ترجمہ و تفسیر قرآن

روح المعانی فی تفسیر القران العظیم جلد ١١
روح المعانی فی تفسیر القران العظیم جلد ١١
روح المعانی فی تفسیر القران العظیم جلد ١١
روح المعانی فی تفسیر القران العظیم جلد ١١
روح المعانی فی تفسیر القران العظیم جلد ١٢
روح المعانی فی تفسیر القران العظیم جلد ١٢
روح المعانی فی تفسیر القران العظیم جلد ١٢
روح المعانی فی تفسیر القران العظیم جلد ١٢
روح المعانی فی تفسیر القران العظیم جلد ١٣
روح المعانی فی تفسیر القران العظیم جلد ١٣
روح المعانی فی تفسیر القران العظیم جلد ١٣
روح المعانی فی تفسیر القران العظیم جلد ١٣
روح المعانی فی تفسیر القران العظیم جلد ١٤
روح المعانی فی تفسیر القران العظیم جلد ١٤
روح المعانی فی تفسیر القران العظیم جلد ١٤
روح المعانی فی تفسیر القران العظیم جلد ١٤
روح المعانی فی تفسیر القران العظیم جلد ١٥
روح المعانی فی تفسیر القران العظیم جلد ١٥
Image 1

ملا نصیر الدین کا مشوره

ملا نصیر الدین کا مشوره

ایک دن امیر تیمور لنگ در بار لگائے ہوا تھا۔ درباری مؤدبانہ طریق سے اپنی جگہوں پر کھڑے ہوئے تھے۔ تیمور نے خلفائے بغداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ” ان کے القاب بڑے پر شکوہ ہوتے ہیں۔ مثلاً مستقر بالله، واثق بالله، معتصم باللہ اور متوکل باللہ وغیرہ۔ میں چاہتا ہوں کہ میں بھی اس قسم کا کوئی لقب اختیار کروں ۔ درباریوں نے اپنی اپنی سمجھ کے مطابق مختلف القابات تجویز کئے ..... جب ملا نصیر الدین کی باری آئی تو اس نے جان کی امان پاتے ہوئے عرض کیا: ” ناچیز کے خیال میں حضور کا لقب نعوذ باللہ بہت موزوں رہے گا۔“ ( بحوالہ ماہنامہ ”ہما“ نئی دہلی : جنوری ۱۹۹۵ء ص ۷۷ )

Recent Articles

مولوی...

admin | 15 June, 2026

باپ کا آخری خط

admin | 4 June, 2026

Whats New

Naats