BAHAR E RAHMT

Naats

آیۃ القران

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ(۳۱)(سورۃ ق)

اور پرہیزگاروں کے لیے جنت اتنی قریب کردی جائے گی کہ کچھ بھی دور نہیں رہے گی۔(۳۱)(آسان ترجمۃ القران)

حدیث الرسول ﷺ

وَ عَنْ ابی ھریرۃ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْنَزِ اللَّحْمُ وَلَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوجهَا الدَّهْر ۔ متفق علیہ (مشکوٰۃ المصابیح : باب عشرۃ النساء)

حضرت ابو ہریر سے روایت ہے کہ حضرت رسول اکرم نے ارشاد فرمایا: کہ اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت نہ سڑتا ، اور اگر حوا نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے تمام عمر خیانت نہ کرتی ۔ ( بخاری و مسلم)(الرفیق الفصیح)

Download Videos

نیک بننے کا مراقبہ

ایک شخص ابراہیم ابن ادھم رحمہ اللہ کے پاس آیا اور کہا کوئی ایسا طریقہ بتائیے ۔ جس سے میں بڑے کام کرتا رہوں اور گرفت نہ ہو حضرت ابراہیم نے فرمایا پانچ باتیں قبول کرلو پھر جو چاہے کر تُجھے کوئی گرفت نہ ہوگی ۔ (۱)اول یہ کے جب تو کوئی گناہ کرے تو خدا کا رزق مت کھا اس نے کہا یہ تو بڑا مشکل ہے کہ رازق وہی ہے پھر میں کہاں سے کھاؤں؟ فرمایا تو یہ کب مناسب ہے کہ تو جس کا رزق کھائے پھر اس کی نافرمانی کرے (۲)دوسرے یہ کہ اگر تو کوئی گناہ کرنا چاہے تو اس کے ملک سے باہر نکل کر کر اس نے کہا تمام ملک ہی اس کا ہے پھر میں کہاں نکلوں؟ فرمایا تو یہ بات بہت بڑی ہے کہ جس کے ملک میں رہو اس کی بغاوت کرنے لگو (۳) تیسرے یہ کہ جب کوئی گناہ کرے تو ایسی جگہ کر جہاں وہ تُجھے نہ دیکھے اس نے کہا یہ تو بہت ہی مشکل ہے اس لیے کے وہ تو دلوں کا بھید بھی جانتا ہے فرمایا تو یہ کب مناسب ہے کہ تو اس کا رزق کھائے اور اس کے ملک میں رہے اور اسی کے سامنے گناہ کرے (۴)چوتھے یہ کہ جب ملک الموت تیری جان لینے آئےتو اسے کہہ کہ ذرا ٹھہر جا مجھے توبہ کرلینے دے اس نے کہا وہ مہلت کب دیتا ہے ؟ فرمایا یہ تو مناسب ہے کہ اس کے آنے سے پہلے ہی توبہ کرلے اور اس وقت کو غنیمت سمجھ (۵)پانچویں یہ کہ قیامت کے دن جب حکم ہوا کہ اسے دوزخ میں لے جاؤ تو کہنا کہ میں نہیں جاتا اس نے کہا کہ وہ زبردستی بھی لے جائیں گے فرمایا تو اب خود ہی سوچ لے کہ کیا گناہ تُجھے زیادہ عزیز ہے وہ شخص قدموں میں گرگیا اور سچے دل سے تائب ہو گیا

اہم مسئلہ

بعض لوگ کھڑے ہو کر وضو کرنے کو مکروہ سمجھتے ہیں ، جب کہ صحیح بات یہ ہے کہ کھڑے ہو کر وضو کرنا مکروہ نہیں، بلکہ خلاف ادب ہے، کیوں کہ فقہاء کرام نے بلند جگہ پر بیٹھ کر وضو کرنے کو آداب وضو میں شمار کیا ہے ، اور ادب کی مخالفت سے کراہت لازم نہیں آتی ۔(اہم مسائل/ج:۵/ص:۶۷)