https://islamictube.in/new_site/public/images/news_images/8573_2026-06-07_islamictube.jpg

ایران کا امریکہ پر جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی کا الزام

امن معاہدوں کی آڑ میں بارود کا کھیل: ایران کا امریکہ پر جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی کا الزام، واشنگٹن اور اسرائیل کی عالمی دھوکہ دہی بے نقاب، لبنان میں اسرائیلی بربریت سے اموات 3500 پار، برطانوی سڑکوں پر فلسطین نواز مظاہرے بین الاقوامی امور: خصوصی تجزیاتی رپورٹ اتوار، 7 جون 2026 مشرقِ وسطیٰ کا سیاسی اور سفارتی منظر نامہ اس وقت تاریخ کے بدترین اور خطرناک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ عالمی طاقتوں کی جانب سے ایک طرف دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے "جنگ بندی" اور "امن مذاکرات" کا راگ الاپا جا رہا ہے، تو دوسری طرف پسِ پردہ جنگی جنون اور دھوکہ دہی کی ایسی خوفناک بساط بچھائی جا چکی ہے جس نے پورے خطے کی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ایران کی وزارتِ خارجہ نے باقاعدہ طور پر ریاستہائے متحدہ امریکہ (USA) پر جنگ بندی کے معاہدے کی صریح خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن کے حالیہ فوجی اقدامات خطے کو کسی ایسی ہولناک تباہی کی طرف دھکیل سکتے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوگی۔ یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صیہونی ریاست اسرائیل نے خطے میں جنگ بندی کی تمام بین الاقوامی اپیلوں اور سفارتی کوششوں کو پیروں تلے روندتے ہوئے جنوبی لبنان میں اپنی خونی کارروائیوں کو تیز ترین کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں لبنانی فوج کے اعلیٰ حکام سمیت معصوم شہریوں کا قتلِ عام جاری ہے۔ 1. ایران کا امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا سنگین الزام تہران سے جاری ہونے والے ایک انتہائی اہم اور ہنگامی سفارتی بیان میں ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ کے جارحانہ عزائم کو بے نقاب کیا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ جب دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ طور پر تنازعہ کو کم کرنے (De-escalation) کے لیے ایک مخصوص فریم ورک یا جنگ بندی پر بات چیت چل رہی تھی، تو عین اسی وقت امریکی افواج نے پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی روایتی پالیسی پر عمل کیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' (X) پر جاری باقاعدہ اعلان ایرانی وزارتِ خارجہ نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا ہینڈل 'ایکس' پر جاری کردہ ایک سخت گیر اور تفصیلی مکتوب میں کہا: "امریکہ ایک طرف سفارتی ذرائع سے کشیدگی کم کرنے کے پیغامات بھیجتا ہے اور دوسری طرف زمین پر فوجی مہم جوئی کر کے اپنی منافقت کا ثبوت دیتا ہے۔ امریکی وسطی کمانڈ (CENTCOM) کی جانب سے ایران کے اسٹریٹجک علاقوں سرک اور جزیرہ قشم میں قائم ساحلی ریڈار تنصیبات اور نگرانی کے مراکز (Coastal Radar and Surveillance Centers) پر کیے جانے والے حملے کسی بھی بین الاقوامی قانون اور طے شدہ جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ یہ مراکز خالصتاً دفاعی اور بحری سلامتی کے لیے کام کر رہے تھے۔" ایران نے بین الاقوامی برادری کو گواہ بنا کر یہ واضح کر دیا ہے کہ امریکہ کے ان بزدلانہ اور بلا اشتعال حملوں سے آنے والے دنوں میں خلیج اور آبنائے ہرمز میں جو بھی دفاعی، عسکری یا سیاسی صورتحال پیدا ہوگی یا اس کے نتیجے میں جو بھی بھیانک جانی و مالی نقصانات ہوں گے، ان تمام تر مستقبل کے نتائج کی پوری اور براہِ راست ذمہ داری صرف اور صرف امریکی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ ایران اپنے دفاع اور اس دھوکے کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ 2. امریکہ اور اسرائیل کی تاریخی دھوکے بازی کا کچا چٹھا اس پورے بحران کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ امریکہ اور اسرائیل کی منظم "دھوکے بازی اور مکارانہ ڈپلومیسی" ہے۔ یہ دونوں ممالک ایک طے شدہ منصوبے کے تحت عالمی اسٹیج پر الگ الگ کردار ادا کرتے ہیں، لیکن ان کا حتمی مقصد ایک ہی ہے: خطے کے مسلم ممالک کو دفاعی اور معاشی طور پر کمزور کرنا۔ امریکہ کی دوغلی پالیسی: ایک ہاتھ میں امن، دوسرے میں بم واشنگٹن کا سفارتی ریکارڈ ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ وہ دنیا کے سامنے خود کو ایک "امن پسند اور ثالث" کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ جنگ کی آگ کو مزید بھڑکاتا ہے۔ ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کا لالچ دے کر امریکہ ایک طرف تہران کو محدود رکھنے کی کوشش کرتا رہا، اور جیسے ہی ایران نے سیکیورٹی کے حوالے سے لچک دکھائی، امریکہ نے اس کے دفاعی نظام (ریڈار سائٹس) پر بمباری کر دی۔ یہ امریکہ کا وہ ازلی دھوکہ ہے جس کا شکار ماضی میں عراق، لیبیا اور افغانستان بھی ہو چکے ہیں۔ واشنگٹن کبھی بھی ایک خودمختار اور مضبوط مسلم ریاست کو برداشت نہیں کر سکتا، اس لیے وہ معاہدوں کو صرف اور صرف اپنی جنگی تیاریوں کا وقت حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اسرائیل کا جنگی مکر: مذاکرات کی آڑ میں نسل کشی اسرائیل کی نیتن یاہو حکومت نے دھوکے بازی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ جب بھی بین الاقوامی برادری، اقوامِ متحدہ یا عرب ممالک اسرائیل پر دباؤ ڈال کر جنگ بندی کی میز پر لاتے ہیں، اسرائیل جان بوجھ کر مذاکرات کو طول دیتا ہے اور اسی دوران اپنے جنگی طیاروں کو معصوم شہریوں پر بمباری کے لیے بھیج دیتا ہے۔ اسرائیل کا اصل ہدف کبھی بھی حماس یا حزب اللہ کا خاتمہ نہیں رہا، بلکہ وہ امن مذاکرات کے ڈرامے کی آڑ میں لبنان اور غزہ کی جغرافیائی حیثیت کو تبدیل کرنا اور وہاں مسلم آبادی کی نسل کشی (Genocide) کرنا چاہتا ہے۔ جنگ بندی کا راگ الاپنا اسرائیل کے لیے محض ایک سفارتی ڈھال ہے تاکہ وہ دنیا کے غصے کو ٹھنڈا کر سکے اور پردے کے پیچھے اپنی توسیع پسندانہ اور خونی مہم جاری رکھ سکے۔ 3. گزشتہ 24 گھنٹوں کی 5 بڑی اور ہنگامی ترین عالمی اپ ڈیٹس خطے میں جاری اس جنگی جنون اور دھوکے بازی کے ماحول کے درمیان، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پانچ ایسی اہم عسکری و سفارتی پیش رفتیں ہوئی ہیں جنہوں نے پورے خطے کے دفاعی توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے: ا) لبنان میں انسانی المیہ: مرنے والوں کی تعداد 3,593 تک پہنچ گئی 2 مارچ 2026 سے لبنان پر شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت اور وحشیانہ بمباری اب ایک ہولناک انسانی المیے میں تبدیل ہو چکی ہے۔ لبنانی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اب تک اسرائیلی حملوں میں 3,593 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد 10,990 سے تجاوز کر گئی ہے۔ انسانیت سوز بات یہ ہے کہ صرف گزشتہ 24 گھنٹوں کے اندر صیہونی فورسز نے رہائشی عمارتوں پر بم برسا کر مزید 35 معصوم شہریوں کو موت کی نیند سلا دیا اور 120 افراد شدید زخمی حالت میں ملبے سے نکالے گئے ہیں۔ ب) جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں شدید ترین تیزی: بریگیڈیئر جنرل جاں بحق ہفتے کے روز اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی لبنان کے علاقوں میں زمین دوز بموں کا استعمال کرتے ہوئے اپنی کارروائیوں کو مزید جارحانہ بنا دیا۔ ان تازہ حملوں میں لبنانی فوج کے ایک سینیئر اور معزز بریگیڈیئر جنرل سمیت 10 افراد جاں بحق ہو گئے۔ لبنانی فوج کے اعلیٰ افسر کو نشانہ بنانا یہ ثابت کرتا ہے کہ اسرائیل اب صرف مزاحمتی گروہوں سے نہیں بلکہ براہِ راست لبنانی ریاست اور اس کی خودمختاری پر حملہ آور ہے۔ ان شدید حملوں کے فوراً بعد اسرائیلی فوج نے لبنان کے کئی بڑے علاقوں کے رہائشیوں کو گھر بار چھوڑ کر فوری انخلاء (Evacuation) کے ظالمانہ احکامات جاری کیے ہیں، جس سے لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ ج) فضا میں لوہے کا تصادم: امریکہ کا ڈرونز گرانے اور ایران کا 7 بیلسٹک میزائل داغنے کا دعویٰ پینٹاگون اور سینٹ کام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی جنگی جہازوں کی طرف بڑھنے والے چار ایرانی مائیکرو حملہ آور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا اور اس کے بعد جزیرہ قشم پر ایران کی ریڈار سائٹس کو تباہ کیا۔ اس امریکی حملے کے جواب میں ایران نے سیکنڈوں میں ایک بڑا جوابی ایکشن لیتے ہوئے خلیج میں موجود امریکی اڈوں کی طرف سات بیلسٹک میزائل داغے۔ اگرچہ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ان میزائلوں کو کویت اور بحرین کی فضا میں ہی پیٹریاٹ سسٹم کے ذریعے روک لیا گیا تھا، لیکن اس کارروائی نے امریکی افواج کے اندر شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔ د) ایران کا امریکہ پر معاہدہ شکنی کا چارج شیٹ تہران نے عالمی سطح پر امریکی پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ امریکہ نے سرک اور قشم کے پرامن ساحلی ریڈار اسٹیشنوں پر حملہ کر کے اس خفیہ تفہیم اور جنگ بندی کی دھجیاں اڑا دیں ہیں جو بین الاقوامی ثالثوں کے ذریعے طے پائی تھی۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اب واشنگٹن کے کسی بھی سفارتی وعدے پر بھروسہ نہیں کرے گا اور امریکہ کو اب اپنی اس بزدلانہ کارروائی کی بھاری عسکری قیمت چکانے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ہ) 24 بلین ڈالر پر منجمد امن مذاکرات: امریکہ کی معاشی بلیک میلنگ معروف امریکی نیوز نیٹ ورک 'سی این این' (CNN) کی ایک چونکا دینے والی رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری خفیہ امن مذاکرات اب ایک بڑے معاشی تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس تعطل کی بنیادی وجہ امریکہ کی معاشی بددیانتی ہے۔ ایران کے مختلف عالمی بینکوں میں منجمد 24 بلین ڈالر (تقریباً 2.29 لاکھ کروڑ روپے) کی واپسی پر یہ معاہدہ رکا ہوا ہے۔ ایران کا اصولی مطالبہ ہے کہ امریکہ اپنی نیت کا ثبوت دینے کے لیے معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد پہلی قسط کے طور پر 12 بلین ڈالر ریلیز کرے، لیکن امریکہ اس رقم کو دبا کر بیٹھا ہوا ہے اور ایران کو بلیک میل کرنے کے لیے مزید شرائط عائد کر رہا ہے، جس پر تہران کسی بھی صورت جھکنے کو تیار نہیں ہے۔ 4. لبنانی محاذ پر مزاحمت: ڈرون حملے میں 4 اسرائیلی ریزرو فوجی زخمی جہاں ایک طرف اسرائیل معصوم شہریوں پر بم برسا رہا ہے، وہیں دوسری طرف زمین پر اسے سخت اور منہ توڑ مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ جنوبی لبنان کے ایک سرحدی علاقے میں ایک نامعلوم اور انتہائی اسمارٹ ڈرون حملے (Kamikaze Drone Attack) کے نتیجے میں چار اسرائیلی ریزرو فوجی شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا اور سرکاری نشریاتی ادارے نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ زخمی فوجیوں کو فوری طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے ملٹری ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کی حالت فی الحال مستحکم بتائی جاتی ہے۔ اگرچہ ابھی تک خطے کی کسی بڑی تنظیم (جیسے حزب اللہ) نے اس مخصوص ڈرون حملے کی باقاعدہ ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، لیکن دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ حملہ اسرائیل کے نائٹ آپریشنز کے خلاف لبنانی مزاحمت کاروں کی بڑھتی ہوئی تکنیکی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی لبنان کے ایک اور مقام پر اسرائیلی شیلنگ کی وجہ سے دو مزید معصوم لبنانی شہری جاں بحق ہو گئے ہیں۔ 5. برطانیہ میں عوامی انقلاب: مانچسٹر کی سڑکوں پر 'نکسا' کی 59ویں سالگرہ پر بڑا مارچ امریکہ اور اسرائیل کی اس مکارانہ گٹھ جوڑ اور دھوکے بازی کے خلاف اب خود مغربی ممالک کی عوام نے بغاوت کا علم بلند کر دیا ہے۔ برطانوی شہر مانچسٹر کی سڑکیں پچھلے چند گھنٹوں سے "فری فلسطین" اور "اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست ہے" کے نعروں سے گونج رہی ہیں۔ 'فرینڈز آف فلسطین' کی کال پر تاریخی مارچ گریٹر مانچسٹر میں 'فرینڈز آف فلسطین' نامی انسانی حقوق کی تنظیم کی اپیل پر سینکڑوں برطانوی شہریوں، طلبہ اور مسلم کمیونٹی کے افراد نے ایک بہت بڑا احتجاجی مارچ نکالا۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں بڑے بڑے فلسطینی پرچم، بینرز اور پلے کارڈز تھے جن پر برطانوی حکومت کی منافقانہ پالیسیوں پر شدید تنقید کی گئی تھی۔ مظاہرین کا بنیادی مطالبہ تھا کہ: برطانوی حکومت فوری طور پر اسرائیل کو ہتھیاروں کی سپلائی اور ہر قسم کی سیاسی و سفارتی حمایت بند کرے۔ عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلوں پر عمل کرتے ہوئے فلسطینی علاقوں پر صیہونی غاصبانہ قبضہ ختم کروایا جائے۔ نکسا (Nksa) کی 59ویں سالگرہ کا پسِ منظر یہ تاریخی مظاہرہ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ (جسے عرب دنیا میں 'یومِ نکسا' یا تباہی کا دن کہا جاتا ہے) کی 59ویں سالگرہ کے موقع پر کیا گیا۔ یاد رہے کہ اسی کالی جنگ کے دوران اسرائیل نے دھوکے اور جارحیت کے ذریعے فلسطین کے اہم ترین علاقوں بشمول مغربی کنارے (West Bank)، مشرقی یروشلم (East Jerusalem) اور پورے غزہ کی پٹی (Gaza Strip) پر غیر قانونی طور پر قبضہ کر لیا تھا، جو آج 2026 میں بھی برقرار ہے اور جس کے خلاف دنیا بھر کا ضمیر اب جاگ چکا ہے۔ آج کی صورتحال یہ واضح کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن تب تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک امریکہ اپنی دوغلی اور مکارانہ پالیسی بند نہیں کرتا اور جب تک اسرائیل کو اس کی مسلسل معاہدہ شکنیوں پر عالمی سطح پر کٹہرے میں نہیں کھڑا کیا جاتا۔