https://islamictube.in/new_site/public/images/news_images/2477_2026-07-14_islamictube.jpg

گیانواپی تنازع: مسلم فریق کا ثالثی سے دو ٹوک انکار

وارانسی: تاریخی گیانواپی مسجد اور کاشی وشوناتھ مندر کے حساس اور دیرینہ تنازعے میں اس وقت ایک اہم پیش رفت سامنے آئی، جب مسلم فریق نے مسئلے کے حل کے لیے پیش کی گئی مفاہمتی اور ثالثی کی پیشکش کو واضح طور پر مسترد کر دیا۔ مسلم فریق نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے دفاع کے لیے صرف اور صرف ملکی عدالتوں پر انحصار کرے گا۔ خبر کے اہم پہلو: ثالثی سے لاتعلقی: انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی نے سپریم کورٹ کی جانب سے تجویز کردہ مفاہمتی عمل اور لوک عدالت میں شرکت نہ کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا ہے۔ قانونی چارہ جوئی پر اصرار: کمیٹی کا واضح مؤقف ہے کہ وہ عدالتوں کے باہر کسی تصفیے کے بجائے قانونی راستے سے ہی انصاف کی طلب گار رہے گی۔ مفاہمتی اجلاس کی تجویز: سپریم کورٹ کی تجویز پر 14 جولائی کو ابتدائی اجلاس اور 21 سے 23 اگست کے درمیان خصوصی لوک عدالت کے انعقاد کا منصوبہ زیرِ غور تھا۔ انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی کا دو ٹوک مؤقف انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی نے انتہائی صراحت کے ساتھ یہ اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بھی مرحلے پر اس ثالثی یا گفت و شنید کے عمل کا حصہ نہیں بنے گی۔ کمیٹی کے جوائنٹ سیکریٹری، ایس ایم یاسین کی جانب سے جاری کردہ ایک مکتوب میں واضح کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے موصول ہونے والا ثالثی کا دعوت نامہ قانونی طور پر پابند (Binding) نہیں ہے۔ باہمی مشاورت کے بعد کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ وہ اس معاملے میں صرف عدالتی ایوانوں سے ہی رجوع کرے گی اور وہیں اپنی قانونی جنگ جاری رکھے گی۔ سپریم کورٹ کی تجویز اور مفاہمت کی کوششیں واضح رہے کہ عدالتِ عظمیٰ (سپریم کورٹ) نے فریقین کو یہ تجویز پیش کی تھی کہ اس حساس تنازعے کا فیصلہ محض عدالتی کارروائی پر چھوڑنے کے بجائے باہمی افہام و تفہیم، خصوصی لوک عدالت اور ثالثی (Mediation) کے ذریعے پرامن طریقے سے کیا جائے۔ اسی سلسلے میں وارانسی کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کمپلیکس میں قائم ثالثی مرکز میں ابتدائی اجلاس بھی مقرر کیا گیا تھا تاکہ فریقین آمنے سامنے بیٹھ کر حل نکال سکیں۔ مقدمات کا پس منظر اور مستقبل کا لائحہ عمل مسلم فریق کے اس قطعی انکار کے بعد مفاہمتی عمل کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ اس وقت وارانسی کی مختلف عدالتوں، الہ آباد ہائی کورٹ اور ضلع جج کی عدالتوں میں گیانواپی مسجد، شرنگار گوری اور دیگر متعلقہ معاملات پر 36 سے زائد مقدمات زیرِ التوا ہیں۔ انجمن انتظامیہ کمیٹی کا ماننا ہے کہ چونکہ یہ تمام معاملات پہلے ہی مختلف عدالتوں میں سنے جا رہے ہیں، اس لیے وہ اپنا بھرپور دفاع قانونی فورمز پر ہی پیش کرے گی۔ دعا: اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام مساجد، مکاتب، خانقاہوں اور اوقاف کی املاک کی حفاظت فرمائے، اقلیتوں کے آئینی و قانونی حقوق محفوظ رہیں، اور ملک میں ہمیشہ عدل و انصاف اور امن و امان کا بول بالا رہے۔ آمین۔