تنظیم "ہندو رکشا دل" اور ملک میں غیر قانونی مذہبی تعمیرات کے خلاف مہم چلانے والے معروف دہشت گرد ہندو کارکن پریت سروہی نے اس احتجاج کی کھلی مخالفت کا اعلان کر دیا۔ دونوں دھڑوں کے رہنماؤں کی جانب سے کی جانے والی اشتعال انگیز تقاریر اور سوشل میڈیا پیغامات کے بعد دہلی پولیس اور مرکزی سیکیورٹی ایجنسیوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے، کیونکہ ہندو رکشا دل نے اپنے حامیوں کو عام لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے لیس ہو کر جنتر منتر پہنچنے کی اپیل کی ہے تاکہ وہ کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین کا "علاج" کر سکیں۔ 1. پسِ منظر: کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کا ابھار اور احتجاج کی وجوہات پچھلے کچھ مہینوں میں بھارت کے تعلیمی نظام، بالخصوص قومی سطح کے مقابلاتی امتحانات (Competitive Exams) میں جس بڑے پیمانے پر پیپر لیک اور بدعنوانی کے اسکینڈلز سامنے آئے ہیں، اس نے ملک کے لاکھوں طلبہ اور نوجوانوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ اسی طلبہ برادری اور نوجوانوں کے غم و غصے کو ایک منظم سیاسی و سماجی شکل دینے کے لیے "کاکروچ جنتا پارٹی" (CJP) کا قیام عمل میں لایا گیا۔ پارٹی کے منتظمین کا کہنا ہے کہ انہوں نے "کاکروچ" کا نام اس لیے چنا ہے کیونکہ کاکروچ دنیا کی وہ مخلوق ہے جو ہر قسم کے سخت ترین ماحول، ایٹمی دھماکے اور بدترین حالات میں بھی زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اور آج کا بھارتی متوسط طبقے کا طالب علم بھی اس کرپٹ نظام کے اندر کاکروچ کی طرح کچلے جانے کے باوجود زندہ رہنے کی جنگ لڑ رہا ہے۔ مرکزی وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ بنیادی مطالبہ کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کا بنیادی اور سب سے اہم مقصد مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا فوری استعفیٰ ہے۔ پارٹی کے بانی، ابھیجیت دیپکے، جو خصوصی طور پر اس احتجاج کی قیادت کرنے کے لیے امریکہ سے راتوں رات دہلی پہنچے ہیں، کا موقف ہے کہ تعلیمی نظام اب مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ ابھیجیت دیپکے نے دہلی ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: "جب بھی ملک میں کوئی بڑا امتحانی پیپر لیک ہوتا ہے یا لاکھوں طلبہ کا مستقبل برباد ہوتا ہے، تو مودی حکومت پیپر مافیا کے خلاف کوئی سخت یا عبرتناک کارروائی کرنے کے بجائے صرف چند افسران کے تبادلے کر دیتی ہے۔ یہ صرف 'ٹوکن ازم' (خانہ پوری) ہے۔ ہمیں اب یہ انتظامی ڈرامہ منظور نہیں ہے۔ جب تک وزیرِ تعلیم اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیتے، نوجوان سڑکوں سے نہیں ہٹیں گے۔" بین الاقوامی اور قومی سماجی کارکنوں کی حمایت اس احتجاج کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی جب لداخ کے معروف ماحولیاتی اور سماجی کارکن سونم وانگچک نے بھی اس تحریک کو اپنی اخلاقی حمایت دینے کا اعلان کیا اور لداخ سے خصوصی طور پر دہلی کا سفر کیا۔ سونم وانگچک کا اس احتجاج میں شامل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اب یہ معاملہ صرف طلبہ تک محدود نہیں رہا بلکہ سول سوسائٹی کے بڑے چہرے بھی نظام کی اس خرابی کے خلاف سڑکوں پر اتر رہے ہیں۔ 2. جنتر منتر پر لائیو صورتحال: ہجوم کی آمد اور سکیورٹی کا سخت پہرہ آج صبح سے ہی جنتر منتر پر نوجوانوں، طلبہ اور کاکروچ جنتا پارٹی کے حامیوں کا پہنچنا شروع ہو گیا تھا۔ ملک کے مختلف حصوں بالخصوص دہلی یونیورسٹی، جے این یو، اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ بڑی تعداد میں پنڈال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں بھارتی ترنگا جھنڈا ہے اور وہ ڈاکٹر باباصاحب بھیم راؤ امبیڈکر کی تصاویر اور آئینِ ہند (Constitution of India) کی کاپیاں لہراتے ہوئے نعرے بازی کر رہے ہیں۔ انتظامیہ کا یو-ٹرن: شام 5 بجے تک کی مشروط اجازت شروع میں دہلی پولیس نے امن و امان کی نازک صورتحال اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ان پٹس کے پیشِ نظر اس احتجاج کو باقاعدہ اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم، جب ابھیجیت دیپکے اور ان کے قانونی مشیروں نے سنسد مارگ پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ کرنے اور وہیں سڑک پر دھرنا دینے کی دھمکی دی، تو انتظامیہ کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ دہلی پولیس کے اعلیٰ حکام اور کاکروچ جنتا پارٹی کے منتظمین کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد، بالآخر مظاہرین کو آج شام 5:00 بجے تک جنتر منتر کے ایک مخصوص حصے میں پرامن دھرنا دینے کی مشروط اجازت دے دی گئی۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ اگر شام پانچ بجے کے بعد ایک بھی مظاہرین سڑک پر موجود رہا، تو ان کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور سرکاری کام میں مداخلت کا مقدمہ درج کر کے انہیں حراست میں لے لیا جائے گا۔ سکیورٹی فورسز کی بھاری تعیناتی کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے دہلی پولیس کے ساتھ ساتھ سینٹرل انڈسٹریل سیکیورٹی فورس (CISF) اور رپیڈ ایکشن فورس (RAF) کی کئی کمپنیوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ دہلی ہوائی اڈے سے لے کر جنتر منتر، کناٹ پلیس، اور پارلیمنٹ اسٹریٹ تک کے تمام راستوں پر لوہے اور کنکریٹ کے بھاری بیریکیڈز لگا دیے گئے ہیں۔ ہر آنے جانے والے شخص کی جامہ تلاشی لی جا رہی ہے اور مشکوک افراد کو فوری طور پر علاقے سے باہر نکالا جا رہا ہے۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ سکیورٹی فورسز نے پنڈال کے اندر میڈیا اور صحافیوں کے داخلے پر بھی سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، اور میڈیا مائیکس کو ایک مخصوص بیریکیڈ کے پیچھے ہی روک دیا گیا ہے، جس پر مظاہرین نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ 3. جوابی کارروائی: ہندو رکشا دل اور پریت سروہی کا جارحانہ موقف جہاں ایک طرف کاکروچ جنتا پارٹی اپنے احتجاج کو ایک جمہوری اور تعلیمی تحریک قرار دے رہی ہے، وہیں دوسری طرف ہندوادی تنظیموں نے اسے ملک کے خلاف ایک "منظم سازش" اور "سیکولر مافیا کا کھیل" قرار دے کر اس کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا ہے۔ پنکی چودھری کا متنازعہ اور اشتعال انگیز بیان ہندو رکشا دل کی متنازعہ سربراہ پنکی چودھری، جو ماضی میں بھی اپنے گرم اور فرقہ وارانہ بیانات کی وجہ سے کئی بار سرخیوں اور پولیس کی حراست میں رہ چکی ہیں، نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے خلاف متنازعہ بیان دیا ہے ۔ پنکی چودھری نے اپنے ویڈیو پیغام میں اپنے ہزاروں حامیوں کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا: "ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اس 'کاکروچ جنتا پارٹی' کے پیچھے کون سی ملک دشمن طاقتیں کام کر رہی ہیں۔ یہ کوئی تعلیمی تحریک نہیں ہے، بلکہ یہ ملک کے امن کو غارت کرنے اور مودی حکومت کو بدنام کرنے کا ایک بین الاقوامی ایجنڈا ہے۔ جب دوسرے تمام لوگ خاموش بیٹھے ہیں، تو ہندو رکشا دل خاموش نہیں رہے گا۔ میں اپنے تمام ببر شیروں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ اپنے ہاتھوں میں مضبوط لاٹھیاں اور ڈنڈے لے کر 6 جون کو جنتر منتر اور سنسد مارگ پہنچیں۔ ان سیکولر کیڑے مکوڑوں کا علاج صرف لاٹھی سے ہی ممکن ہے۔ اگر انہوں نے وہاں کوئی بھی الٹی سیدھی حرکت کی، تو ہماری لاٹھیاں بولیں گی اور ہم ان کی پٹائی کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔" پریت سروہی کا میدانِ جنگ میں اترنے کا اعلان دہلی اور اتر پردیش کے علاقوں میں مزارات، درگاہوں اور مساجد کے خلاف مہم چلانے والے ہندو کارکن پریت سروہی بھی اب اس تنازعہ میں کود پڑے ہیں۔ پریت سروہی نے بھی ایک الگ ویڈیو بیان جاری کر کے ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔ پریت سروہی نے اپنے بیان میں کہا: "یہ کاکروچ جنتا پارٹی کے لوگ جو امریکہ سے فنڈنگ لے کر یہاں طلبہ کے نام پر ڈرامہ کر رہے ہیں، انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ سنہ 2026 کا بھارت ہے۔ اگر جنتر منتر پر احتجاج کے دوران کسی نے بھی ترنگے کی آڑ میں ملک کے خلاف بات کی، یا ہمارے معزز وزراء اور اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی، تو ہم قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ میں اپنے حامیوں کے ساتھ خود جنتر منتر پر لاٹھیوں کے ساتھ موجود رہوں گا۔ اگر یہ لوگ ہماری ویڈیوز بنانا چاہتے ہیں تو شوق سے بنائیں، ہمیں کوئی ڈر نہیں ہے۔ ہم اپنے گھر (ملک) کو ان کیڑوں کی وجہ سے برباد ہونے نہیں دے سکتے۔ ان کاکروچوں کو کچلنا ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔" 4. ٹکراؤ کا خدشہ اور پولیس کے لیے چیلنجز ہندو رکشا دل اور پریت سروہی کے ان بیانات نے نئی دہلی میں سیکیورٹی صورتحال کو انتہائی حساس بنا دیا ہے۔ ایک ہی وقت میں ایک ہی مقام پر دو بالکل مخالف نظریات رکھنے والے گروہوں کا جمع ہونا کسی بھی وقت ایک بڑے خونی تصادم کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کا الرٹ ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس بیورو (IB) نے دہلی پولیس کے کمشنر کو ایک خفیہ رپورٹ سونپی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر ہندو رکشا دل کے کارکنان لاٹھیوں کے ساتھ جنتر منتر کی طرف بڑھنے میں کامیاب ہو گئے، تو کاکروچ جنتا پارٹی کے نوجوان مظاہرین کے ساتھ ان کا براہِ راست تصادم ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں پتھراؤ، لاٹھی چارج اور بھگدڑ مچنے کا شدید خطرہ ہے۔ اسی الرٹ کے بعد سنسد مارگ اور کناٹ پلیس کو جانے والی تمام چھوٹی بڑی گلیوں میں بھی پولیس نے اضافی بیریکیڈنگ کر دی ہے تاکہ ہندو رکشا دل کے کارکنان کو جنتر منتر کے پنڈال کے قریب بھی نہ آنے دیا جائے۔ 5. تجارتی اور عوامی زندگی پر اثرات آج ہفتے کا دن ہونے کے باوجود، جنتر منتر اور اس کے اطراف کے تجارتی علاقوں جیسے کناٹ پلیس (CP)، جنپتھ اور کستوربا گاندھی مارگ پر اس کاؤنٹر پروٹیسٹ کا گہرا اثر دیکھا جا رہا ہے۔ سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور ٹریفک پولیس نے کئی راستوں کو متبادل راستوں پر منتقل (Divert) کر دیا ہے۔ مقامی دکانداروں اور تاجروں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ جنتر منتر کے بالکل قریب واقع دکانوں کے مالکان نے احتیاط کے طور پر اپنی دکانوں کے شٹر آدھے گرا دیے ہیں، کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ اگر دونوں دھڑوں کے درمیان لڑائی شروع ہوئی تو ان کی املاک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایک مقامی تاجر نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا، "دہلی میں ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی احتجاج ہوتا ہے، لیکن جب دونوں طرف سے لاٹھیاں لانے کی باتیں ہوں، تو ہمیں اپنی اور اپنے گاہکوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے دکانیں بند کرنی ہی پڑتی ہیں۔" 6. تجزیہ: کیا یہ احتجاج تعلیمی اصلاحات کی تحریک ہے یا سیاسی اکھاڑہ؟ سیاسی تجزیہ کاروں اور ماہرین کا ماننا ہے کہ نیٹ پیپر لیک (NEET Paper Leak) اور تعلیمی بدعنوانی کا مسئلہ بلاشبہ ایک انتہائی سنگین اور حقیقی مسئلہ ہے جس پر ملک کے نوجوانوں کا غصہ بالکل جائز ہے۔ لیکن جس طرح سے اس تعلیمی اور طالب علموں کے مسئلے کو "کاکروچ جنتا پارٹی" جیسے عجیب و غریب ناموں کے ساتھ ایک باقاعدہ سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے، اس سے اس تحریک کی سنجیدگی پر اثر پڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف، دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے ہر احتجاج کو ملک دشمن یا بین الاقوامی سازش قرار دے کر لاٹھیوں اور تشدد کی دھمکیاں دینا جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ اگر کسی تنظیم کو احتجاج کی مشروط اجازت ملی ہے، تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس احتجاج کو پرامن طریقے سے ختم کروائیں، نہ کہ کسی نجی تنظیم یا فرد کو سڑک پر لاٹھیاں لے کر قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت دی جائے۔ آج شام 5 بجے تک کا وقت دہلی انتظامیہ کے لیے ایک کڑا امتحان ہے۔ کیا کاکروچ جنتا پارٹی اپنا دھرنا پرامن طریقے سے ختم کر کے واپس چلی جائے گی؟ یا ہندو رکشا دل اور پریت سروہی کے حامی بیریکیڈز توڑ کر جنتر منتر پر داخل ہونے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ پوری دہلی اور ملک کی نظریں اس وقت جنتر منتر پر لگی ہوئی ہیں۔